پی سی بی میں اربوں کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں ، بورڈ ملازمین کو قوانین سے ہٹ کر پی ایس ای الائونس دیا گیا جس کو تنخواہوں کا بھی حصہ بنا دیا گیا ۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسد مصطفیٰ، عثمان واہلہ، مقصود احمد، فاروق اقبال، عون محمد، اسحاق، عتیق رشید، بلال حنیف، عدیل الرحمان، سلمان نصیر اور اعظم خان الاؤنس حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اربوں روپے کی بینکوں میں سرمایہ کاری کی جبکہ غیر تسلی بخش کارکردگی والے بینکوں میں سرمایہ کاری کے دوران آزاد مالی مشیر سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے دوسرے اداروں کی ملکیتی تنصیبات پر 70 کروڑ سے زائد رقم خرچ کر ڈالی، پنڈی کرکٹ سٹیڈیم پر 36 کروڑ 37 لاکھ ،نیشنل کرکٹ اکیڈمی پر 13 کروڑ 61 لاکھ ،اقبال کرکٹ سٹیڈیم فیصل آباد پر 12 کروڑ 36 لاکھ اور گڑھی خدا بخش کرکٹ سٹیڈیم پر غیر قانونی طور پر 8 کروڑ 45 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی سی بی کے ملازمین کے 6 کروڑ 85 لاکھ روپے کے میڈیکل الاؤنس پر ٹیکس کٹوتی نہیں کی گئی جبکہ تیز ترین ترقی کی مثال بھی پی سی بی نے ہی قائم کی، من پسند فرد کو 2011 میں 90 ہزار تنخواہ پر رکھا گیا، 9سال میں لیگل ایڈوائزر سلمان نصیر چیف آپریٹنگ آفیسر بن گئے اور ایک کروڑ 98 لاکھ تنخواہ بھی لے آڑے۔

Related Articles

Back to top button