‘گوادر کو اسکا حق دو’ تحریک زور پکڑ گئی، دھرنا جاری


بلوچستان کے ساحلی شہر گوارد میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ‘گوادر کو اس کا حق دو’ اور مقامی افراد نے بنیادی سہولیات زندگی کی فراہمی، ماہی گیروں کو درپیش مسائل کے حل اور علاقے میں قائم غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے کے لیے دیا جانے والا دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
گوادر کو حق دو‘ تحریک کے زیر اہتمام دیے جانے والے اس دھرنے کے شرکا کے اہم مطالبات میں بلوچستان کی سمندری حدود میں ڈیپ سی میں ٹرالرز کی ماہی گیری کو روکنا، ایران سے آنے والی اشیا کی راہ میں رکاوٹوں کا خاتمہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کی ان چیک پوسٹوں کا خاتمہ ہے جن سے مقامی لوگوں اور ماہی گیروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
’گوادر کو حق دو‘ تحریک اگرچہ غیر سیاسی ہے لیکن ان کی قیادت جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی سیکریٹری جنرل مولانا ہدایت الرحمان کر رہے ہیں۔ ہدایت الرحمان نے بتایا کہ ان کے دھرنے کو ایک ہفتہ مکمل ہو گیا ہے اور ان کا احتجاج اپنی تمام مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مسلسل احتجاج اور دھرنوں کے باوجود صوبائی اور مرکزی حکومت کی مسائل کے حل کے لیے عدم دلچسپی اور ’نااہلی‘ عیاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ڈیپ سی ٹرالرز کا خاتمہ اور بارڈر ایریا میں سکیورٹی کے نام پر ٹوکن کے نظام کو ختم کیا جائے جس سے نہ صرف کاروباری حضرات بلکہ عوام کو بھی مشکلات در پیش ہیں۔ ان کے مطابق گوادر شہر میں غیر قانونی چیک پوسٹوں اور کوسٹ گارڈز کی جانب سے ماہی گیروں کو بلاوجہ تنگ کرنے کی شکایات کا خاتمہ بھی ان کے مطالبات میں شامل ہیں۔ مولانا ہدایت کے بقول گودار شہر میں پانی کی سپلائی اور بجلی کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔
اردو نیوز کے مطابق آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مولانا نے بتایا کہ مسائل کے حل تک ان کا دھرنا جاری رہے گا اور مظاہرین عمران خان کے 126 روزہ دھرنے کا ریکارڈ توڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے گوادر میں دھرنا مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان 126 دن کے ریکارڈ دھرنے کا کریڈٹ لیتے ہیں لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں کہ اگر مسائل حل نہ ہوئے تو ہم کم ازکم 127 دن تک دھرنا دیں گے تاکہ پی ٹی آئی کے ریکارڈ کو تو توریں۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا ہدایت کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے مقامی عمائدین کو مذاکراکت کے لیے ان کے پاس بھیجا تھا لیکن اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔
’حکومت کہہ رہی ہے کہ مسائل حل کریں گے، کام ہو جائے گا، ہم اب کرنے کے وعدوں پر اعتبار نہیں کریں گے بلکہ کام ہوگا تب ہی دھرنا ختم کریں گے۔‘
گوادر کو حق دو‘ تحریک کے دھرنے اور گزشتہ مہنیوں کے دوران احتجاجی جلسوں اور ریلیوں کا شمار مقامی سطح پر گوادر کی تاریخ کی بڑی احتجاجی سرگرمیوں میں ہو رہا ہے۔ گوادر کے ایک سینئر صحافی صداقت بلوچ کا کہنا یے کہ دھرنے میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہیں۔ روانہ چار سے پانچ ہزار لوگ دھرنے میں شریک ہوتے ہیں جب کہ رات کو دھرنے کے شرکا کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تحریک گوادر کی بڑی احتجاجی تحاریک میں سے ایک ہے، اس تحریک میں گوادر کے مقامی لوگوں کی بڑی تعداد کسی سیاسی تفریق کے بغیر شریک ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی ’گوادر کو حق دو‘ تحریک کے دھرنے اور احتجاج کے حوالے سے گفتگو ہو رہی ہے۔ صارفین کی بڑی تعداد دھرنے کے شرکا کے مطالبات کی حمایت اور حکومت پر زور دے رہی ہے ان مسائل کا حل تلاش کرے۔
سینیئر صحافی حامد میر نے بھی ٹویٹ میں احتجاجی مظاہرین کی ویڈیو پر لکھا ہے کہ ’گوادر کے ماہی گیر اپنے حقوق کے لیے سڑک پر آ گئے، یہ مظلوم ماہی گیر اپنے سمندر کو ٹرالرز مافیا سے پاک کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سمندر میں آنے جانے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔‘ حامد میر نے مزید لکھا ہے کہ’ ان کا ایک اہم مطالبہ یہ بھی ہے کہ گوادر میں شراب کی دکانیں بند کی جائیں، کرسٹل اور شیشہ بیچنے والوں کو روکا جائے۔‘
انسانی حقوق کے کارکن اور سماجی رہنما جبران ناصر نے بھی اس معاملے پر ٹوئٹر پر لکھا کہ ’گوادر کی غیور عوام کو سلام، یہ عوامی مسائل پر عوامی احتجاج ہے، یہاں کوئی فون کال کی وجہ سے نہیں آیا بلکہ ہر خطرے کے باوجود اپنے ضمیر کی آواز پر شریک ہوا ہے۔ مولانا ہدایت الرحمان کو عوام کو بنیادی سہولیات اور مسائل پر متحرک کرنے اور ان میں اتحاد پیدا کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘ عادل بلوچ نامی صارف نے کفن پوش مظاہرین کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’پانی، بجلی اور غیر ضروری فوجی چیک پوسٹوں پر پابندی لگانے کےلیے کفن میں ملبوس لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔‘ عادل بلوچ نے اپنے ٹویٹس میں سوال اٹھایا ہے کہ ’کیا پاکستانی حکومت کے لیے ان بنیادی مطالبات کو تسلیم کرنا بہت مشکل ہے؟‘

Related Articles

Back to top button