موٹاپے کا شکار لوگ اپنی توند کیسے روک سکتے ہیں؟


بڑھتی توند سے نجات حاصل کرنا موٹاپے کا شکار ہر آدمی کی خواہش ہوتی ہے لیکن وہ اکثر ایسا کر نہیں پاتے۔ آج ہم آپ کو توند سے چھٹکارا حاصل کرنے کے طریقے بتائیں گے۔ دنیا بھر میں کروڑوں افراد بڑھتی توند کا سامنا کرتے ہیں، ڈائٹنگ سے لے کر جم جانے تک متعدد طریقوں سے لوگ توند سے نجات پانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ جسم میں موجود اضافی چربی کو گھلایا جا سکے۔

طبی ماہرین کے مطابق متوازن غذا اور ورزش کو معمول بنانا توند کی چربی گھٹانے کا سب سے موثر طریقہ ہے تاہم کچھ غذائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو اس چربی کو بڑھانے کا باعث بنتی ہیں اور اکثر ان کو دیکھ کر ہاتھ کو روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔ سب سے پہلے تو آپ اپنی زندگی میں سے کولڈ ڈرنکس کو نکال دیجئے چاہے وہ چاہے ڈائٹ ڈرنکس ہی کیوں نہ ہو۔ ایک عام بوتل میں 250 کیلوریز ہوتی ہیں۔ بوتل چینی کو آپ کے جسم کا حصہ بنا دیتی ہے اور توند بڑھا دیتی ہے۔ موٹاپے کا شکار لوگ ایک بات سمجھ لیں کہ ڈائٹ ڈرنکس میں بھی ریگولر ڈرنکس کی طرح سینکڑوں کیلوریز موجود ہوتی ہیں جنہیں جلانے کے لئے آپ کو ایکسرسائز کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی طرح اگر آپ کے لیے مزیدار بیکری آئٹمز دیکھ کر ہاتھ روکنا مشکل ہوتا ہے تو جان لیں کہ ان کو زیادہ کھانا توند کے حجم میں اضافے کا باعث بنتا ہے، عام طور پر کسی بھی پیسٹری یا ڈونٹ میں 260 کیلوریز ہوتی ہیں جن کو جلانے کے لیے چہل قدمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح آئس کریم دیکھ کر کس کا دل کھانے کو نہیں چاہے گا مگر یاد رکھیں کہ اس کے آدھے کپ میں بھی 230 کیلوریز ہوتی ہیں اور وہ بھی سادہ ونیلا آئس کریم میں۔ اس کے علاوہ آپ کو روٹی اور چاول سے بھی پرہیز کرنا پڑے گا لیکن اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو براؤن آٹے والی ایک روٹی کھائیں جب کہ چاولوں میں پلاؤ اور بریانی کی بجائے پچ نکلے ہوئے سفید چاول استعمال کریں۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ چپس کے ایک پیکٹ میں 600 کیلوریز ہوتی ہیں جو کہ چکنائی کی صورت میں آپکے جسم کا حصہ بنتی ہیں اور توند نکلنے کا امکان بڑھتا ہے۔

اگر آپ مٹن یا بیف کا سرخ گوشت شوق سے اور زیادہ مقدار میں کھاتے ہیں تو جان لیں کہ اس میں کیلوریز مرغی کے گوشت سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح پیزا کے ایک ٹکڑے میں 300 سے زائد کیلوریز ہوتی ہیں، جو جسم میں چربی کی مقدار اور توند، دونوں کر برھاتی ہیں۔ ایک برگر میں کیلوریز کی مقدار ایک ہزار سے زائد ہوتی یے جس کا نتیجہ توند کی شکل میں ہی نکلتا ہے۔ اسی طرح فرنچ فرائیز کھانے سے لگ بھگ اتنی ہی کیلوریز جسم کا حصہ بن سکتی ہیں جتنی ایک برگر کھانے سے بنتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چلغوزہ سستا ہونے پر تاجر پریشان اور کھانے والے خوش
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ کہ فروزن گوشت کے پکوانوں میں کیلوریز، نمک اور ٹرانس فیٹ کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جوکہ توند کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ اگر آپ اپنی پلیٹ بھرنے کی خواہش پر قابو نہیں پا سکتے تو کم از کم صحت مند کھانوں کا انتخاب کریں یعنی سلاد اور سبزی کو ترجیح دیں جبکہ چکنائی والی اشیا سے گریز کریں۔

Related Articles

Back to top button