بابا گرو نانک کی سالگرہ کی تقریب میں سیاسی تقریریں


سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک کے 552 ویں جنم دن کی تقریبات ننکانہ صاحب پاکستان میں شروع ہو گئی ہیں جہاں دنیا بھر سے آئے سکھ یاتری اگلے دس دنوں میں مختلف گوردواروں میں بھی جائیں گے۔ اس موقع پر ننکانہ صاحب میں موجود ساتوں گوردواروں کو بسنتی پرچموں، رنگ برنگے آرائشی پھولوں کے علاوہ بہت سے بینروں اور پوسٹروں سے سجا دیا گیا ہے۔ ننکانہ صاحب میں واقع گوردوارہ جنم استھان میں 19 نومبر کی صبح سے شروع ہونے والی بابا گورو نانک کے جنم دن کی تقریبات میں ہزاروں سکھ شریک ہیں۔
دوسری جانب بھارت میں مودی حکومت کے متعارف کردہ متنازعہ زرعی قوانین کی منسوخی کی خبر جب گوردوارہ جنم استھان پہنچی تو وہاں بابا گورو نانک کے جنم دن کی مرکزی تقریب جاری تھی۔ اس دوران ایک سکھ مقرر نے اپنی تقریر روک کر جب یاتریوں کو یہ خبر سنائی تو وہاں موجود سکھوں نے ’جو بولے سو نہال‘ اور ‘ست سری اکال‘ کے پرجوش نعروں سے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ایک سکھ مقرر نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ایک سال پہلے اسی جگہ پر ان متنازعہ قوانین کی منسوخی کے لیے دعائیں ہوتی رہی ہیں۔ ان کے بقول سکھوں کی دعائیں رنگ لے آئی ہیں اور وزیراعظم مودی کو پیچھے ہٹنا پڑا ہے اور یہ بھارتی کسانوں کی فتح ہے۔
بھارت کے علاوہ دوسرے ممالک سے آئے ہوئے بعض سکھ یاتریوں نے مودی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سکھ دھرم کے ماننے والوں کے اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ پرن چیت سنگھ نامی مشرقی پنجاب سے آئے ہوئے ایک سکھ یاتری نے بتایا کی مشرقی پنجاب کے لوگوں کو مغربی پنجاب کے باسیوں سے مل کر دلی خوشی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے سیاسی لیڈروں میں اختلافات ہوں گے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں کے لوگ پیار محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
اس موقع پر کنول پریت کور نامی بھارتی خاتون خوش تھی کہ انکا استقبال پھولوں سے ہوا ہے۔ اس موقع پر یاتریوں کی سکیورٹی کے کیے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ پولیس کی اضافی نفری ننکانہ صاحب کے مختلف حصوں میں تعینات ہے۔ سکھ یاتریوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے بڑے گوردوارے میں بیس بستروں پر مشتمل ایک عارضی ہسپتال بھی قائم کیا گیا ہے۔ یاتریوں کی آمد سے قبل تمام گوردواروں میں ڈینگی اور کورونا کے خاتمے کے لئے سپرے کے ساتھ ساتھ مکمل صفائی و ستھرائی کی گئی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے سکھوں سمیت تمام اقلیتوں کے لیے ہمیشہ عملی اقدامات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بابا گورونانک یونیورسٹی کا قیام بھی وزیر اعظم کے ایسے ہی جذبات کا اظہار ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے یاتریوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بابا گورونانک کا پیغام امن، محبت، صلح و آشتی اور نیکی کا پیغام ہے جسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں اپنے دس روزہ قیام کے اگلے مرحلے پر یہ تمام سکھ یاتری حسن ابدال، کرتار پور، ایمن آباد اور لاہور جا کر اپنے مقدس مقامات کی یاترا کریں گے۔

Related Articles

Back to top button