250 پاکستانی پروفیسرز کونسی چوری کرتے پکڑے گئے


پاکستان میں علمی تحقیق کے حوالے سے عالمی معیار کے قواعد و ضوابط متعارف کروائے جانے کے باوجود پلیجر ازم یعنی سرقہ نویسی کا قبیح رجحان ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ آئے روز ملک کے اعلی تعلیمی اداروں سے منسلک پروفیسر حضرات کے تحقیقی مقالوں کی اصلیت سامنے آ رہی ہے جس کے باعث متعلقہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ ملک کی بھی بدنامی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسے پروفیسرز کو تعلیمی دہشت گرد کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعے میں 250 پاکستانی پروفیسرز سرقہ نویسی کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔

لہذا اس وقت پاکستان میں اعلی تعلیم کا ایک بڑا المیہ سرقہ نویسی ہے یعنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے لئے کسی کا مقالہ چوری کرنا اور پھر بطور استاد ترقی پانے کے لئے کسی کے تحقیقی کام جو اپنے نام سے چھپوانا۔ ماہرین تعلیم کا ماننا ہے کہ سال 2000ء سے پہلے جن لوگوں نے بھی پی ایچ ڈیز کیں وہ سارے سرقہ نویس ہیں کیونکہ اس سے پہلے سرقہ نویسی کا کوئی نظریہ ہی نہیں تھا اور نہ ہی علمی سرقے کا سراغ لگانے کے لیے سافٹ ویئر دستیاب تھے۔ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد پلیجر ازم یعنی علمی چوری یا سرقہ پکڑنے کے حوالے سے عالمی معیار کی پالیسی بنائی گئی جس کے بعد ملک کے بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز تک سرقہ نویسی کے جرم میں رنگوں ہاتھوں پکڑے گئے۔ بلاشبہ سرقہ نویسی کے حمام میں ایسے سینکڑوں پی ایچ ڈی پروفیسرز ننگے ہو چکے ہیں، جو تحقیقی مقالے لکھنے کے لیے محنت اور جستجو کرنے کی بجائے صرف اپنا نام چھپوانے اور ترقی کے لیے اپنی پبلیکشنز بڑھانے کی خاطر ملک کی بدنامی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

اہسے ہی ایک تازہ واقعے میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے سینکڑوں پروفیسرز سرقہ نویسی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ سرقہ نویسی کی اس سکینڈل میں شعبہ ریاضی کے اساتذہ نے تو حد ہی کر دی۔ مجموعی طور پر 251 تحقیقی مقالوں میں سرقہ نویسی پکڑی گئی۔ ان مقالوں میں 30 مقالے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے پروفیسرز نے شائع کئے، چنانچہ اس افسوسناک واقعے سے 14000 ہزار طلبہ اور ایک ہزار سے زائد فیکلٹی اور ملازمین کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ملک کی بدنامی الگ ہوئی۔

پاکستانی پروفیسرز کی سرقہ نویسی کے متعلق نیویارک کے ایک معروف ادارے سینٹر فار ریسرچ سٹڈیز نے تفصیلی رپورٹ تیار کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی بڑی جامعات کے پروفیسر نے 238 مقالہ جات سرقہ کیے ہیں۔ سرقہ کرنے والوں میں نسٹ، کامسیٹ، آغا خان، اآئی بی اے، کراچی یونیورسٹی، پشاور یونیورسٹی، اور سندھ یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران شامل ہیں۔ ہری پور یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر خالد زمان کے سولہ تحقیقی مقالے سرقہ نکلے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پٹرولیم مافیا کس طرح پاکستانی عوام کو لوٹ رہا ہے؟
ناقدین کا کہنا ہے کہ انسانی فطرت ازل سے ابد تک ایک ہی رہے گی۔ انسان جہاں اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے تخلیقی کاموں میں پیش پیش ہے، وہیں تخریبی کاموں میں بھی پیچھے نہیں اور اسی تخریب کاری کی ایک مثال سرقہ نویسی بھی کہہ سکتے ہیں جس کو تعلیمی دہشت گردی کہنا شاید زیادہ مناسب ہوگا کیوں کہ یہ لوگ خیالات پر ڈاکا ڈالتے ہیں جو کسی بھی طور ٹھیک نہیں ہے۔ ایسے اساتذہ جو سرقہ نویسی جیسی گھٹیا حرکتوں میں ملوث ہیں اور انٹرویو وغیرہ میں بیٹھ کر نئی نسل سے اوٹ پٹانگ سوالات کرتے ہیں لیکن تحقیق کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی اپنی کوئی ساکھ نہیں ہے۔

Related Articles

Back to top button