میرے کیس میں چیف جسٹس گلزار عدلیہ کی آزادی کا ثبوت دیں


سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر مرضی کا فیصلہ لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام لگانے کے بعد تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے ہاتھوں فارغ ہونے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ انکی برطرفی کے خلاف دائر کردہ اپیل اب عدلیہ کی آزادی ثابت کرنے کے لیے ایک ٹیسٹ کیس میں تبدیل ہو گئی ہے، خصوصا چیف جسٹس گلزار احمد کے اس دعوے کے بعد کہ آج کی عدلیہ کوئی دباؤ نہیں لیتی اور آزادانہ فیصلے کرتی ہے۔ یاد رہے کہ جنرل فیض حمید کے خلاف راولپنڈی بار میں تقریر کرنے کی پاداش میں نکالے جانے والے جسٹس شوکت صدیقی کی اپیل کئی برسوں سے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ روز پہلے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران وکیل رہنما علی احمد کی جانب سے پاکستانی عدلیہ پر لگائے جانے والے الزامات کو رد کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے دعویٰ کیا تھا کہ سپریم کورٹ کسی قسم کا دباؤ نہیں لیتی اور آزادانہ فیصلے کرتی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تین برس سے زائد گزر جانے کے باوجود جسٹس ریٹائرڈ شوکت صدیقی کی اپنی برطرفی کے خلاف دائر کردہ اپیل سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ تاہم جسٹس گلزار کی حالیہ تقریر کے بعد جسٹس شوکت صدیقی نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دو صفحات پر مشتمل درخواست میں کہا ہے کہ چیف جسٹس کے خطاب نے ان کے لیے امید کی کرن پیدا کردی کہ انکے خلاف برطرفی کی اپیل میں وہ عوامل اب اثر انداز نہیں ہوں گے جو اکتوبر 2018 سے زیر التوا ہے۔ انہوں نے حال ہی لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں چیف جسٹس کی تقریر کا حوالہ دیا جس میں گلزار احمد نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا کہ کسی بھی ریاستی ادارے نے اپنی مرضی کے فیصلے دینے کے لیے عدلیہ پر دباؤ ڈالا تھا۔ اپنی درخواست میں سابق جج نے کہا کہ اپنی برطرفی کے خلاف ان کی اپیل اب ’عدلیہ کی آزادی کا اندازہ لگانے کے لیے ایک ٹیسٹ کیس‘ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے اور 11 اکتوبر 2018 کے برطرفی کے نوٹی فکیشن کے خلاف دائر کردہ ان کی اپیل اب بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ اس دوران ان کا حلف نامہ، جو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی سماعت کے دوران ان کے وکیل حامد خان نے پڑھ کر سنایا، عدالتی دفتر نے واپس کر دیا ہے۔ حلف نامے میں سابق جج کی سینئر انٹیلی جنس افسران کے ساتھ ملاقاتوں اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جانب سے نواز شریف کے خلاف مرضی کا فیصلہ دینے کے لیے ڈالے جانے والے دباؤ کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے وفاقی حکومت نے 10 جون 2021 کو آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ ملاقاتوں کے بارے میں شوکت عزیز صدیقی کے دعوؤں کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انکے حلف نامے کی تردید کی تھی۔ یاد رہے کہ 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں اپنی تقریر میں شوکت عزیز صدیقی نے ’ریاستی اداروں‘، خاص طور پر آئی ایس آئی اور فیض حمید پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بنچوں کی تشکیل میں مداخلت کا الزام لگایا تھا۔ سابق جج کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست ان درخواستوں کے سلسلے کی کڑی ہے جس میں انہوں نے اپنے کیس کی جلد سماعت کا متعدد مرتبہ مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سونا مزید 1800 روپے سستا ہوگیا

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے 1980 کے رولز کے رول 6 کے تحت دائر تازہ درخواست میں یاد دلایا گیا ہے کہ رواں سال 11 جون کو پانچ ججوں کے بینچ نے مشاہدہ کیا تھا کہ اس مہینے کے اختتام سے پہلے بینچ کی دستیابی پر معاملہ دوبارہ درج کیا جائے لیکن ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ شوکت صدیقی نے بتایا کہ ان کی جانب سے جلد سماعت کے لیے کئی درخواستیں دائر کی گئیں جب کہ انہوں نے 5 اگست کو ایک مراسلہ بھی لکھا تھا جس میں عدالت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اس معاملے میں طویل التوا انہیں اور ان کے اہل خانہ کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔ اپنی تازہ درخواست میں شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ عوامی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اپیل میں عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں لہذا آپ جب چیف جسٹس گلزار احمد کا دعویٰ کر رہے ہیں کہ عدلیہ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے تو ان کی اپیل کا بھی فوری فیصلہ کیا جائے۔

Related Articles

Back to top button