نیب چیئرمین نے اپنے جھوٹے دعوؤں کا بھانڈا خود پھوڑ دیا

حال ہی میں 800 ارب روپے ریکور کر کے قومی خزانے میں جمع کروانے کا دعویٰ کرنے والے نیب کے متنازعہ چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اب کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق اپنے پچھلے مؤقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے یہ بیان داغ دیا ہے کہ نیب کرنسی کی صورت میں رقم ریکور نہیں کرتا۔
یاد رہے کہ جاوید اقبال کی جانب سے پچھلے تین سال کے دوران مسلسل نیب کی مثالی کارکردگی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ قومی احتساب بیورو 800 ارب روپے ریکور کر کے قومی خزانے میں جمع کروا چکا ہے۔ تاہم اب نیب چیئرمین کو اپنے اس دعوے سے اس لئے یوٹرن لینا پڑا ہے کہ وزارت خزانہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں نیب کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک صرف 6 ارب 50 کروڑ روپے ہی قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں۔
وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا تھا کہ باقی 815 ارب روپے کہاں گئے اس کے بارے میں نیب سے ہوچھا جائے، وزارت خزانہ کو اس کا علم نہیں ہے۔ وزارت خزانہ کے اس انکشاف کے بعد قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی برائے خزانہ جسٹس جاوید اقبال کو وضاحت مانگنے کے لیے کئی مرتبہ طلب کر چکی ہے لیکن وہ پیش ہونے سے انکاری ہیں۔ اب آخری وارننگ ملنے کے بعد انھوں نے یہ پیغام بھجوایا ہے کہ وہ 7 دسمبر کو کمیٹی کے سامنے پیش ہو جائیں گے۔
اب جب کہ جاوید اقبال پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں تو انہیں اپنے 800 ارب روپے کی ریکوری کے دعوے کی وضاحت بھی پیش کرنا ہوگی چنانچہ انہوں نے یو ٹرن لیتے ہوئے اپنا پرانا موقف فوری طور بدل لیا ہے اور اب فرماتے ہیں کہ نیب نقد رقم کی صورت میں ریکوری نہیں کرتا۔ 25 نومبر کو لاہور میں نیب کی جانب سے کی جانے والی ریکوریز کی ادائیگی سے متعلق تقریب میں خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ کا 800 ارب روپے نہ ملنے کا موقف سامنے آنے کے بعد نیب کے مخالفین کی جانب سے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نیب چیئرمین چیف جسٹس گلزار کا آڈیو اسکینڈل سے کیا تعلق بنتا ہے؟
چئیرمین نیب کا کہنا تھا کہ پوچھا جا رہا ہے کہ نیب جو رقم ریکور کرتا ہے وہ کہاں جاتی ہے، لہٰذا میں یہ بتانا چاہوں گا کہ نیب کرنسی کی صورت میں رقم ریکور نہیں کرتا، نیب نے اربوں روپوں کی اراضی کے قبضے چھڑوائے اور مستحقین کو فراہم کیے۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کا تین سال کا آڈٹ ہوچکا ہے، جس میں کوئی خرد برد سامنے نہیں آئی۔ جاوید اقبال نے کہا کہ کچھ لوگ نیب کو متنازع بنا رہے ہیں لہذا بات کا بتنگڑ بنا کر کر ایک نیا تنازعہ کھڑا کیا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے 3 نومبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چئیرمین سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت ہوا جس میں وزارت خزانہ کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نیب چئیرمین کے دعوے کے مطابق انکے ادارے نے مشرف دور میں اپنے قیام سے اب تک 821 ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ وزارت خزانہ کو نیب سے آج دن تک صرف 6 ارب 50 کروڑ روپے ملے ہیں اور باقی کے 815 ارب روپے کی ریکوری سے متعلق وزارت خزانہ کو کوئی علم نہیں۔ اس بارے میں نیب سے پوچھا جائے۔

Related Articles

Back to top button