چلغوزہ سستا ہونے پر تاجر پریشان اور کھانے والے خوش


اس برس سردیوں میں چلغوزوں کی قیمت میں نمایاں کمی نے جہاں مقامی تاجروں کو پریشانی سے دوچار کیا ہے وہیں متوسط طبقے کی خوشی دیدنی ہے کہ وہ سستے ہو جانے والے چلغوزے خوب مزے لے کر کھائیں گے۔ یاد رہے کہ چلغوزہ پچھلے برس پاکستان میں دس ہزار روپے فی کلو تک چلا گیا تھا لیکن اس برس اس کی قیمت ڈھائی ہزار روپے فی کلو تک چل رہی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ چلغوزے کی قیمت میں نمایاں کمی کا بڑا سبب اس برس اچھی فصل ہونے کی وجہ سے منڈی میں اس کی وافر مقدار کا موجود ہونا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس برس چینی تاجروں نے پاکستان کی بجائے افغانستان سے چلغوزا خریدنا شروع کر دیا ہے لہذا پاکستانی چلغوزے کی مارکیٹ گر گئی ہے۔
جنوبی وزیرستان کی میوہ منڈی کے تاجر ملک نیک نے بتایا کہ آزاد نامی میوا منڈی میں افغانستان، وزیرستان، گلگت اور چترال سے چلغوزہ آتا ہے اور یہاں سے پورے پاکستان اور چین سمیت دنیا بھر میں سپلائی کیا جاتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ منڈی دراصل وزیرستان کے چلغوزے کے لیے بنائی گئی تھی اور وہاں سے مال اسی منڈی میں لایا جاتا ہے۔ وزارت صنعت و تجارت کے 2018 کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان کا 90 فیصد چلغوزہ صرف جنوبی وزیرستان میں پیدا ہوتا ہے جس کی سالانہ پیداوار پانچ ہزار میٹرک ٹن تک ہوتی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں شکئی سے انگور اڈہ تک کے پہاڑ چلغوزے کے درختوں سے بھرے پڑے ہیں۔ پورے پاکستان کے 20 فیصد جنگلات پر چلغوزے کے درخت ہیں جبکہ سب سے زیادہ چلغوزے کے درخت خیبر پختونخواہ، بلوچستان، گلگت، آزاد کشمیر اور مری کی پہاڑیوں میں واقع ہیں۔
چلغوزے کی فصل مارکیٹ میں آنے سے پہلے جن مراحل سے گزرتی ہے، اسی میں پہلا مرحلہ چلغوزہ اتارنے کا ہوتا ہے۔ یہ مرحلہ گرم علاقوں میں 20 اگست سے ستمبر کے آخر تک جبکہ سرد علاقوں میں 30 اگست سے ستمبر کے آخر تک چلتا ہے۔ چترال اور چلاس کے کچھ علاقوں میں فصل اتارنے کا وقت اکتوبر تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ جب فصل تیار ہو جاتی ہے تو ان جنگلات کو ٹھیکے پر دے دیا جاتا ہے اور ٹھیکے دار ہزاروں مزدوروں کے ساتھ وزیرستان کے پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں۔ہر موسم میں 20 سے 30 ہزار مزدور چلغوزے کی فصل اتارنے کا کام کرتے ہیں۔ وہ درختوں پر چڑھ کر ہاتھ سے چلغوزوں کی کون اتارتے ہیں اور جہاں مشکل پیش آتی ہے وہاں لاٹھی کا استعمال ہوتا ہیں۔ ان کونوں کو بعد ازاں بوریوں میں بھر کر اور ٹرکوں پر لاد کر بنوں کی آزاد منڈی پہنچایا جاتا ہے۔ منڈی میں مال کو 10، 15 دن رکھا جاتا ہے جس کے بعد کون سے چلغوزہ نکالنے کا عمل شروع ہو جاتا۔ اسے ایک چارپائی پر ڈال کر لاٹھی کی مدد سے پیٹا جاتا ہے یہاں تک کہ چلغوزے نیچے گرنے لگتے ہیں۔چلغوزہ نکلنے کے بعد چین اور ملک بھر سے آنے والے تاجر بولی لگا کر انہیں خرید لیتے ہیں۔
خریداری کے بعد چلغوزے کو بغیر چھلکے کے اور چھلکے سمیت مارکیٹ میں سپلائی کیا جاتا ہے۔ بغیر چھلکے یعنی والا چلغوزہ یعنی صرف مغز وسطیٰ ایشیا اور یورپ میں سپلائی کیا جاتا ہے جبکہ چھلکے والا چلغوزہ زیادہ تر چین اور پاکستانی مارکیٹ میں سپلائی ہو جاتا ہے۔
تاہم جس سال فصل خراب ہو جائے تو چلغوزہ کم پیدا ہوتا ہے اور نتیجتاً اسکی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اسکے برعکس اچھی فصل کی وجہ سے پیداوار زیادہ ہو جائے تو اسکی قیمت گر جاتی ہے۔ چونکہ اس برس مارکیٹ میں چلغوزہ زیادہ پڑا ہے اسی وجہ سے اسکی قیمتیں کم ہیں۔ مارکیٹ میں چلغوزہ زیادہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس سال چین کے تاجروں نے افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد براہ راست وہاں سے چلغوزہ خریدنا شروع کر دیا ہے جس وجہ سے پاکستانی چلغوزے کی مارکیٹ گر گئی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے علاوہ چلغوزہ یورپ، جنوبی امریکہ، یورپ اور ایشیا میں پیدا ہوتا ہے اور اسکا استعمال ہزاروں سال سے چلا آ رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button