پٹرول ڈیلرز کا ملک گیر ہڑتال کا اعلان، حکومت کی تردید

آل پاکستان پیٹرول پمپس ڈیلرز ایسوسی ایشن(پی پی ڈی اے) نے حکومت کی ڈیلرز کے منافع کا مارجن بڑھانے میں ناکامی پر ملک بھر میں ہڑتال اور تمام اسٹیشنز کل (جمعرات) سےبند رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔
پی پی ڈی اے کی جانب سے جاری بیان میں ہڑتال کب ختم ہوگی، اس بارے میں وضاحت نہیں کی گئی۔ پی پی ڈی اے کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے کہا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ کل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ‘ہڑتال کل صبح 6 بجے سے شروع ہوگی’۔بیان کے مطابق پیٹرول ڈیلرز کا لاہور کے مقامی ہوٹل میں اجلاس ہوا تھا جہاں آل پاکستان پیٹرول پمپس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اطلاعات خواجہ عاطف نے نشان دہی کی تھی کہ حکومت نے تین سال قبل ڈیلرز کے منافع کا مارجن بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔بیان میں کہا گیا کہ ‘وعدہ تاحال پورا نہیں کیا گیا، اب کیونکہ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو ڈیلرز کے لیے اسٹیشنز چلانا مشکل ہو رہا ہے’۔ہڑتال کے حوالے سے کہا گیا کہ ڈیلرز نے اس سے قبل 5 نومبر سے ہڑتال کی کال دی تھی لیکن وزیر توانائی حماد اظہر کی قیادت میں حکومتی ٹیم کی ملاقات کے بعد واپس لی گئی تھی جہاں 3 نومبر کو انہوں نے مطالبات پورے کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
اجلاس میں سیکریٹری پیٹرولیم ڈاکٹر ارشد محمود کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، جس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کی جانب سے 15 نومبر تک منافع کے مارجن میں اضافے کی منظوری کے معاہدے پر عمل درآمد یقینی بناے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کیا گیا تھا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں ‘حکومت نے منافع مارجن 6 فیصد تک بڑھانے پر اتفاق کیا اور فیصلے پر عمل درآمد کے لیے 17 نومبر تک وقت دینے کا کہا گیا تھا’۔انہوں نے کہا کہ ‘ڈیلرز عوام کے مفاد میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی جاری رکھی ہوئی ہے لیکن 17 نومبر تک مطالبات ماننے کے بعد 5 دن گزرنے کے باوجود تاحال حکومتی نمائندے سنجیدہ نظر نہیں آرہےہیں۔
آل پاکستان پیٹرول پمپس ڈیلرز ایسوسی ایشن بہاولپور کے سربراہ محمد یاسین نے اپنے بیان میں تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تمام اسٹیشنز صبح 6 بجے سے بند رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایمبولینس اور ریسکیو 1122 کے علاوہ تمام گاڑیوں کو ہڑتال کے دوران پٹرول فراہم نہیں کیا جائے گا۔ہڑتال کو ‘بقا کی جنگ سے’ تعبیر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت تاحال ایسے مخصوص اقدامات نہیں کیے، جس سےپیٹرول ڈیلرز کے مطالبات پورے ہو رہے ہوں اور اس حوالے سے کوئی نتیجہ بھی نہیں دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ کاروبار بند کرنا ہماری مجبوری بن گئی ہے، پاکستان بھر میں پیٹرول ڈیلرز کے ساتھ معاہدہ تھا کہ منافع کا مارجن بڑھانے کی ضروت ہے جیسا کہ اخراجات میں اضافے کی وجہ سے اسٹیشنز چلانا مشکل ہوچکا ہے۔انہوں نے ڈیلرز پر زور دیا کہ وہ اسٹیشنز کے باہر رکاوٹیں کھڑی کریں، پیٹرولیم مصنوعات جمع کرنا روک دیں اور کسی بھی طرح لوگوں کو پیٹرول کی فراہمی نہ کریں۔محمد یاسین نے کہا کہ بہاولپور میں ہڑتال کی نگرانی کے لیے ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔قبل ازیں آل پاکستان پیٹرول پمپس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اطلاعات نعمان علی بٹ نے ہڑتال کی کال کی تصدیق کی تھی۔
دوسری طرف وزارت پٹرولیم کے ترجمان نے کہا ہے کہ کل ملک بھر میں تمام پی ایس او اور دیگر کمپنیوں کے اپنے پٹرول پمپ کھلے رہیں گے۔
پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کل ہڑتال کے اعلان پر ترجمان وزارت پٹرولیم نے کہا کہ آئل سپلائی کے لیے ٹینکروں کوروانہ کردیا گیا ہے اس لئے کل ملک بھرمیں تمام پٹرول پمپ کھلے رہیں گے۔ترجمان کی جانب سے کہا گیا کہ وزارت توانائی پٹرولیم ڈویژن نے پٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن کو بڑھانے کےلئے کیس ای سی سی بھیجوا دیا ہے، آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور ڈیلرز کے مارجن میں مناسب اضافے کےلئے وزارت کوشاں ہے جبکہ وفاقی کابینہ کے ذریعے سے دس روز میں فیصلے کا امکان ہے۔
وزارت پٹرولیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ آئل سیکٹر کی مختلف تنظیموں نے وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ عوام کو کوئی فکر کرنے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ترجمان پی ایس او کے مطابق کل ملک بھرمیں پی ایس او کے پیٹرول پمپس کھلے رہیں گے، حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں، پیٹرول پمپس پر فیول کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے جبکہ پی ایس او کی سپلائی چین بھرپور طور پر فعال ہے اورپی ایس او عوام کی خدمت کے لیے ہمیشہ کی طرح مستعد ہے۔
آئل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا) نے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرول کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔ترجمان اوگرا کے مطابق صورتحال کی مانیٹرنگ کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، ڈیلرز مارجن میں اضافے سے متعلق چند عناصر پٹرول کی سپلائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تمام آؤٹ لیٹس پر پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے جبکہ تیل سپلائی میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

Related Articles

Back to top button