حکومت مخالف کامیڈی شو قتل کی دھمکیوں پر بند کیا


اداکارہ عفت عمر نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے یوٹیوب پر چلنے والا اپنا پولیٹیکل کامیڈی شو قتل اور ریپ کی دھمکیاں ملنے کے بعد بند کیا کیونکہ اس میں وہ عمران خان، انکی حکومت اور انکے ساتھیوں یوتھیوں پر شدید تنقید کیا کرتی تھیں۔ انکا کہنا تھا کہ عمران کا دور حکومت جنرل ضیاء الحق کے دور سے بھی بدتر ہے۔ عفت عمر نے یہ باتیں اداکار نعمان اعجاز کے ٹی وی شو میں کیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انکا گلوکار علی ظفر کے ساتھ کوئی ذاتی جھگڑا نہیں لیکن وہ یہ سمجھتی ہیں کہ میشا شفیع کے ساتھ زیادتی ہوئی اور علی کو ان سے پہلے دن ہی معافی مانگ لینی چاہیے تھی تاکہ بات اتنی نہ بڑھتی۔ عفت عمر نے کہا کہ علی ظفر نے کبھی انکے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی اور وہ اب بھی انکی عزت کرتی ہیں لیکن انہیں اپنے کیے پر میشا سے معذرت کرلینی چاہیے۔ پروگرام میں علی ظفر سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر عفت عمر نے کہا کہ گلوکار نے ان کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا، لیکن وہ میشا کی بات پر یقین کرتی ہیں۔ اداکارہ کے مطابق جب میشا نے کہا کہ علی ظفر نے ان کے ساتھ غلط کیا ہے تو گلوکار کو چاہیے تھا کہ وہ پہلے دن ہی معافی مانگ کر معاملے کو سلجھا دیتے۔ عفت کا کہنا تھا کہ علی نے غلطی ماننے کے بجائے یہ دعویٰ کیا کہ میشا جھوٹ بول رہی ہیں، جسکے بعد تاحال کیس چل رہا ہے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ بھی شوبز انڈسٹری کا حصہ ہیں اور ان سمیت ہر کسی کو پتا ہے کہ کون سچ اور کون جھوٹ بول رہا ہے۔

عفت نے بتایا کہ انہوں نے اپنا شوبز کیرئیر جنرل ضیاء کے دور میں شروع کیا اور نعمان اعجاز کے ساتھ پہلا ڈرامہ بھی کیا۔ تاہم کیریئر کے عروج پر انہوں نے شادی کا فیصلہ کرکے اداکاری چھوڑ دی۔ اداکارہ کے مطابق 24 سال کی عمر میں ان کے اپنے شوہر سے تعلقات استوار ہوئے تھے اور 26 سال کی عمر میں انہوں نے شادی کر لی، جس کے بعد انکی ایک بیٹی ہوئی اور اس کی پرورش کے لیے انہوں نے شوبز سے طویل وقفہ لے لیا۔ عفت نے بتایا کہ اب ان کی بیٹی کی عمر 21 برس ہو چکی ہے اور وہ بیرون ملک زیر تعلیم ہیں۔

عفت عمر کا کہنا تھا کہ کیریئر کے عروج پر اداکاری سے دور ہونے کے بعد شادی اور بچی کو وقت دینے کی وجہ سے انہیں شوبز میں واپسی کرنے میں دیر لگی اور پھر انہوں نے معاون کرداروں یا والدہ کے کردار ادا کرنا شروع کیے۔ اداکارہ نے کہا کہ والدہ اور بہن کے کردار کرنے کے بعد انہوں نے پھر اداکاری کو خیرباد کہا اور اب وہ مستقل بنیادوں پر شوبز کو چھوڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔انہوں نے آجکل کے ٹی وی ڈراموں اور انکی کہانیوں کو فضول قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کل کے ڈرامے ان کے معیار کے مطابق نہیں، اس لیے وہ اب اداکاری سے کنارہ کشی کا سوچ رہی ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ اداکاری کے بعد انہوں نے یوٹیوب پر مزاحیہ پولیٹیکل کامیڈی شو شروع کیا مگر اس پر بھی یوتھیوں کو۔آگ۔لگ گئی اور انہیں قتل سمیت ریپ کی دھمکیاں دی گئیں جس کے بعد انھوں نے یہ پروگرام بھی چھوڑ دیا۔ انہوں نے سیاست پر بات کرتے ہوئے تحریک انصاف حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ان کا دور حکمرانی جنرل ضیاء سے بھی بدتر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مالی سال 22 میں 5 فیصد تک جی ڈی پی نمو متوقع
عفت عمر نے اعتراف کیا کہ عمران خان کے آنے سے واحد تبدیلی یہ آئی ہے کہ پہلے جن لوگوں کو سیاست نہیں آتی تھی یا جو بے وقوف تھے، اب وہ بھی سیاست کرنے لگے ہیں اور انہیں یہ یقین ہوچکا ہے کہ عمران خان کی باتوں سے تبدیلی آکر رہے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ سیاست میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی بھی سیاسی جماعت کو سپورٹ کرتی ہیں۔ عفت عمر نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا کی ہر پوسٹ سوچ سمجھ کر شیئر کرتی ہیں، تاہم علی ظفر سے متعلق پوسٹ کرنے میں ان سے تھوڑی سی غلطی ہوگئی، جس کی سزا تاحال انہیں مل رہی ہے۔ اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے علی ظفر کے معاملے پر کی گئی پوسٹ میں ’الزام یا ملزم‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا، جس وجہ سے آج تک مشکل میں پھنسی ہوئی ہیں۔

Related Articles

Back to top button