ثاقب نثار کی آڈیو کا فرانزک کرنے والی کمپنی کو قتل کی دھمکی


سابق چیف جسٹس ثاقب نثار(Mian saqib Nisar call Leaked) کی متنازعہ آڈیو کا فرانزک تجزیہ کرنے کے بعد اسے اصلی قرار دینے والی امریکی کمپنی کو اپنے دفتر میں فون پر قتل کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئی ہیں۔ یاد رہے کہ ملٹی میڈیا فرانزک میں مہارت رکھنے والی معروف امریکی فرم گیریٹ ڈسکوری نے فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ثاقب نثار کی آڈیو کا فرانزک تجزیہ کرنے کے بعد اسے درست قرار دیا تھا اور تصدیق کی تھی کہ اس آڈیو میں کوئی ایڈیٹنگ نہیں کی گئی۔
ثاقب نثار کی آڈیو مارکیٹ ہونے کے بعد ملک بھر میں بحث جاری ہے اور وفاقی حکومت سابق چیف جسٹس کے دفاع میں نکلی دکھائی دیتی ہے۔ اسی دوران فرانزک تجزیہ کرنے والی امریکی کمپنی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ 23 نومبر کو اسکے دفتر میں 1000 سے زائد کالز اور گفتگو کرنے کی درخواستیں موصول ہوئیں جن میں دھمکیاں بھی شامل تھیں۔ ٹوئیٹ میں کہا گیا ہے کہ فیکٹ فوکس کے لئے کیے گئے فرانزک ٹیسٹ کے بعد سے کمپنی کو دھمکیاں مل رہی ہیں اور‘ہماری جانیں خطرے میں ہیں’۔ ٹوئیٹ میں کہا گیا کہ موصول ہونے والی دھمکی آمیز فون کالز میں انہیں عدالتی کارروائی کی دھمکی بھی دی گئی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ آڈیو ٹیپ کے حوالے سے مختلف تجزیاتی نتائج حاصل کرنے کے لئے ہماری ٹیم کو دھمکیاں دینا غیر اخلاقی حرکت ہے۔
اس سے قبل اس اکاؤنٹ سے ٹوئیٹ کی گئی تھی کہ سماء ٹی وی کی طرف سے بھی کمپنی کو کال کی گئی تھی لیکن انہیں بتا دیا گیا تھا کہ وہ اپنے کلائنٹ کے حوالے سے کوئی رائے نہیں دیں گے اور نہ ہی اپنے کلائنٹ سے متعلق کسی سوال کا جواب دیں گے۔
یاد رہے کہ سماء ٹی وی کچھ عرصہ پہلے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان نے خرید لیا تھا۔ اسی وجہ سے گزشتہ چند روز سے سماء ٹی وی یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ثاقب نثار کی لیک ہونے والی آڈیو جعلی ہے۔
دوسری جانب سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے امریکی فلم ساز کمپنی کو ملنے والی دھمکیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فسطائیت کی معراج ہے کہ صحافی احمد نورانی کی تفتیشی رپورٹ کے لئے پروفیشنل کام کرنے والے ایک ادارے کو امریکہ میں بھی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔
اس حوالے سے سینئر وکیل رہنما علی احمد کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ثاقب نثار کی آڈیو اصلی ہے اور دباؤ اور دھمکی سے اسے جعلی قرار نہیں دلوایا جاسکتا۔ کرد نے کہا ہے کہ ثاقب نثار اور انکے کردار کو میں تو کیا سارا پاکستان جانتا ہے۔ جس طرح انہوں نے بطور چیف جسٹس اپنا دور گزارا، وہ شرمناک تھا۔
خیال رہے کہ ان دنوں میڈیا میں ایک آڈیو ٹیپ زیر گردش ہے جس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کیلئے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو سزا دلوانا ہو گی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ثاقب نثار فون پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سے گفتگو کر رہے ہیں جنہوں نے بعد میں دونوں باپ بیٹی کو قید اور جرمانے کی سزا سنا دی تھی۔تاہم ثاقب نثار نے اس آڈیو ٹیپ کو جھوٹی اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی کسی سے ایسی بات نہیں کی۔
اسی معاملے کو لے کر حکمران جماعت اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے درمیان لفظی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آڈیو ٹیپ منظر عام پر آنے کے بعد مطالبہ کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم کیخلاف کیسوں کو ختم کر دیا جائے۔
ادھر وفاقی وزیر فواد چودھری نے آڈیو ٹیپ کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز شریف نے ایسے کاموں کیلئے باقاعدہ ایک ٹیم بنائی ہوئی ہے۔ جیسے ہی عدالتوں میں کیس چلنا شروع ہوتے ہیں، ایسی آڈیوز اور ویڈیوز کو منظر عام پر لے آیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بروقت اقدامات نہ کرنے سے گیس بحران پیدا ہوا

خیال رہے کہ صحافی احمد نورانی نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے منسوب مبینہ آڈیو ٹیپ کی خبر بریک کی تھی۔ انکا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس آڈیو کی صداقت کے مکمل ثبوت موجود ہیں اور امریکہ کی ایک معروف فرانزک کمپنی بھی اس آڈیو کو اصلی قرار دے چکی ہے۔

Related Articles

Back to top button