کرنل قذافی کا بیٹا الیکشن لڑنے میدان میں اتر آیا


لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر القذافی کے لاڈلے بیٹے سیف الاسلام القذافی کا نام ایک مرتبہ پھر میڈیا میں گونج رہا ہے جس کی وجہ انکا دسمبر 2021 میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ ہے۔ یاد رہے کہ سیف الاسلام قذافی انٹرنیشل کریمنل کورٹ کو لیبیا میں 2011 کے انقلاب کے وقت انسانیت کے خلاف ہونے والے مظالم پر مطلوب ہیں۔
لیبیا میں دس سال پہلے بپا ہونے والے ’عرب سپرنگ‘ انقلاب میں اس وقت کے مرد آہن کرنل معمر القذافی کی حکومت کا تختہ الٹا تو بعد میں قدرتی وسائل سے مالا مال شمالی افریقہ کے اس ملک کا مقدر طوائف الملوکی، دہشت گردی اور افراتفری بنا۔ باہم دست وگریبان ملیشیاؤں، اور روس اور ترکی کی بیجا مداخلت سے لیبیا دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ لیکن طرابلس کی تباہی کا تماشہ دیکھنے والے عالمی ادارے اقوام متحدہ کو اب بھی امید ہے کہ اگلے مہینے ہونے والے صدارتی انتخاب سے لیبیا میں استحکام بحال ہو سکے گا۔
سیف الاسلام قذافی نے بھی صدارتی الیکشن میں اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ہے حالانکہ ان کی کامیابی کے امکانات کو سیاسی تجزیہ کار کافی معدوم قرار دیتے ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کا داغدار ماضی ہے۔ سیف کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ معمر قذافی کے جانشین بنیں گے لیکن دس برس قبل ملک میں مظاہرین پر مظالم کرنے کے باعث ان کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچا۔ 2011 سے لے کر اب تک ملک میں پیدا ہونے والی شورش کے باعث لیبیا میں حالات بہت مخدوش ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ 24 دسمبر کو ہونے والے انتخابات آزاد اور شفاف نہیں ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری اور عالمی طاقتوں نے بھی یہ وارننگ دی ہے کہ جس نے بھی الیکشن میں مداخلت کرنے یا اس کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی اسے عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔
اس وقت سوشل میڈیا پر سیف الاسلام قذافی کی تصاویر اور ویڈیوز چلتی نظر آ رہی ہیں۔ ایسی ہی ایک۔ویڈیو میں روایتی لیبین لباس میں ملبوس داڑھی رکھے ہوئے سیف الاسلام کیمرے کو دیکھ کر قرآن کی آیت پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ‘خدا کا کرنا ہمیشہ پورا ہوتا ہے۔’ لیکن سچ تو یہی ہے کہ ماضی میں سیف الاسلام قذافی کا رویہ اور کردار ایسا نہیں تھا۔ جب 2011 میں ان کے والد کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو ان کو ایک جنگجو گروپ نے حراست میں لے لیا تھا۔ بعد میں انھیں موت کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم وہ فیصلہ تبدیل کر دیا گیا۔ سیف قذافی اب بھی انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو جنگی جرائم پر مطلوب ہیں تاہم انھوں نے آہستہ آہستہ عوام کے سامنے آنا شروع کر دیا ہے۔ سیف کی جانب سے عوامی سطح پر واپس آنے کے پر لیبیا میں لوگوں کی مختلف آرا ہیں۔ لیکن لوگوں کو انکی جانب سے الیکشن میں شرکت کرنے کے فیصلے سے زیادہ حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ وہ ایک عرصے سے ملک کی سربراہی کے امیدوار تھے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قذافی کے آخری دنوں میں لیبیا میں ہونے والی خونریزی لوگوں کے ذہنوں میں اب بھی تازہ ہے لہذا بہت مشکل ہے کہ سیف انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکیں۔
یاد رہے کہ لیبیا میں سالوں کی خانہ جنگی کے بعد اس وقت ایک عارضی حکومت قائم ہے لیکن ملک میں عدم استحکام ہے۔حکومت اور مخالفین میں اختلاف کے باعث صدارتی الیکشن کے بھی متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔ برطانیہ کے معروف ادارے لندن سکول آف اکنامکس سے تعلیم حاصل کرنے والے 49 سالہ سیف قذافی نے جولائی 2021 میں امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کو دیئے گیے ایک انٹرویو میں لیبیا میں امن اور استحکام کی بحالی کا عزم ظاہر کیا تھا۔ لیکن ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ 2011 میں سیف نے اپنے والد کے شانہ بشانہ لیبیا کے عوام کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن میں عملاً حصہ لیا تھا۔ بعد ازاں قذافی کو قتل کر دیا گیا اور سیف کو حراست میں لے لیا گیا۔ تسہم چھ برس قید میں رہنے کے بعد انہیں رہائی مل گئی۔ لیکن یاد رہے کہ سیف الاسلام انٹرنیشل کریمنل کورٹ کو لیبیا میں 2011 کے انقلاب کے موقع پر انسانیت کے خلاف روا رکھے جانے والے مظالم کی پر مطلوب ہیں۔

Related Articles

Back to top button