ندیم انجم جنرل فیض حمید سے کتنے مختلف ثابت ہوں گے؟


پاکستان کے طاقت ور ترین خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے آئی ایس پی آر کی جانب سے اپنی تعیناتی کا اعلان ہونے اور اس پر وزیر اعظم کی طرف سے کھڑے کیے جانے والے تنازعے کے چھے ہفتے بعد 20 نومبر کو اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔ وہ اس عہدے پر تعینات ہونے سے قبل کراچی کے کور کمانڈر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے ملکی تاریخ کے متنازعہ ترین ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جگہ لی ہے جو ڈھائی سال سے زیادہ عرصہ تک اس عہدے پر فائز رہے اور اب انھیں پشاور میں 11ویں کور کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔

فوج کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان چھ اکتوبر کو سامنے آیا تھا تاہم وزیر اعظم کی جانب سے اس تقرری پر اعتراض کر دیا گیا تھا اور انھوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کا ہے جبکہ ان کو اس حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ چنانچہ اس معاملے پر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور عمران خان کے مابین ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔ پھر وزیر اعظم نے فیصلہ کیا کہ وہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کو تعینات کرنے کے لئے لیے تین سینئر جرنیلوں کا انٹرویو کریں گے۔ بعد ازاں وزیر اعظم ہاوس کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ آئی ایس آئی چیف کی تقرری کے لیے وزارتِ دفاع سے جو فہرست وزیراعظم کو بھیجی گئی تھی

اس میں شامل تمام افراد کا وزیراعظم نے انٹرویو کیا اور پھر حتمی مشاورت کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کا نام نئے سربراہ کے طور پر چنا گیا۔ یعنی عمران خان کی جانب سے تمام تر اعتراضات کے باوجود ہوا وہی جو کہ فوجی قیادت چاہتی تھی۔ تاہم اس عمل نے اسٹیبلشمنٹ اور وزیر اعظم کے مابین فاصلے بڑھا دیئے ہیں۔ یاد رہے کہ فیض حمید نے فوج کے ڈسپلن میں ہونے کے باوجود بطور آئی ایس آئی چیف ادارے کے مفاد سے زیادہ وزیراعظم عمران خان کے سیاسی مفادات کا تحفظ کیا۔ اسی لئے انہیں ایک سیاسی جرنیل بھی کہا جاتا ہے۔ لہذا آئی ایس آئی کے نئے چیف لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے لیے ایک بڑا چیلنج اپنے ادارے کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنا بھی ہوگا۔

دوسری جانب 28 پنجاب رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹینٹ جنرل ندیم انجم فوج میں ایک سخت گیر اور خاموش طبع افسر کے طور پر مشہور رہے ہیں۔ ان کا تعلق 77ویں لانگ کورس سے ہے۔ انھوں نے بطور بریگیڈیئر فوجی آپریشنز کے دوران قبائلی علاقوں میں بریگیڈ کمانڈ کی جبکہ وہ کراچی کور میں چیف آف سٹاف بھی تعینات رہ چکے ہیں۔
وہ رائل کالج آف ڈیفینس سٹڈیز سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ خیال رہے کہ جنرل پرویز مشرف اور جنرل راحیل شریف بھی اسی کالج کے فارغ التحصیل تھے۔

اس کورس کے بعد وہ بطور میجر جنرل انسپکٹر جنرل ایف سی بلوچستان نارتھ مقرر ہوئے اور وہیں لیفٹننٹ جنرل کے طور پر کچھ عرصہ کمانڈنٹ سٹاف کالج بھی رہے۔ کراچی میں فوج کے ہاتھوں آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا کے واقعے کے بعد انھیں لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز کی جگہ کراچی کا کور کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آئی ایس آئی سیاسی اور عسکری دونوں سطح پر کام کرتی ہے اور اپنا اِن پُٹ دیتی ہے۔ آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی لیفٹننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی کے مطابق آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل اپنے ادارے کی حد تک بہت طاقتور ہوتا ہے۔ ‘ڈی جی آئی ایس آئی اپنے ادارے کے اندر لوگوں کو رکھ سکتا ہے، نکال سکتا ہے، واپس فوج میں بھیج سکتا ہے، پوسٹ آؤٹ کر سکتا ہے لیکن جہاں تک ادارے سے باہر کا تعلق ہے تو آئی ایس آئی کے سربراہ کی طاقت کا انحصار ان کے وزیر اعظم اور آرمی چیف کے ساتھ تعلق پر ہے۔ ان کے مطابق ’وزیر اعظم انھیں عہدے سے ہٹا سکتے ہیں اور فوج کے اندر طاقتور تو فوج کا سربراہ ہی ہے۔‘

لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے پیشرو اور بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا بطور آئی ایس آئی چیف دور شدید تنازعات کا شکار رہا ہے اور ان پر سیاسی انجینئرنگ میں ملوث ہونے اور صحافیوں پر حملہ کروانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ فیض حمید پر عدالتوں پر اثرانداز ہونے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے تو ایک حلف نامہ بھی سپریم کورٹ میں جمع کروا رکھا ہے جس کے مطابق فیض حمید نے ان پر نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف فیصلے دینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا اور انکار کرنے پر انہیں فارغ کروا دیا گیا۔

رواں برس اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت صدیقی نے اپنی برطرفی کے خلاف اپیل کے دوران عدالت میں جمع کروائے گئے اپنے جواب میں کہا تھا کہ جنرل فیض حمید ان کے گھر آئے اور ان سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نیب عدالت سے ملنے والی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کے بارے میں بھی دریافت کیا تو شوکت صدیقی نے انھیں جواب دیا کہ جب آپ قانونی معاملے سے پوری طرح آگاہ ہیں تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟

شوکت صدیقی کے جواب کے مطابق اس پر جنرل فیض نے کہا کہ اگر یہ اپیلیں آپ کے پاس زیر سماعت ہوتیں تو آپ کیا فیصلہ کرتے؟‘ جس پر شوکت صدیقی نے جواب دیا کہ بطور جج جو حلف لیا ہے اس کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا۔ عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویز کے مطابق اس پر جنرل فیض حمید نے یکدم کہا اس طرح تو ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے بھی حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر ایسے ہی الزامات عائد کیے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جنرل فیض حمید نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ایسا بینچ نہ بنے جو 2018 کے الیکشن سے پہلے نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت دے کیونکہ اگر ضمانت دے دی اور انتخابات سے پہلے مریم نواز اور نواز شریف باہر آ گئے تو میری تو دو سال کی محنت خراب ہو جائے گی۔’مریم نواز نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جب وہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوتی تھیں تو نیب کے نمائندے صرف ڈمی بن کر بیٹھے رہتے تھے اور اس کی کارروائی ’ایک بریگیڈیئر چلاتا تھا جس کے پیچھے جنرل فیض حمید تھے۔

تقہم لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید یا فوج کی جانب سے ان الزامات پر براہِ راست کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس سے قبل فیض حمید کا نام نومبر 2017 میں اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر مذہبی تنظیم تحریکِ لبیک کے دھرنے کے دوران بھی سامنے آیا تھا۔ اس وقت وہ آئی ایس آئی میں ہی کاونٹر انٹیلجنس ونگ میں تعینات تھے۔ اس تنظیم اور حکومت کے درمیان چھ نکات پر مشتمل معاہدے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ معاہدہ کرنے میں اس وقت میجر جنرل کے عہدے پر کام کرنے والے فوجی افسر فیض حمید کی مدد شامل رہی۔ فیض حمید نے حکومت کی جانب سے اس معاہدے میں ضامن کے طور پر دستخط بھی کیے تھے۔ بعد ازاں اسی دھرنے کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں وزارت دفاع کے توسط سے آرمی چیف سمیت افواج پاکستان کے سربراہان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحت اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنھوں نے ‘اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی ہے۔

بعد میں وزارت دفاع نے اس فیصلے میں لکھے الفاظ واپس لینے اور فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی تھی جس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو پایا، لیکن یہ فیصلہ لکھنے والے جسٹس قاضی فائز عیسی تب سے ہی اسٹیبلشمنٹ کے عتاب کا شکار ہیں جو انہیں اگلا چیف جسٹس آف پاکستان بننے سے روکنے کے لیے فارغ کرنے کے درپے ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فیض حمید کے جانے کے بعد آئی ایس آئی بطور ادارہ سیاسی معاملات سے دوری اختیار کر تے ہوئے اپنی ساکھ بحال کرتا ہے یا نہیں؟

Related Articles

Back to top button