عمران گھر جائیں گے یا لانے والوں کو گھر بھجوائیں گے؟


ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں یہ سوال زیربحث ہے کہ اگلی سیاسی تبدیلی کا طریقہ کار کیا ہوگا اور آیا یہ تبدیلی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایماء پر لائی جائے گی یا وزیراعظم عمران خان(Prime Minister Imran Khan) ایسی کسی تبدیلی کا منصوبہ بنانے والے چیف منصوبہ ساز کو پہلے ہی گھر بھجوا دیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی ہر محاذ پر مکمل نا اہلی اور ناکامی کے بعد اسٹیبلشمنٹ بھی ذہنی طور پر سیاسی تبدیلی کی تیاریوں میں مصروف ہے لیکن دوسری جانب عمران بھی اس حوالے سے غافل نہیں اور کسی انہونی سے نمٹنے کے لیے کاؤنٹر منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کی کمانڈ میں تبدیلی کے بعد اپوزیشن جماعتوں کو یہ امید بندھ گئی ہے کہ وزیراعظم (Prime Minister Imran Khan) کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے فارغ کیا جا سکتا ہے، لیکن اس عمل کی کامیابی کے لیے اسے اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی بھی درکار ہوگی۔ دوسری جانب اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کے ساتھ ملکر ایسا کوئی منصوبہ بناتے ہوئے پکڑی جائے تو وزیر اعظم اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے چیف منصوبہ ساز کی ہی چھٹی کروا دیں۔
ایسے سیاسی امکانات کا تجزیہ کرتے ہوئے معروف صحافی رضا رومی کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کو ایک سویلین حکومت کہنا مناسب نہیں ہو گا کیونکہ یہ ایک نیم سویلین اور نیم فوجی سیٹ اپ ہے جسکی داغ بیل 2014 میں ہی رکھی جا چکی تھی۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بہت سے جتن کیے گئے جن کا خمیازہ آج پاکستان کے 22 کروڑ عوام بھگت رہے ہیں۔ 2008 سے 2017 تک ریاستی طاقت سویلین اداروں کو بتدریج منتقل ہوتی رہی اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں ایک حقیقی جمہوریت کے پنپنے کا امکان روشن ہو چکا تھا۔ اس تاریخی عمل کو روکنے کے لئے عمران اور ان کے سادہ لوح نعروں کا بھرپور استعمال کیا گیا اور بالآخر پانامہ پیپرز سکینڈل نے اسٹیبلشمنٹ کے دو ستونوں فوج اور عدلیہ کو ایک نادر موقع فراہم کیا کہ وہ سویلین بالا دستی قائم ہونے کے پراسیس کو سبوتاژ کر دیں۔
رضا رومی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے کارپوریٹ میڈیا اور سیاسی حلقوں نے بھی اس منصوبے میں اسٹیبلشمنٹ کا مکمل ساتھ دیا اور آج وہ اپنے کیا ہی بھگت رہے ہیں۔ اشرافیہ اور اس میں شامل طبقات کے ساتھ آج جو بھی ہو رہا ہے وہ اپنی جگہ، لیکن قانون کی بالادستی اور شہری آزادیوں پر جو قدغنیں عائد کی گئی ہیں، ان کی نظیر نہیں ملتی ہے۔ مارشل لا ادوار میں تو پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنا اور سنسرشپ کو فروغ دینا قابل فہم تھا لیکن ایک نیم سویلین حکومت کی آڑ میں یہ سب کچھ کرنے کا تجربہ حالیہ تاریخ میں ایک نئی روایت ہے جس کو بدلنے میں شاید ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ بقول رضا، اس طرح کے غیر فطری اور انجینیئرڈ نظام زیادہ دیر چل نہیں پاتے کیونکہ ان کی عوامی ساکھ پر مستقل سوالیہ نشان موجود رہتا ہے۔ مارشل لا کے ادوار میں یہ کام نسبتاً آسان ہوتا ہے اور عوام نے اس کو چار مرتبہ چار و ناچار تسلیم بھی کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ریاست کے دو بڑے ستون بھی بادلِ نخواستہ تسلیم کر رہے ہیں کہ اس ہائبرڈ نظام کو ایک نئی شکل دینا لازم ہو گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عدلیہ اور فوج دونوں کی ساکھ روز بروز پامال ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اس وقت تک عدلیہ کے کیے گئے فیصلوں پر نہ صرف شدید تنقید ہو رہی ہے بلکہ سسٹم کے اندر سے ہی آوازیں اٹھ چکی ہیں جن سے ایک آزاد عدلیہ کا بھرم رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔ جسٹس شوکت صدیقی اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے اور بیانات ایک گواہی بن چکے ہیں اور مستقبل کے مؤرخ کے لئے بہت سارا مواد بھی پیش کر چکے ہیں جس کو جھٹلانا اب ناممکن ہو گیا ہے۔
رضا رومی کہتے ہیں کہ اسی طرح ISI کے نئے سربراہ کی تقرری کے دوران وزیر اعظم(Prime Minister Imran Khan) اور آرمی چیف کے درمیان تناؤ نے بھی واضح کر دیا ہے کہ کس طرح پاکستان کی قومی سلامتی کا ضامن ادارہ بھی سیاسی تبادلوں اور تقرریوں کی زد میں ہے۔ ہماری عدلیہ تو کبھی بھی آزاد نہیں رہی لیکن افواجِ پاکستان نے کبھی اپنے اندرونی نظم و ضبط پر آنچ نہیں آنے دی۔ تاہم اس بار کئی ہفتے عجیب و غریب افواہیں اڑتی رہیں جو کہ اس ادارے کی تاریخ میں ایک نئی روش متعارت کروا گئیں کیونکہ یہ سب سیاسی اکھاڑے میں ہو رہا تھا۔ اب چونکہ یہ مسئلہ بھی حل ہو چکا، اس لئے ادارے کو ایسے اقدامات اٹھانا ہوں گے جس سے کہ ناصرف اس کی ساکھ بحال ہو بلکہ اسکی غیر جانبداری کا بھرم بھی قائم رہے۔ اس لئے سیاسی تبدیلی یا جسے انگریزی میں regime change کہا جاتا ہے، اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ناکامیوں سے عبارت عمران خان کا تین سالہ اقتدار انکے گلے کا طوق بن چکا ہے اور آج وہ مکمل تنہائی کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کی ‘کرپٹ’ جماعتیں تو ایک طرف، ان کے اپنے اتحادی اور صفِ اول کے ساتھی جن میں جہانگیر ترین کا نام سرِ فہرست ہے ان کے ساتھ کھڑے دکھائی نہیں دے رہے۔ ان حالات میں اگر عمران خان نے اپنا دور اقتدار مکمل کیا تو یہ صرف ان کی خوش قسمتی ہو گی، وگرنہ ان کو سیاسی میدان سے نکالنا کبھی اتنا آسان نہ تھا جتنا کہ اب ہے۔
بقول رضا رومی، ملک میں سیاسی تبدیلی کا عمل کئی صورتیں اختیار کر سکتا ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لئے سب سے آسان اور محفوظ طریقہ ان ہاؤس تبدیلی ہے جس کے لئے اس کو پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر چھوٹی جماعتوں کی مکمل حمایت بھی حاصل ہوگی۔ لیکن اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نواز شریف ہیں جو ابھی تک بضد ہیں کہ ملک میں نئے انتخابات ہی ہر مسئلے کا حل ہیں۔ ان ہاؤس تبدیلی بھی ملک کو نئے انتخابات کی طرف ہی لے جائے گی لیکن وزیر اعظم کا مشترکہ امیدوار تاحال دستیاب نہیں۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان خود سے اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کر دیں اور دوبارہ عوام سے مینڈیٹ لینے کے لئے تیار ہو جائیں لیکن ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا ماسوائے ذوالفقار علی بھٹو کے جنہوں نے 1977 میں مقررہ مدت سے ایک سال پہلے انتخابات کروائے۔ PTI کی گرتی ہوئی مقبولیت کے باعث بھی شاید ایسا کرنا ممکن نہ ہو۔
رضا رومی کہتے ہیں کہ سیاسی تبدیلی کا تیسرا طریقہ عدالتوں کے ذریعے ممکن ہے جہاں پر بیرونی فنڈنگ کیس یا پھر APS پشاور کی رپورٹ پر کارروائی نہ کرنے کی پاداش میں وزیر اعظم کو اقتدار سے الگ کیا جا سکتا ہے جیسا کہ یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کے ساتھ کیا جا چکا ہے۔ لیکن اس میں بھی قباحتیں سامنے آ سکتی ہیں۔ خصوصاً جب افواجِ پاکستان غیر جانبداری کا تہیہ کر چکی ہوں۔ سیاسی تبدیلی کا چوتھا طریقہ یہ ہے کہ عمران خان اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے فوج کی اعلیٰ کمانڈ کو بدل دیں۔ لیکن اس کے نتیجے میں جو کچھ عمران خان کے ساتھ ہو سکتا ہے، شاید وہ اس کے لئے تیار نہ ہوں۔ لیکن اگلے چند ہفتوں یا مہینوں میں حالات اس نہج پر پہنچ سکتے ہیں جہاں اوپر بتائے گے اقدامات میں سے ایک پر عملدرآمد لازمی ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:تاریخ، انصاف اور کٹہرا

رضا رومی کا کہنا ہے کہ عمران خان(Prime Minister Imran Khan) کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ اس سیاسی طوفان کا مقابلہ سیاسی طریقے سے ہی کریں لیکن چونکہ وہ ایک روایتی سیاستدان نہیں اس لئے ان سے ایسی کوئی توقع کرنا کارِ عبث ہوگا۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اسلام آباد میں ردوبدل کے بعد کیا ملک دوبارہ جمہوری عمل کی طرف گامزن ہوگا؟ کیا اگلے انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور مشینوں کی دھاندلی سے پاک ہوں گے؟ کیا پاکستان کی روایتی سیاسی پارٹیوں کے پاس ملک کو مسائل سے نکالنے کے لئے کوئی منصوبہ ہے؟ اور کیا ایک لاغر اور تباہ حال پارلیمنٹ سویلین بالادستی کے ہدف کو پورا کرنے کی سکت رکھتی ہے؟ لیکن ان سب سے بڑا سوال لیکن یہ ہے کہ کیا ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اس ناکام تجربے سے کوئی سبق سیکھا ہے؟ ان تمام سوالوں کا جواب فی الحال نفی میں ہے۔ آگے آگے دیکھیئے اب ہوتا ہے کیا؟

Related Articles

Back to top button