غیرملکی ماڈل کی رہائی عدلیہ کیلئے سوالیہ نشان


سال 2018 میں 8 کلو ہیروئن سمگلنگ کرنے کی کوشش کے الزام پر 8 سال قید کی سزا پانے والی چیک ری پبلک کی ماڈل ٹریسا کی بریت اور رہائی نے پاکستان کے عدالتی نظام پر سوالات اٹھائے دئیے ہیں۔ یاد رہے کہ غیر ملکی ماڈل ٹریسا کو لاہور ایرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا اور 14 ماہ کے ٹرائل کے بعد اسے آٹھ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ نے غیر ملکی ماڈل کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے ناکافی ثبوتوں کی بنا پر اسکی بریت اور رہائی کا حکم دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ ائیر پورٹ پر غیر ملکی ماڈل سے منشیات برآمد کرنے والی سیکیورٹی اہلکار کو شامل تفتیش ہی نہیں کیا گیا جبکہ کیس کو جینوئن ثابت کرنے کے لیے ائیرپورٹ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے بھی مدد نہیں لی گئی۔ اسکے علاوہ جس خاتون کانسٹیبل نے ائیرپورٹ پر ماڈل کی تلاشی لی اور منشیات برآمد کرنے کا دعوی کیا، اسے گواہ ہی نہیں بنایا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے مزید کہا ہے کہ اس معاملے کی بھی تفتیش نہیں کی گئی کہ ماڈل سے مبینہ طور پر برآمد ہونے والی منشیات لاہور ائیر پورٹ سے کسٹم ہاؤس لاہور کیسے پہنچ گئیں؟ عدالت نے کہا کہ کہ ان سب نقائص کے باوجود لڑکی کو سزا کیسے سنا دی گئی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے غیر ملکی ماڈل ٹریسا کی بریت کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ائیرپورٹ پر ماڈل کی تلاشی لینے والی خاتون کانسٹیبل کو گواہ نہ بنا کر استغاثہ نے سب سے اہم گواہی روکی جس کے بغیر جرم ثابت کرنا ممکن نہیں تھا۔ عدالت نے کہا کہ ایسے واقعات میں سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنا سب سے ضروری ہوتا ہے جس سے جھوٹے الزام کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ کے کیس میں ایسے بڑے نقائص کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا استغاثہ ٹریسا کے خلاف منشیات سمگل کرنے کی کوشش کا الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ اس لیے اسے بری کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ چیک ری پبلک کی ماڈل کو 10 جنوری 2018ء میں لاہور ائیرپورٹ سے آٹھ کلو ہیروئن اسمگلنگ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کرنے کا دعوی کیا گیا تھا جس کے بعد وہ جیل میں قید اور پیشیاں بھُگت رہی تھی۔ ملزمہ کے خلاف 9 گواہان نے بیانات ریکارڈ کروائے، غیر ملکی ماڈل کے ساتھ مزید 4 ملزمان کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔ اس کیس کے 3 ملزمان اشتہاری جبکہ شعیب نامی ایک ملزم زیر حراست ہے جسے پہلے ہی بری کر دیا گیا تھا۔ ٹریسا کے کیس کا ٹرائل تقریباً 14 ماہ تک چلا۔ اس دوران پاکستان میں رہتے ہوئے ماڈل نے شلوار قمیض پر دوپٹا اوڑھنا بھی سیکھ لیا تھا۔ کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے تریسا کا کہنا تھا کہ میں نے لاہور کی جیل میں پاکستانی کلچر اور قیدیوں کی زندگی پر دو کتابیں لکھی ہیں اور رہائی پانے کے بعد جلد ہی ان کتابوں کو چھپواؤں گی۔
غیر ملکی ماڈل نے کہا کہ جیل میں ان کی ساتھی خواتین بھی بہت اچھی تھیں جنہوں نے ان کا بہت خیال رکھا۔ ٹریسا نے بتایا کہ اس نے جیل میں پاکستانی قومی زبان کے ساتھ ساتھ سلائی کا کام بھی سیکھ لیا ہے۔

Related Articles

Back to top button