کپتان حکومت نے سٹاک مارکیٹ کا بھی جنازہ نکال دیا


وزیراعظم عمران خان کی تبدیلی سرکار نے نے ملک کے تمام اہم اداروں کو تباہ کرنے کے بعد بالآخر سٹاک مارکیٹ کا بھی جنازہ نکال دیا ہے جس کا ایک ثبوت 2 دسمبر کو پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 2000 پوائنٹس کی تاریخی کمی کی صورت میں سامنے آیا۔
اس وقت پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی فروخت کا شدید دباؤ دیکھا جارہا ہے۔ 2 دسمبر کو سٹاک مارکیٹ کے کاروبار کے دوران بینچ مارک ’کے ایس ای 100 انڈیکس‘ میں 2 ہزار پوائنٹس سے زائد کی تاریخی کمی دیکھی گئی۔ جمعرات کو کاروبار کا آغاز 45 ہزار 369 پوائنٹس کی سطح سے ہوا اور لگ بھگ ڈیڑھ بجے انڈیکس میں 5 ہزار 5 یعنی 4.42 فیصد کمی دیکھی گئی۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج رول بُک کے مطابق اگر انڈیکس گزشتہ روز بند ہونے والی سطح سے 5 فیصد زیادہ یا کم ہوجائے اور یہ سطح پانچ منٹ تک برقرار رہے تو مخصوص وقت کے لیے تمام کمپنیوں کے حصص کا کاروبار روک دیا جاتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں اس تاریخی مندی کی ایک وجہ یکم دسمبر کو جاری۔ہونے والے حکومتی اعدادوشمار تھے جن میں بتایا گیا تھا کہ نومبر میں پاکستان کا تجارتی خسارہ خطرناکنحد تک بڑھ گیا ہے۔
انٹرمارکیٹ سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ایکویٹیز رضا جعفری نے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو شدید مندی کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وجہ سے روپیہ دباؤ میں رہے گا اور شرح سود میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مندی کو خریداری کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق یکم دسمبر کو حکومت نے بتایا تھا کہ نومبر 2021 میں پاکستان کی درآمدات 7.84 ارب تک پہنچ گئیں جبکہ برآمدات 2.9 ارب ڈالر رہیں۔ اس طرح بڑا تجارتی خسارہ سامنے آیا۔ اس کے علاوہ ٹریژری بل کا بھی یکم دسمبر کو آکشن ہوا اس کا ریٹ بھی ڈیڑھ فیصد تک بڑھا جس سے خدشہ ہے کہ پندرہ نومبر کو اگلی زرعی پالیسی میں شرح سود میں بھی ایک اعشاریہ پانچ فیصد کا مزید اضافہ ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز دور میں کس میڈیا گروپ کو کتنے کے اشتہارات ملے؟
سوشل میڈیا صارفین سٹاک ایکسچیج میں شدید مندی پر تشویس کا اظہار کررہے ہیں اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’سٹاک ایکسچینج میں 2000 پوائنٹس کا گرنا سرمایہ کاروں کی معاشی پالیسیوں پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ سندھ کے سابق گورنر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے ایک ٹوئٹر بیان میں لکھا کہ ’سٹاک مارکیٹ میں 2000 پوائنٹس گرگئے، سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔‘ انہوں نے کہا کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار حالت تشویش میں شیئرز بیچ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ یا وزیراعظم کو لوگوں کو تسلی دینی چاہیے۔
اے کے وائی سیکورٹیز کے چیف ایگزیکٹو افسر امین یوسف نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی گرتی قیمتیں کرونا کی نئی قسم کے خوف سے بیرون ملک عائد ہونے والی پابندیوں کی وجہ سے دنیا بھر کی مارکیٹس گرواٹ کا شکار ہیں جس کے اثرات بازار حصص پر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ٹی بلز آکشن میں شرح سود میں 125 بیسز پوانٹس کا اضافہ بھی سرمایہ کاروں کی مشکلات بڑھا رہا ہے جبکہ 14 دسمبر کو آنے والی پالیسی میں شرح سود مزید بڑھنے کے امکانات ہیں، ان تمام وجوہات کو لے کر بازار میں حصص کی فروخت کا دباؤ ہے جس وجہ سے سٹاک مارکیٹ دھڑام سے نیچے آ گری ہے۔

Related Articles

Back to top button