کیا پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی واقعی ایک پیج پر آنے والے ہیں؟


تحریک انصاف حکومت اور تحریک لبیک کے مابین خفیہ معاہدے کے بعد ان خبروں میں تیزی آ گئی ہے کہ دونوں جماعتیں اگلے انتخابات میں الیکشن الائنس یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے معاملات طے کرنے میں بھی مصروف ہیں تاکہ پنجاب میں نواز لیگ کا زور توڑا جا سکے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ق لیگ اور ایم کیو ایم کی طرح کسی نہ کسی شکل میں تحریکِ لبیک کا بھی تحریک انصاف کے ساتھ اشتراک ہو جاتا ہے تو ملکی سیاست کا منظر نامہ بدل کر رہ جائے گا۔ تاہم دونوں ہی جماعتوں میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو ایسے کسی اتحاد کے سخت مخالف ہیں اور ابھی سے اپنے شدید ترین تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی میں اس تجویز کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ایک شدت پسند تنظیم کے ساتھ کسی قسم کا الائنس تحریک انصاف کے لبرل حامیوں کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کر دے گا۔

دوسری جانب تحریک لبیک میں اس تجویز کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ایک ناکام حکومت چلانے والی جماعت کے ساتھ چلنا عوام میں لبیک کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ تجویز ابھی بالکل ابتدائی مراحل میں ہے اور اس حوالے سے ابھی کوئی فوری فیصلہ ہوتا نظر نہیں آتا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں نواز لیگ کی پوزیشن بہت مضبوط ہے اور تحریک انصاف بھی اس حقیقت کو جانتی ہے کہ اگلے الیکشن میں نواز شریف کی جماعت کو اکیلے شکست دینا اس کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ شاید اسی لیے تحریک لبیک جیسی جماعت کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ دونوں جماعتوں کا ووٹ اکٹھا ہو جائے۔

خیال رہے کہ 2018 کے الیکشن نتائج کے مطابق نواز لیگ اور تحریک انصاف کے بعد تحریک لبیک پنجاب میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی تھی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان میں بھی میں سٹریم سیاسی جماعتوں کا دائرہ کار اب بہت تیزی سے سکڑ رہا ہے اور اس کی جگہ ایک نیا سیاسی بندوبست آتا دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اس نئے نظام میں کیا تحریک انصاف اور تحریک لبیک واقعی ایک پیج پر آنے والے ہیں؟ یاد رہے کہ تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان معاہدے کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ’مناسب وقت‘ پر بتائی جائیں گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سوال یہ ہے کہ اس معاہدے میں ایسا کیا ہے جسے عوام سے چھپایا جا رہا ہے؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ آئندہ کے سیاسی حسنِ انتظام کی بابت بھی کچھ طے کیا گیا ہے اور اسی کو راز رکھا جا رہا ہے؟ اسی لیے شاید مفتی منیب الرحمٰن نے بھی تحریک لبیک کے پرانے موقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ لبیک نے فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہی نہیں تھا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ پھر تحریک لبیک کا مطلوب و مقصود کیا تھا، اور وہ کون سا مطالبہ لے کر نکلے تھے اور کون سی بات منوا کر اسکا قافلہ تھم گیا ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سوال بھی اہم ہے کہ تحریک لبیک یا حکومت سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود مفتی منیب اس مرحلے پر ایک خیر خواہ کے طور پر کہاں سے ان ٹپکے اور پھر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے انکی ملاقات کس کھاتے میں ہوئی۔ سوال یہ بھی ہے کہ فرانسیسی سفیر کے معاملے پر وضاحت کرکے وہ تحریک لبیک کی محض ترجمانی کر رہے ہیں یا یہ اس امر کا اشارہ بھی ہے کہ اگلے سیٹ اپ اور اگلے مرحلے کے لیے تحریک لبیک کی متبادل یا معاون قیادت بھی تیار کی جا رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے کو قومی سیاسی جماعتیں کم ہی راس آئی ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد 24 سال تک انتخابات ہی نہ ہوسکے۔ پہلے عام انتخابات 1971 میں جا کر ہوئے اور اس کے نتیجے میں انتخابات جیتنے والی سیاسی جماعت غدار ٹھہری اور انتقال اقتدار کی بجائے سقوط ڈھاکہ ہو گیا۔ باقی بچ جانے والے پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی شکل میں ایک سیاسی حقیقت موجود تھی۔ ان کے خلاف تحریک نظام مصطفیٰ کھڑی کر دی گئی اور پھر جب ضیاء الحق آ گئے تو گویا حق آ گیا اور اہل مذہب کی تحریک بھی تھم گئی۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے بہت بعد محترمہ بے نظیر بھٹو جلا وطنی ختم کرکے واپس لوٹیں توان کے غیر معمولی استقبال سے معلوم ہوا کہ بھٹو کی عصبیت زندہ ہے۔

چنانچہ اسلام کے نام پر اسلامی جمہوری اتحاد بنایا گیا اور نواز شریف کو ایک متبادل اور نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا گیا کہ یہی وہ رجل رشید ہیں جو اسلامی نظام قائم کریں گے۔ بے نظیر نے حکومت بنائی تو قاضی حسین احمد نے ایک ایسے دھرنے میں چار کارکنوں کی جان کی قربانی پیش کر دی، جس کی وجہ آج تک معلوم نہیں ہوسکی۔ نتیجہ البتہ معلوم ہے کہ کچھ دنوں بعد بے نظیر حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ اس حکومت کے خاتمے سے جماعت اسلامی کی اعلائے کلمۂ الحق کی جدو جہد کو کتنا فائدہ ہوا، شاید سراج الحق ہی اس معاملے پر کچھ رہنمائی فرما سکیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سماج کی طرح سیاست میں بھی ارتقا ہوتا ہے۔ لہذا اپنی تمام خامیوں اور خرابیوں کے باوجود سیاست ارتقا کی طرف بڑھی اور ن لیگ اور پیپلز پارٹی سیاسی نفرت کے کھیل کو میثاق جمہوریت تک لے آئیں۔ لیکن جب پاکستانی ساست اس ارتقائی موڑ تک پہنچی تو دو جماعتی نظام کو ختم کرتے ہوئے فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران خان اور انکی تحریک انصاف میدان میں لے آئی۔ الیکشن 2018 میں تاریخی دھاندلی کے بعد عمران خان کو اقتدار سونپ دیا گیا جس کے بعد سیاست کو دوبارہ 90 کی دہائی کی اسی تلخی کی جانب دھکیل دیا گیا جسے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے رد کر دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے قومی سطح کی سیاسی جماعتوں کو محدود تر کرنے کے لیے ہر دور میں کچھ علاقائی، لسانی اور مذہبی قوتیں سامنے لائی جاتی رہی ہیں۔ ایم کیو ایم کے ذریعے کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت کی چولیں ہلانا کتنا آسان تھا، اس کا مشاہدہ پوری قوم کر چکی۔ بھٹو، بے نظیر اور نواز شریف کے خلاف جماعت اسلامی صف اول میں رہی۔ نواز شریف کے خلاف طاہر القادری بروئے کار آئے۔ عمران خان کی تحریک انصاف کی شکل میں ایک نیا تجربہ سامنے آیا۔ بظاہر یہ ایک مقبول رہنما کی جماعت تھی لیکن اس کا اقتدار بھی بذریعہ اسٹیبلشمینٹ کچھ لسانی، علاقائی جماعتوں اور الیکٹیلبلز کے سہارے قائم ہے۔ یہ سہارے عمران کو گرنے نہیں دیتے تو اٹھنے بھی نہیں دیتے۔ کہنے کو تو تحریک انصاف کی حکومت ہے لیکن عملی طور پر یہ وہ حسن انتظام ہے جس میں بھان متی کا سارا کنبہ شریک اقتدار ہوتا ہے مگر مختاری کی تہمت کسی ایک مجبور کے سر ہوتی ہے۔

سیاست کا یہی رجحان اب اگلے مرحلے میں بروئے کار آ رہا ہے اور تحریک لبیک ایک ایسی سیاسی حقیقت بنا دی گئی ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ گذشتہ انتخابات میں اس نے تقریباً 22 لاکھ ووٹ حاصل کیے تھے۔ اگلے انتخابات میں اگر ق لیگ اور ایم کیو ایم کی طرح کسی نہ کسی شکل میں اس کا تحریک انصاف کے ساتھ اشتراک کار ہو جاتا ہے تو سیاست کا منظر نامہ بدل کر رہ جائے گا۔ پہلا اثر یہ ہو گا کہ ن لیگ کا دائرہ کار پنجاب میں سمٹ جائے گا۔ تحریک لبیک بہت سارے حلقوں میں تیسرے نمبر پر رہی تھی اور اس کے ووٹ تحریک انصاف کے ووٹوں سے مل جائیں تو ن لیگ اپنے آدھے جیتے ہوئے حلقے ہار جائے۔

دوسرا اثر یہ ہو گا کہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ وغیرہ کے نتیجے میں تحریک انصاف اپنی مزید نشستوں سے دست بردار ہو گی۔ کچھ سیٹیں تحریک انصاف ق لیگ کے لیے چھوڑے گی، کچھ ایسے الیکٹیبل پہلے ہی تحریک انصاف بنا ئے جا چکے ہیں جو ایک گھنٹے کے نوٹس پر اپنی جماعت کو چھوڑنے کی صلاحیت سے بھی مالا مال ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ وفاقی کابینہ میں تقریباً 70 فیصد لوگ تحریک انصاف کے نہیں ہیں۔ چنانچہ اس نئے بندوبست کے تحت تحریک انصاف جیت بھی گئی تو اقتدار اسی ’حسن انتظام‘ کے ہاتھوں میں رہے گا۔

Related Articles

Back to top button