احمد نورانی کی فیملی پر حملہ کس نے کروایا؟


سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو لیک کرنے والے سینئر صحافی احمد نورانی کی اہلیہ عنبرین فاطمہ اور ان کے بچوں پر 25 نومبر کی رات لاہور میں نامعلوم افراد نے حملہ کیا تاہم کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا اور انکا خاندان محفوظ رہا۔ یاد رہے کہ احمد نورانی کی اہلیہ عنبرین فاطمہ خود بھی صحافی ہیں۔ لاہور پولیس نے حملے کی ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے جس کا حسب سابق نتیجہ برآمد ہونے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ ایسے حملوں میں ملوث افراد نامعلوم ہی رہتے ہیں۔
عنبرین فاطمہ نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے تاج پورہ کے علاقے میں ان کی گاڑی پر حملہ کیا اور اس کی ونڈ سکرین توڑ دی۔ حملہ تب ہوا جب عنبرین اپنے بچوں اور بہن کے ہمراہ گاڑی میں گھر سے فورٹریس سٹیڈیم جانے کے لیے نکلیں تاکہ بچوں کو بہلا سکیں۔ ابھی وہ اپنے گھر سے نکل کر ایک دوسری گلی میں پہنچی ہی تھیں کہ کچھ نامعلوم افراد نے اندھیرے میں ان کی گاڑی پر حملہ کر دیا اور ونڈ سکرین توڑ دی۔ عنبرین فاطمہ کا کہنا ہے کہ انکی بہن نے دونوں بچوں کو سیٹوں کے نیچے چھپا دیا اور یوں وہ محفوظ رہے۔ ان کا خیال ہے کہ حملہ آور وہی لوگ تھے جو احمد نورانی کے طریقہ صحافت سے نالاں ہیں۔
یاد رہے کہ احمد نورانی اس وقت امریکہ میں ہیں جبکہ ان کا خاندان پاکستان میں رہتا ہے۔ لاہور پولیس نے نامعلوم حملہ آوروں کیخلاف مقدمہ نمبر 2231/2021 درج کر لیا ہے۔ عنبرین فاطمہ کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں، اس کے باوجود انکی فیملی پر جان لیوا حملہ ہوا، جو قابل مذمت ہے اور ساری دنیا جانتی ہے کہ ایسے حملوں کے پیچھے کون سے عناصر کا ہاتھ ہوتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان فیڈرل یو نین آف جرنلسٹس نے احمد نورانی کی اہلیہ اور بچوں پر نامعلوم افراد کی جانب سے کئے جانے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے اکتوبر 2017 میں احمد نورانی پر بھی اسلام آباد میں حملہ کیا گیا تھا جب وہ اپنی گاڑی میں جا رہے تھے۔ نورانی کو سر پر شدید چوٹیں آئی تھیں۔ یاد رہے کہ نورانی شعبہ صحافت میں اپنی تحقیقاتی رپورٹنگ اور بے لاگ اظہار رائے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 27 اکتوبر 2017 کے روز اسلام آباد میں اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ اچانک تین موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد نے ان کی کار کے آگے آ کر انہیں رکنے پر مجبور کر دیا۔ حملہ آوروں نے انہیں گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور پھر ڈنڈوں سے انہیں پیٹنا شروع کر دیا۔حملے کے بعد نامعلوم افراد احمد نورانی کو زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اپنی فیملی پر حملے کے بعد ردعمل دیتے ہوئے احمد نورانی نے کہا ہے کہ ریاستی اور حکومتی ادارے انہیں ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرا کر اپنے مشن سے نہیں ہٹا سکتے اور وہ اپنا کام اسی طرح جاری رکھیں گے۔

Related Articles

Back to top button