عدلیہ غلطیاں تسلیم کرنے سے انکار نہیں کر سکتی

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد عدلیہ کا پہلا امتحان مولوی تمیزالدین خان کیس تھا اگر جسٹس منیر نے ہائیکورٹ کا فیصلہ نہ بدلا ہوتا تو اس ملک کا مستقبل آج سے بہت مختلف نظر آنا تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر کی یاد میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جارج کانسٹنٹائن کی سربراہی میں عدلیہ نے پہلا لینڈ مارک فیصلہ سنایا تھا جس پر فخر ہونا چاہیے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ وہ موقع تھا جب جمہوریت کو پٹڑی سے اتارا گیا، جمہوریت کو تباہ کیا گیا، میں بطور چیف جسٹس کسی پر بھی الزام نہیں لگا سکتا پھر اس کے بعد ڈوسو کیس تھا، دوسرا کیس محترمہ نصرت بھٹو کیس، پھر ظفر علی شاہ کیس، یہ تمام فیصلے تاریخ کا حصہ ہیں جنہیں ہم تاریخ سے مٹا نہیں سکتے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایک ادارے کے لیے اس سے زیادہ افسوسناک کیا ہو سکتا ہے کہ ایک منتخب وزیراعظم کے خلاف فیصلہ دیا گیا اور فیصلہ کرنے والے بینچ کے معزز جج نے اعتراف بھی کیا کہ انہیں اس لیے پھانسی پر چڑھایا گیا کیونکہ دباؤ کا سامنا تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وجود کے نصف برسوں میں تو آمرانہ حکومتیں اقتدار میں رہی ہیں۔ رجعت پسند حکومتوں نے بنیادی حقوق تباہ کیے اور آزادی کو دبایا۔ لیکن یہ جدوجہد عدلیہ اکیلے نہیں کر سکتی۔ دیگر کھلاڑی بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ امریکی وکیل اور صدر جان ایڈمز نے دو اہم حقوق کی نشاندہی کی تھی جن میں سے ایک خودمختار عدلیہ تک رسائی اور دوسرا آزاد پریس تھی۔ لیکن آزاد پریس سے میری مراد آزاد اور خودمختار پریس اور میڈیا ہے جو مالکان کے کنٹرول میں نہ ہو جن کے ذاتی مفادات ہیں اگر آزاد میڈیا نہیں ہوگا یا آزادی رائے نہیں ہوگی تو عدلیہ بھی خودمختار نہیں ہوگی۔ یہ ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔

Related Articles

Back to top button