کیا اوورسیز کو ووٹ کا حق حکومت کے گلے پڑ جائے گا؟


اگرچہ عمران خان حکومت اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق قانون سازی کرکے بھنگڑے ڈال رہی ہے مگر دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ اس حوالے سے ابھی حکومت کے پاس نہ تو کوئی میکنزم ہے اور نہ ہی کوئی روڈ میپ، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ اسے اس معاملے پر لینے کے دینے نہ پڑ جائیں کیونکہ قانون منظور ہونے کے بعد اوورسیز کے ووٹ ڈالنے کا انتظام حکومت کی ذمہ داری بن گیا ہے۔
اوور سیز پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت کا یہ بھی کہنا یے کہ وہ پاکستان صرف چھٹیاں منانے آتے ہیں اور انہیں سیاست یا انتخابی عمل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ دوسری جانب کئی حکومتی شخصیات بھی سمجھتی ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے عجلت میں کی گئی قانون سازی حکومت کے گلے پڑ سکتی ہے کیونکہ اس حوالے سے حکومت نے کسی قسم کا ہوم ورک ہی نہیں کیا۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ پچھلے الیکشن میں صرف ساڑھے سات ہزار اوورسیز پاکستانیوں نے بزریعہ پوسٹل بیلٹ اپنا ووٹ کا حق استعمال کیا تھا۔ خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران زور زبردستی سے پاس کروائے جانے والے تین درجن کے قریب بلوں میں سے ایک اہم ترین بل اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق ہے، تاہم آئی ووٹنگ کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا انبار ہے جبکہ حکومتی سطح پر کوئی جواب دینے کو تیار نہیں۔
17 نومبر کو پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں حکومت نے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے ووٹ ڈالنے کا بل تب منظور کروایا تھا جب سپیکر قومی اسمبلی کے جانبدارانہ رویے کے خلاف اپوزیشن نے واک آؤٹ کر دیا تھا۔ اس وقت آوٹ کے بعد 33 بل پاس کروائے گے لیکن اپوزیشن جماعتوں نے اس قانون سازی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کے پاس اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے حوالے سے کوئی میکنزم اور روڈ میپ بھی موجود نہیں جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ شاید حکومت کو لینے کے دینے پڑ جائیں کیونکہ قانون منظور ہونے کے بعد اوورسیز کے ووٹ ڈالنے کا انتظام حکومت کی زمین داری بن گیا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق حالیہ متنازع قانون سازی کے بعد پوچھا جا رہا ہے کہ یہ کیسے ہو گا، کون ووٹ ڈال سکے گا اور کون نہیں۔ کیا صرف وہ لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے جو دوسرے ممالک میں کام کرنے گئے ہیں اور کچھ سال بعد واپس آ جائیں گے، یا وہ بھی جو دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ کیا وہ دو مختلف ممالک میں مختلف حکومتیں بنانے کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ کیا بیرون ملک رہنے کی کوئی کم از کم مدت مقرر کی جائے گی؟ کیا ایسا کرنے کے لیے کوئی آئینی تبدیلیاں کرنا ہوں گی یا حکومت ان کے بغیر ہی ایسا کروا لے گی۔
اگر دیکھا جائے تو جتنا غور کریں اتنے ہی زیادہ سوالات ابھرتے ہیں اور معاملہ اتنا سیدھا نہیں لگتا جتنا کہ حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سمندر پار پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد مشرقِ وسطیٰ میں ہے اور ان میں بھی بڑی تعداد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں رہتی ہے۔ تقریباً پانچ ملین کے قریب پاکستانی مشرق وسطی کے مختلف ممالک میں بستے ہیں، جبکہ یورپ میں 21 لاکھ سے زیادہ جبکہ شمالی امریکہ میں یہ تعداد ساڑھ تیرہ لاکھ سے زیادہ ہے۔ تین لاکھ کے قریب افریقہ، دو لاکھ سے ذرا زیادہ ایشیا اور مشرقِ بعید اور ایک لاکھ سے کچھ اور اوپر آسٹریلیا میں رہتے ہیں۔
اگرچہ زیادہ تر سمندر پار پاکستانی ووٹ کا حق ملنے پر خوش نظر آ رہے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو کہ سمجھتے ہیں یہ سب غلط ہے، اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ’ووٹ پیرس میں ڈالا جائے اور نتیجہ ملتان میں نکلے۔ بی بی سی نے برطانیہ میں مقیم چند پاکستانی نژاد شہریوں سے یہی جاننے کی کوشش کی۔ فیصل مخدومی لندن میں ایک انویسٹمنٹ بینکر ہیں اور وہاں 17 سال سے مقیم ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ اچھا ہے لیکن اس کا انہیں ذاتی طور پر اس کے علاوہ اور کوئی فائدہ نہیں ہے کہ جب میں اپنے ملک جاؤں تو وہ ذرا بہتر حالت میں ہو۔ اس میں ترقی ہو رہی ہو۔ کیونکہ پاکستان اب ہمارا ’ہالیڈے ہوم‘ ہے، اپنے ’ہالیڈے ہوم‘ کو بھی اسی طرح صاف ستھرا اور سہولیات سے بھرپور دیکھنا چاہتے ہیں جس طرح آپ ان ممالک کو دیکھتے ہیں جہاں آپ رہ رہے ہیں۔ آپ پاکستان میں بھی ویسا ہی چاہتے ہیں۔
لیکن لندن ہی میں رہنے والی شاعرہ طلعت گل اس موقف سے اتفاق نہیں کرتیں۔ وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کتنے پاکستانی ہیں جو پاکستان کی سیاست میں حصہ لیتے ہیں یا انھیں اسمیں دلچسپی ہے۔ طلعت کے بقول میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کو تو پاکستان کے صدر تک کا نام نہیں معلوم ہو گا۔ طلعت سمجھتی ہیں کہ ایسا کر کے حکومت نے ملک میں ذرِمبادلہ بھیجنے والوں کو ایک طرح سے خوش کرنے کا طریقہ ڈھونڈا ہے، یہ ایک طرح کی رشوت ہے۔ مجھے بتائیں کہ میں جو پاکستان میں رہتی ہی نہیں، مجھے وہاں ووٹ ڈالنے سے کیا فائدہ ہو گا؟ کچھ بھی نہیں۔ یہ صرف لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کا ایک حکومتی شعبدہ ہے۔
سماجی کارکن تنویر زمان خان گذشتہ 34 سال سے لندن میں رہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کام کی اس وقت کیا ضرورت پڑ گئی جب پاکستان کو کہیں زیادہ بڑے مسائل درپیش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مغربی ممالک میں اورسیز شہریوں کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے ’لیکن کتنی تعداد میں ان ممالک کے لوگ دوسرے ممالک میں رہتے ہیں؟ بہت کم۔‘وہ کہتے ہیں ’جو لوگ ادھر رہتے ہیں، خصوصاً یورپ میں، وہ اور ان کے بچے یہیں کے ماحول کا حصہ ہیں، ان کا پاکستان کی سیاست بلکہ کہیں کہیں تو ثقافت سے بھی کچھ لینا دینا نہیں۔ وہ تیس تیس چالیس چالیس سال سے ادھر رہ رہے ہیں اور شاذو نادر ہی پاکستان جاتے ہیں۔ پاکستان میں ووٹ ڈالنا صرف ان کا حق ہے جو وہاں رہتے ہیں اور جو سیاست اور ملکی پالیسیوں سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٍچیمپئنز ٹرافی: کسی کوپاکستان میں پریشانی نہیں ہوگی

اس بحث سے ہٹ کر سیاسی مبصرین کے نزدیک اہم ترین سوال یہ ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے انتخابی عمل کے انعقاد کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اور اسے کون ڈیزائن کرے گا، الیکشن کمیشن یا پھر پارلیمان؟ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی یعنی پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ابھی تک پارلیمان میں پیش کیے گئے بل میں سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ووٹنگ کے کسی ایک نظام کی وضاحت نہیں کی گئی۔ ممکنہ طور پر انٹرنیٹ ووٹنگ ہو گی لیکن سپریم کورٹ کی ہدایت پر مقرر کردہ ماہرین کی ایک ٹاسک فورس نے ووٹوں کی رازداری اور تحفظ سے متعلق خدشات کی وجہ سے آئی ووٹنگ کی حمایت نہیں کی جس کے بعد سپریم کورٹ نے یہ خیال ترک کر دیا۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ ووٹنگ ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے اور اگلے دو تین برسوں میں شاید زیادہ محفوظ ہو جائے۔ ایک اور امکان پوسٹل بیلٹ کا ہے لیکن عام طور پر سیاسی جماعتیں محسوس کرتی ہیں کہ پوسٹل بیلٹ میں ہیرا پھیری کا کافی امکان ہے۔ انٹرنیٹ ووٹنگ یا آئی ووٹنگ نظام کے حوالے سے احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ یہ ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے جس میں بہت سی حدود اور کمزوریاں ہیں۔ پہلا یہ کہ ووٹرز کے پاس ای میل ایڈریس ہونا چاہیے جبکہ ہمارے اوورسیز پاکستانیوں کا ایک بڑا حصہ مزدوری کرتا ہے خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں اور وہ ای میلز تک استعمال نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ 2018 کے ضمنی انتخابات میں صرف ایک فیصد اہل اوورسیز ووٹرز ہی 35 حلقوں میں پائلٹ ٹیسٹ ووٹنگ کے لیے اندراج کر سکے۔ ایک اور بڑا خطرہ ہیکنگ کا ہے۔ رازداری کو یقینی بنانا اور جبر سے پاک ووٹنگ ایک اور بڑا چیلنج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی بڑا ملک آئی ووٹنگ استعمال نہیں کرتا۔ ایسٹونیا واحد ملک ہے جو آئی ووٹنگ کا استعمال کرتا ہے لیکن اس کے صرف 13 لاکھ کے قریب ووٹرز ہیں۔

Related Articles

Back to top button