میاں ثاقب نثار پر لگنے والے الزامات میں وزن کیوں ہے؟


معروف اینکر پرسن اور صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پر لگنے والے الزامات اس لیے جھٹلائے نہیں جا سکتے کہ عدلیہ کو استعمال کرکے عمران خان کو وزیراعظم بنوانے اور انکے سیاسی مخالفین کو آؤٹ کرنے کا منصوبہ انہی کے دور میں پروان چڑھا اور پھر آر ٹی ایس سسٹم بھی انہی کے زیر سایہ بٹھایا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی انہی کے دور اقتدار میں بر طرف کیا گیا، لہذا وہ ان تمام جرائم میں برابر کے حصے دار تھے جسکے نتیجے میں آج کا سیاسی سیٹ اپ تشکیل پایا تھا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ نہ تو پاکستان کے سب چیف جسٹس ایک جیسے ہیں اور نہ ہی سب جج۔ یہاں اچھے لوگ بھی ہیں اور برے بھی۔ جبر اور گھٹن کے اس دور میں جو ججز ضمیر اور انصاف کے مطابق فیصلے کررہے ہیں، وہ جہاد عظیم سے کم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ تنازعات چیف جسٹس ظہیر جمالی سے کیوں منسوب نہیں ہوئے؟ جسٹس فائز عیسیٰ، جسٹس منصور اور جسٹس یحییٰ آفریدی بھی اسی عدالت کے جج ہیں۔ ہم نے کبھی کسی نجی محفل میں ان میں سے کسی جج کے بارے میں منفی بات نہیں سنی۔ جسٹس اطہر من اللہ بہت ملنے جلنے والے اور ایک معروف خاندان سے تعلق رکھنے والے فرد ہیں۔
جج بننے سے قبل نہ صرف وہ ٹاک شوز کی زینت ہوا کرتے تھے بلکہ غم خوشی غمی کے موقع پر بھی پہنچا کرتے تھے، لیکن جب سے وہ جج بنے ہیں، انہوں نے اپنے تمام سماجی روابط بھی ختم کردئیے ہیں۔ دوسری طرف جسٹس ثاقب نثار عدالت میں کم اور باہر زیادہ نظر آتے تھے۔ کبھی اپنے آپ کو مسیحا ثابت کرتے تو کبھی خود کو بابا رحمتا پکارتے۔
صافی کے مطابق اچھے جج کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ وہ سیاسی معاملات سننے یا ان میں الجھنے سے گریز کرتے ہیں لیکن میاں ثاقب نثار چن چن کر سیاسی معاملات کو اپنی عدالت میں لاتے رہے۔ وہ بیرون ملک گئے تو تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھے اور تقریریں کیں۔ وہ پاکستان میں بھی صرف ڈیم بنانے کی تقریبات کی میں نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ حکومتی تقریبات میں بھی شریک ہوتے رہے. جب پانامہ کیس کا فیصلہ آیا تب بھی میرا یہی تبصرہ تھا کہ نون لیگ کی قیادت خود کو معصوم ثابت نہیں کرسکی لیکن انصاف ہوتا ہوا بھی نظر نہیں آیا۔ میں نہیں جانتا کہ ثاقب نثار کی آڈیو اصلی ہے یا جعلی، لیکن جسٹس شوکت صدیقی کی تقریر تو اصلی تھی۔ ان کا ضمیر رانا شمیم کی طرح ریٹائرمنٹ کے بعد نہیں بلکہ دوران ملازمت جاگ اٹھا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ثاقب نثار کے دور میں سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے خفیہ ایجنسی پر لگائے جانے والے الزامات پر کیا تحقیقات کیں، الٹا جسٹس صدیقی کو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے الزام پر فارغ کردیا گیا۔ صافی پوچھتے ہیں کیا یہ انصاف ہے؟ انکے مطابق یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ پانامہ کے معاملے میں صرف شریف خاندان کو کیوں سنگل آئوٹ کیا گیا اور مزید پانچ سو افراد کے کیسز کا تعاقب کیوں نہیں ہوا؟ بلاشبہ شریف خاندان کا بھی ماضی میں عدلیہ کے ساتھ سلوک اچھا نہیں رہا۔ خود میاں ثاقب نثار بھی میاں نواز شریف کا ہی تحفہ ہیں کیونکہ انہوں نے ہی انہیں سیکرٹری لا بنایا اور وہ انہی کے دور میں ہائی کورٹ کے جج بنائے گئے۔ خود میاں صاحب کو بھی جسٹس (ر) عبدالقیوم اور ثاقب نثار جیسے کردار پسند ہیں لیکن شریف خاندان کے جرائم ثاقب نثار کو معصوم نہیں بنا سکتے۔ بقول سلیم صافی، جب ثاقب نثار چیف جسٹس تھے تو نیب کے ذریعے پولیٹکل مینجمنٹ ہوتی رہی۔ وہ چیف جسٹس تھے تو عدلیہ کو استعمال کرکے عمران خان کو وزیراعظم بنانے اور باقی سیاسی جماعتوں کو آئوٹ کرنے کا کام جاری رہا۔ وہ چیف جسٹس تھے اور آر ٹی ایس سسٹم فیل ہوا۔ وہ چیف جسٹس تھے تو پولنگ ایجنٹس کو باہر نکلوا کر اپنی مرضی کی گنتی کروا کے اسمبلیوں کو مسخروں سے بھر دیا۔ ان سب معاملات پر جسٹس ثاقب نثار خاموش رہے۔ اسی طرح جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد عدلیہ سے بڑی توقعات وابستہ ہوئی تھیں۔
کچھ تو خود چوہدری صاحب کے دور میں خاک میں مل گئیں لیکن جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ایک بار پھر عدلیہ کا وقار تیزی سے مجروح ہونے لگا اور آج نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ عدلیہ بحالی کی تحریک کے صف اول کے سپاہی علی احمد کرد عدلیہ کے بارے میں وہ سخت الفاظ استعمال کرنے پر مجبور ہیں جن کے کہنے یا لکھنے کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔
تاہم علی احمد کرد کی خدمت میں عرض ہے کہ جج بھی کبھی وکیل تھا اور ریٹائرمنٹ کے بعد پھر وکیل بن جاتا ہے۔ اس لئےجو کچھ ہورہا ہے اس میں وکلا بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔

Related Articles

Back to top button