نئے پاکستان میں مہنگا پٹرول ایک نایاب آئٹم کیسے بن گیا؟


2018 کے الیکشن کے بعد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کو سونپا جانے والا نیا پاکستان اس وقت نت نئے مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں. کپتان حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پے در پے اضافے کے باعث پٹرول پہلے ہی عوام کی قوت خرید سے باہر ہوتا جا رہا تھا لیکن اب سونے پر سہاگا یہ کہ پٹرول پورے ملک میں نایاب ہو چکا ہے اور پمپس پر اس نایاب آئٹم کے حصول کے لیے لوگوں کی لمبی قطاریں لگ چکی ہیں۔
ملک بھر میں پٹرول کی عدم دستیابی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آل پاکستان پیٹرول پمپ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے احتجاجاً ملک بھر میں اکا دکا مقامات کے سوا تمام پیٹرول پمپس بند کر دیے ہیں جس کے باعث عوام سخت اذیت کا شکار ہیں۔ خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے ڈیلرز کے مارجن میں 6 فیصد اضافہ کرنے میں ناکامی پر پیٹرول ڈیلرز نے 25 نومبر کو پمپس بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ متوقع ہڑتال سے پہلے ہی ملک کے مختلف شہروں میں پیٹرول پمپس پر طویل قطاریں لگ چکی ہیں اور گھنٹوں انتظار کے بعد شہری پیٹرول بھرواتے نظر آئے۔
وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے پیٹرول پمپس مالکان سے اپیل کی ہے کہ وہ عوام کو درپیش مشکلات کے باعث اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ انھوں نے پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کو یقین دلایا ہے کہ ان کے مطالبے یعنی پیٹرول پر ملنے والا منافع کے مارجن میں اضافے کی سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی کو ارسال کر دی گئی ہے جس پر آئندہ اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پیٹرول پمپس کی ہڑتال کی آڑ میں کچھ گروپس منافع کے مارجن کی صورت میں نو روپے کا اضافہ چاہتے ہیں مگر چند کمپنیوں کو نوازنے کے لیے اتنے بڑے اضافے کی منظوری نہیں دی جا سکتی۔ انھوں نے کہا کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ’ناجائز مطالبات نہیں مانے جائیں گے‘ تاہم جائز مطالبات پر ضرور غور کیا جائے گا۔
وزارت توانائی کے مطابق اس ہڑتال کے باوجود ملک بھر میں پی ایس او، گو، ہیسکول اور شیل کمپنیوں کے پیٹرول پمپ کھلے رہیں گے۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ حکومت وعدوں کے باوجود پیٹرول کی فروخت پر اُن کا منافع بڑھانے میں ناکام رہی ہے جس کے باعث وہ ہڑتال پر مجبور ہیں۔ دراصل پیٹرولیم مصنوعات پر ’ڈیلر مارجن‘ پیٹرول پمپ چلانے والے انفرادی شخص یا کمپنی کا فی لیٹر پر نفع ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر حکومتی ٹیکسوں کے علاوہ مختلف قسم کے دوسرے ٹیکس عائد ہیں جن میں ڈیلرز کا مارجن یا حصہ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور ان لینڈ فریٹ ایکوالایزیشن شامل ہیں۔
اس وقت پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 125.27 روپے فی لیٹر ہے، جس کے بعد اس میں 9.62 روپے پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی کی مد میں، چار روپے پانچ پیسے ان لینڈ فریٹ مارجن کی مد میں، او ایم سیز کا 2.97 روپے مارجن اور ڈیلرز کا 3.91 روپے کا مارجن یعنی نفع شامل ہوتا ہے۔ ان سب کو ملا کا ایک عام صارف کو پیٹرول 145.82 روپے فی لیٹر ملتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں صارفین اس وقت ملکی تاریخ میں بلند ترین قیمت پر تیل کی مصنوعات خرید رہے ہیں۔ ملک میں ڈیزل و پیٹرول کی قیتمیں اس وقت 142.62 روپے اور 145.82 روپے فی لیٹر کے حساب سے بالترتیب صارفین کو فراہم کی جاتی ہیں۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کو حکومت نے صارفین پر منتقل کیا جس میں ملکی کرنسی کی کم قدر نے بھی قیمت بڑھانے میں کردار ادا کیا کیونکہ پاکستان اپنی ضروریات کے لیے 80 فیصد تیل کی مصنوعات درآمد کرتا ہے جو ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے صارفین کے لیے مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کی آڈیو سارا ڈرامہ ہے
دوسری جانب ڈیلر مارجن میں اضافے کا مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت خود آئی ایم ایف شرائط کے تحت پیٹرولیم لیوی کو بڑھانے جا رہی ہے اور مشیر خزانہ کے مطابق اسے ماہانہ چار روپے فی لیٹر بڑھانا پڑے گا تاکہ اسے تیس روپے فی لیٹر تک کی حد تک لایا جا سکے۔ اگر حکومت ڈیلرز کے مطالبے پر ان کے مارجن میں اضافہ کرتی ہے تو لازمی طور پر یہ صارفین سے وصول کیا جائے گا لہذا پٹرول اور مہنگا ہو جائے گا گا۔ اگر حکومت چھ فیصد کے مطالبے کو مان لیتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک لیٹر پر ڈیلر مارجن آٹھ روپے سے اوپر ہو گا جس کا اضافی بوجھ صارفین پر پڑے گا۔

Related Articles

Back to top button