ثاقب نثار آگے بڑھ کر خود کو سچا ثابت کیوں نہیں کرتے؟

سینئر صحافی انصار عباسی نے کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ، سابق چیف جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار کی متنازعہ آڈیو کا نوٹس لینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے اور نواز لیگ بھی اس ایشو پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے سے گریزاں ہے تو ثاقب نثار کو خود آگے بڑھ کر اپنی مبینہ آڈیو ٹیپ کے فرانزک تجزیہ کا مطالبہ کرنا چاہیے تاکہ اگر وہ سچے ہیں تو سرخرو ہو کر سامنے آ جائیں۔
اہنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو نے سیاسی ہلچل مچاتے ہوئے پاکستانی عدلیہ کے کردار پر سنگین سوال اُٹھا دیے ہیں لیکن عدلیہ کی طرف سے ابھی تک سو موٹو نہیں لیا گیا۔ دوسری جانب اپوزیشن تو کیا، اب تو حکومتی لوگ بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ اس معاملے پر انکوائری کرے۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ اگر عمران خان کے کہنے کے مطابق ججوں کی آڈیو اور ویڈیو ٹیپس اپوزیشن کا ڈرامہ اور سازش کا حصہ ہیں تو اس سازش کو بےنقاب کیا جائے اور سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ ثابت کیا جائے۔ میاں ثاقب نثار یا عدلیہ کے چند دوسرے ججوں نے اگر کوئی ناانصافی کی، زیر سماعت مقدمات پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا تو اُن کا احتساب ہونا چاہیے۔ ابھی تک جو سامنے آ چکا اُس سے عدلیہ کی Repute پر سوال ضرور کھڑے ہوئے۔ان معاملات پر نہ تو آنکھیں بند کی جانی چاہئیں، نہ ہی ان کو اس لیے بھلا دینا چاہیے کہ ان الزامات کا تعلق کسی سابق چیف جسٹس سے ہے۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ ابھی تک ججوں کے حوالے جو الزامات سامنے آئے ہیں، اُن میں زیادہ تر الزام لگانے والے تو عدلیہ کے اپنے لوگ ہیں۔ لہٰذا یہ معاملات بغیر انکوائری کے حل ہونے والے نہیں۔ تحقیقات کیے بغیر ان مسائل کو ایسے ہی چھوڑنے کا مقصد ایک نہ ختم ہونے والی بحث اور الزامات کو ہمیشہ کے لیے کھلا رکھنے کے مترادف ہے۔ ایک طرف اگر حکومت ثاقب نثار کی آڈیو کو جھوٹ قرار دینے کی پالیسی پر گامزن ہے تو دوسری طرف ن لیگ اپنی قیادت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ثبوت کے طور پر اس آڈیو کو ایک بڑی گواہی کے طور پر عوام کے سامنے پیش کر رہی ہے۔ ایک طرف حکومتی وزراء ثاقب نثار کے دفاع میں یک آواز ہیں اور اس آڈیو کو ن لیگ کی عدلیہ اور فوج کو بدنام کرنے کی سازش قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف اب تو پی ڈی ایم نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ وہ آڈیو اسکینڈل کو لے کر اپنی Campaign چلائے گی۔اس آڈیو سے بلاشبہ ن لیگ اور اس کے رہنماؤں کے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے بیانیہ کو تقویت ملی لیکن اگر عدلیہ اس مسئلے پر سوموٹو نہیں لے رہی تو ن لیگ کیوں اس معاملے کو سپریم کورٹ لے کر نہیں جا رہی؟
یہ بھی پڑھیں: غیرملکی ماڈل کی رہائی عدلیہ کیلئے سوالیہ نشان

انصار عباسی کہتے ہیں کہ مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ عدلیہ کو یہ موقع دینا چاہتی ہیں کہ وہ خود آڈیو اور ایسے دوسرے معاملات پر انکوائری کرے اور یہ داغ صاف کرے۔اُنہوں نے کہا کہ اُن کے ساتھ جو ناانصافی کی گئی اُس بارے میں اُن کے پاس بھی ثبوت موجود ہیں جو اُنہوں نے اپنے وکلاء کے ساتھ شیئر کر رکھے ہیں، لیکن کب ان کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اس بارے میں کوئی فیصلہ اُن کے وکلاء ہی کریں گے۔ تاہم انصار عباسی کہتے ہیں کہ میری رائے میں عدلیہ کے علاوہ اگر کسی کو اس آڈیو اور سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے Affidavit پر انکوائری کے لیے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے تو وہ ن لیگ ہے۔ ن لیگ واقعی اگر ان معاملات پر سیاست نہیں کرنا چاہتی تو وٹس ایپ جے آئی ٹی سے لے کر آڈیو لیک تک اُن کے پاس جتنا مواد ہے، اُسے سپریم کورٹ لے کر جائے اور عدلیہ سے درخواست کرے کہ ان معاملات پر انکوائری کی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ ویسے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے لیے بھی یہ مناسب ہے کہ وہ اپنے خلاف لگے الزامات کو لے کر سپریم کورٹ جائیں۔ گلگت بلتستان کے چیف جج نے اگر اُن کے خلاف حلف نامہ دیا ہے تو جواب میں اُن کو اپنا حلف نامہ دینا چاہیے۔ اگر اُن کے خلاف ایک جھوٹی آڈیو چلائی گئی تو اُنہیں متعلقہ صحافتی ادارے اور صحافی کے خلاف امریکا میں کیس کرنا چاہیے۔ ایسا کیوں ہے کہ متعلقہ فریقین سب کے سب اس انتظار میں ہیں کہ کوئی دوسرا ایکشن لے۔ کیا واقعی دال میں کچھ کالا ہے یا ساری دال ہی کالی ہے؟

Related Articles

Back to top button