چیف جسٹس گلزار کا آڈیو اسکینڈل سے کیا تعلق بنتا ہے؟


اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر اس کے ٹاؤٹ کا کردار ادا کرنے والے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی متنازع ویڈیو سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملے کی انکوائری کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کیونکہ الزامات کا مرکز ایک سابق چیف جسٹس کی ذات ہے جس نے پاکستانی عدلیہ کی ساکھ کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ سپریم کورٹ سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ اس لیے بھی کیا جا رہا ہے کہ اعلیٰ عدالت کے جس بینچ نے نواز شریف کو نااہلی کی سزا سنائی تھی اس میں موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد بھی شامل تھے۔ لہذا ان کی اپنی پوزیشن کلئیر کرنے کے لیے بھی اس معاملے کی عدالتی تحقیقات ضروری ہیں۔
اپوزیشن جماعتیں، میڈیا اور وکلاء برادری کے سینئر ارکان پہلے ہی مطالبہ کر رہے تھے کہ سپریم کورٹ اس معاملے کی انکوائری کرے، لیکن اب ایک ٹی وی چینل کی جانب سے اس آڈیو کے مستند ہونے کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کے بعد اب حکمران جماعت کے لوگ بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ اس کی تحقیقات کرے۔ ان حالات میں اصرار کیا جا رہا یے کہ سپریم کورٹ متحرک ہو اور اس معاملے کا نوٹس لے لیکن حال ہی میں عدلیہ کی آزادی کا دعوی کرنے والے چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد ناگزیر وجوہات کی بنا پر بدستور خاموش ہیں حالانکہ وہ 2018 میں نواز شریف کو نااہلی کی سزا سنانے والے بنچ کا حصہ تھے۔ دوسری جانب حکومتی وزرا اڑ کر ثاقب نثار کے دفاع میں بیان داغ رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سابق چیف جسٹس نے اپنییک ہونے والی گفتگو میں جو کچھ کہا تھا وہ سچ ہے۔ یاد رہے کہ اپنی مبینہ آڈیو ٹیپ میں ثاقب نثار ایک دوسرے جج کو یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ اداروں نے نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنانے کا کہا ہے تاکہ عمران خان کو اقتدار میں لایا جا سکے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نکلنے کا مناسب طریقہ یہی ہے کہ متعلقہ فورم سے اس ویڈیو کی تحقیقات کروائی جائیں کیونکہ سپریم کورٹ کی اپنی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
آزاد منش وکلاء حامد خان، علی احمد کرد، رشید رضوی اور سلمان اکرم راجہ بھی چاہتے ہیں کہ عدلیہ کی توقیر بحال کرنے کے لیے اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ دوسری جانب حکومت نے اسے عدلیہ کیخلاف سازش قرار دیتے ہوئے نون لیگ کی قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اداروں کیخلاف گندی چالیں چل رہی ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ نواز لیگ نے ججوں کے خلاف مہم جلد بازی میں شروع کی اور مناسب انداز سے ہوم ورک نہیں کیا تھا۔ تاہم، نہ تو وزیر اطلاعات اور نہ ہی حکومت نے اب تک اس معاملے پر انکوائری کرانے کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری جانب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو کا جائزہ لینے والی امریکی کمپنی ’’گیریٹ ڈسکوری‘‘ نے تصدیق کی ہے کہ اس آڈیو کو کسی صورت ایڈیٹ نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس، تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے علیم خان کے ملکیتی نجی ٹی وی چینل سماء نے دعویٰ کیا دیا کہ یہ آڈیو ثاقب نثار کے گزشتہ خطبات کو کاپی پیسٹ کرکے تیار کی گئی۔ ٹی وی چینل کی رپورٹ کی وجہ سے آڈیو کے مستند ہونے کے حوالے سے کئی شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔ تاہم، یہ آڈیو لیک کرنے والے احمد نورانی نے سما ٹی وی کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے امریکی کمپنی کی جانب سے ہونے والے فرانزک آڈٹ کا حوالہ دیا اور پاکستانی حکام کو دعوت دی کہ وہ بھی اس آڈیو کا فرانزک آڈٹ کریں۔
اس تنازع کی وجہ سے یہ مطالبات بڑھ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ اس معاملے کی تحقیقات کرے۔  دلچسپ بات ہے کہ ماضی میں بھی ایسے کئی معاملات کو نظر انداز کرکے کوئی انکوائری نہیں کرائی گئی۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج شوکت عزیز صدیقی نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کو آئی ایس آئی چیف فیض حمید نے نواز شریف کو سزا دینے کا کہا تھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ تاہم بجائے کہ شوکت صدیقی کے الزامات کی انکوائری کی جاتی، تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے انھیں مس کنڈکٹ کے الزام میں برطرف کردیا۔ اس کے بعد مریم نواز شریف نے نواز شریف کو سزا دینے والے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو مارکیٹ کی جس میں وہ تسلیم کر رہے تھے کہ انہوں نے نواز شریف کو سزا اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر دی تھی۔ لیکن اس ویڈیو کی بھی کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں اور معاملہ ٹھپ کر دیا گیا۔ حال ہی میں گلگت بلتستان کے سپریم اپیلیٹ کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے حلف نامے میں ثاقب نثار پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے ججوں پر دباؤ ڈال کر نواز اور مریم کو سزا دلوائی، لیکن اس معاملے کی بھی حکومت یا سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی انکوائری نہیں کروائی جا رہی۔ ان حالات میں عدلیہ کا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ کی انکوائری ہو بلکہ جج ارشد ملک کی ویڈیو ٹیپ کی بھی تحقیقات ہوں۔ اس کے علاوہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس رانا شمیم کی جانب سے ثاقب نثار پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیق بھی ضروری ہے کیونکہ انہوں نے انصاف کی سب سے بڑی کرسی پر بیٹھے ہوئے انصاف کا قتل عام کیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملے کا نوٹس لینا اس لیے بھی ضروری ہے تا کہ موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد کی اپنی پوزیشن بھی کلیئر ہو سکے۔

Related Articles

Back to top button