کیا عمران قبل از وقت الیکشن کا اعلان کر سکتے ہیں؟


اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں افواہیں گرم ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان ضرورت پڑنے پر اقتدار بچانے کی خاطر کوئی سمجھوتا کرنے کی بجائے ازخود اسمبلیاں توڑ کر مڈ ٹرم انتخابات کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم عمران خان کے قریبی ذرائع انہیں ایسا کوئی بھی فیصلہ کرنے کے نقصانات سے آگاہ کرچکے ہیں۔ انکا موقف ہے کہ قبل از وقت انتخابات میں عمران نہ تو اکثریت حاصل کر سکیں گے اور نہ ہی دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکیں لہذا ان کو کوشش کرنی چاہئیے کہ کسی طرح پارلیمانی مدت پوری کریں اور باقی ماندہ وقت میں استحکام پیدا کرکے دوبارہ عوام کی حمایت حاصل کریں۔

حکومتی حلقوں کی جانب سے جنرل فیض حمید کی جگہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے حوالے سے وزیر اعظم اور آرمی چیف میں اختلاف ختم ہونے کا تاثر دیا جا رہا ہے تاہم سول ملٹری تعلقات کے بارے میں افواہوں کا ایک طوفان اس وقت بھی ملک کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اور لگتا ہے کہ لاکھ وضاحتوں کے باوجود افواہوں کی شدت میں کمی واقع نہیں ہوگی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بالفرض وزیر اعظم ’طریقہ کار‘ کی تکمیل کرتے ہوئے بالآخر اسی نام پر اتفاق کرلیتے ہیں جس کا اعلان آئی ایس پی آر پہلے ہی کرچکا ہے، تاکہ سول ملٹری تعاون میں کوئی خلل واقع نہ ہو تو بھی اس سے تحریک انصاف کی حکومت اور فوج کے درمیان نام نہاد ’ایک پیج‘ والی کیفیت واپس آنے کا امکان نہیں ہے۔

اور اگر وزیر اعظم بہر حال اپنی ضد پر قائم ہیں اور کسی بھی طرح جنرل فیض حمید کو مزید چند ماہ یا ہفتوں کے لئے آئی ایس آئی میں تعینات رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے حامیوں کو یقین ہوجائے کہ ان کا لیڈر ہی بااختیار ہے اور فوج کو بہر حال اس کی خواہش پوری کرنا پڑتی ہے کیوں کہ وہ دیانت دار ہے اور کسی بھی طاقت ور پوزیشن پر فائز کوئی بھی شخص اسے دباؤ میں نہیں لاسکتا، تو بھی ایک بار پیدا ہونے والی رنجش کو آسانی سے دور کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ خاص طور سے جب ملک میں سیاسی تقسیم پہلے سے بھی شدید ہو اور اپوزیشن کے دونوں سیاسی دھڑے حکومت کے خلاف ایک بار پھر احتجاج کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کررہے ہوں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی حکومت کو اپنا اختیار ثابت کرنے کے لئے ملک میں سیاسی ہم آہنگی کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن ایک حساس تقرری کے معاملہ پر اختلاف رائے کو عام کرنے اور پھر اسے طول دے کر عمران خان نے اپنی پوزیشن کمزور کی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ فوجی قیادت کی طرف سے وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر نئی تقرری کا اعلان شاید مناسب نہیں تھا لیکن اس کے رد عمل میں عمران خان جو کچھ کر رہے ہیں وہ معاملات کو خرابی کی طرف لے گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر پیدا ہونے والے ڈیڈلاک پر کہا جا رہا ہے کہ فوجی قیادت کا فیصلہ اپنی جگہ موجود ہے، وزیر اعظم جیسے چاہیں معاملات طے کرتے رہیں۔ اس غیر معمولی خود اعتمادی کی وجہ فوج کا اپنے ڈسپلن پر بھروسہ، قوت پر اعتبار اور ملک میں سیاسی جوڑ توڑ میں عسکری قیادت کا کامیاب کردار بھی ہے۔ دوست دشمن یکساں طور سے تسلیم کرتے ہیں کہ فوجی قیادت ایک بار فیصلہ کرلے تو اس سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ موجودہ حالات میں اس کا اہم ترین سبب ملکی سیاسی قوتوں کا کردار ہے جو ہمہ وقت فوج کی ہر ضرورت پوری کرنے پر آمادہ ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اس تصادم میں حکمران جماعت اور وزیر اعظم کی پوزیشن ایک تو سیاست میں فوج کی غیر معمولی قوت کی وجہ سے کمزور ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ملکی معیشت میں پائے جانے والی افراتفری، قیمتوں میں بے پناہ اضافہ اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات میں تعطل بھی حکومت اور فوج میں دوری کا سبب بنا ہے۔ قیمتوں اور بیروزگاری کے بحران کے باعث حکومت دن بدن غیر مقبول ہو رہی ہے۔ گو کہ موجودہ نظام کو ہائیبرڈ نظام کی شہرت اسی وجہ سے ملی ہے کہ عمران خان کی سیاسی طاقت اور فوج کی تائید کو ملا کر ملک پر ایک ایسی حکومت یا نظام مسلط کیا گیاتھا جس میں سول و عسکری قیادت ہم پیالہ و ہم نوالہ تھی۔

تاہم فوج بطور ادارہ ایک غیر مقبول حکومت کی سرپرست کے طور پر شہرت سے پریشان تھی اور اختلاف کی موجودہ صورت حال نے اسے کسی حد تک خود کو ’غیر جانبدار یا لاتعلق‘ ثابت کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا تنازعہ حل ہوجانے کے بعد بھی تحریک انصاف کی حکومت کو پہلے جیسا اعتماد اور سیاسی بنیاد میسر نہیں ہونا ممکن نہیں ہو گا۔ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین بڑھتے ہوئے فاصلوں کا ایک نتیجہ تو یہ سامنے آ سکتا ہے کہ مستقبل میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا امکان کم ہوجائے گا اور واقعی ان ہی سیاسی پارٹیوں کو حکومت سازی کا موقع مل سکتا ہے جو عوام کی حمایت سے کامیاب ہوں گی۔ یوں فوج اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بھی بحال کر لے گی اور عمران خان کی صورت میں بوجھ سے بھی چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔

Related Articles

Back to top button