سٹاک مارکیٹ ایک سال میں آسمان سے زمین پر کیوں آ گری؟

گذشتہ سال ایشیا کی بیسٹ پرفارمنگ مارکیٹ کا اعزاز حاصل کرنے والی پاکستان سٹاک ایکسچینج ایک برس کے دوران آسمان کی بلندیوں سے زمین پر آ گری ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹاک مارکیٹ بلند ترین شرح سود، تجارتی اور جاری کھاتوں کے خساروں میں اضافے اور شرح سود مزید بڑھانے کے باعث تاریخی گراوٹ کا شکار ہوئی ہے جس کے ذمہ داری کپتان حکومت کے معاشی فیصلہ سازوں پر آتی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس کے آخر میں دنیا بھر کے مالیاتی اداروں کی کارکردگی کو جانچنے والے امریکی ادارے مارکیٹ کرنٹس ویلتھ نیٹ نے پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کو ایشیا میں سب سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر بیسٹ پرفارمنگ مارکیٹ قرار دیا تھا۔ تاہم ایک سال کے بعد حالیہ مہینوں میں ملکی سٹاک مارکیٹ اس وقت زبردست دباؤ کی شکار نظر آتی ہے۔کئی ماہ سے اس کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ کے بعد اب سٹاک مارکیٹ میں زبردست مندی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایک برس میں یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا کہ کے ایس ای 100 انڈیکس میں ایک ہی دن میں 2100 سے زائد پوائنٹس کی ریکارڈ کمی دیکھی گئی۔ حالیہ مہینوں میں سٹاک مارکیٹ مسلسل تنزلی کا شکار ر ہے اور اس کا انڈیکس 48 ہزار پوائنٹس کی سطح تک جانے کے بعد 43 ہزار کی سطح تک گر چکا ہے۔2 دسمبر کو ریکارڈ مندی کی وجہ سے اسے سٹاک مارکیٹ کے لیے سیاہ دن قرار دیا گیا۔ یاد رہے کہ 2020 میں کورونا وائرس کی عالمی وبا پھوٹنے کے بعد جب پاکستان میں لاک ڈاؤن لگانے کی تیاری ہو رہی تھی تو 16 مارچ 2020 کو سٹاک مارکیٹ میں 2000 پوائنٹس سے زائد کی کمی دیکھنے میں آئی تھی اور اب 2 دسمبر کو 2135 پوائنٹس کی کمی موجودہ سال میں ایک کاروباری دن میں سب سے بڑی کمی قرار پائی جس سے انویسٹرز کے سینخڑوں ارب روپے ڈوب گئے۔
سٹاک مارکیٹ کے کاروبار سے وابستہ ماہرین کے مطابق پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں مندی کے رجحان کی وجہ پاکستان کے معاشی میدان میں تواتر سے ظہور پذیر ہونے والے ایسے واقعات ہیں جن کا اثر پاکستان کی سٹاک مارکیٹ پر منفی صورت میں پیدا ہوا۔ ان کے مطابق سٹاک مارکیٹ معیشت کی عکاس ہوتی ہے اور اگر گذشتہ برس یہ ایشیا کی بہترین کارکردگی والی مارکیٹ تھی تو اس کی وجہ تب کے معاشی حالات تھے۔ آج کے معاشی حالات اور اشاریے اس بات کا واضح پتا دیتے ہیں کہ ملکی معیشت گراوٹ کا شکار ہے اور سٹاک مارکیٹ اسکی خراب معاشی صورت حال کا پتا دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی معیشت اتنی بلند شرح سود کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتی اس لیے پاکستانی معیشت میں منفی رجحان پروان چڑھ رہا ہے۔ سٹاک مارکیٹ کے بورڈ کے رکن احمد چنائے نے اس سلسلے میں بتایا کہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ بہت حساس ہے اور کسی بھی منفی خبر پر بہت جلدی رد عمل دکھاتی ہے اور موجودہ صورت حال بھی منفی خبروں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں ایک چھوٹی سی منفی خبر پر بھی بہت زیادہ رد عمل آتا ہے اور اب تو معاشی میدان سے مکمل طور پر منفی خبریں آ رہی ہیں جس کا سٹاک مارکیٹ میں مندی کے رجحان سے پتا چلتا ہے۔ احمد چنائے نے کہا شرح سود میں ہونے والے اضافے نے حصص کے کاروبار پر بہت زیادہ منفی اثر ڈالا ہے اور اس میں مزید متوقع اضافے کی خبروں نے بھی کاروبار کو متاثر کیا ہے۔ اُن کے مطابق اسی طرح ملک کا بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور اس کی وجہ سے جاری کھاتوں کے خسارے میں اضافہ اور مقامی کرنسی پر آنے والے دباؤ نے سٹاک مارکیٹ کو منفی خبروں کی زد میں لے رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رانا شمیم کا اصل بیان حلفی منگوانے کیلئے ہائی کمیشن کو خط

عارف حبیب لمٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو شاہد علی حبیب کاکہنا یے کہ سٹاک مارکیٹ گرنے کی سب سے بڑی وجہ شرح سود میں اضافہ ہے جس نے کاروبار پر منفی اثرات مرتب کیے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک کے معاشی اشاریے منفی ہوئے ہیں جن میں درآمدات میں اضافہ شامل ہے جس کی وجہ سے تجارتی اور جاری کھاتوں کے خساروں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ شاہد حبیب کے مطابق شرح سود میں مزید اضافے کی خبروں نے مارکیٹ میں منفی رجحان کو بہت زیادہ بڑھاوا دیا جس کی ایک مثال مرکزی بینک کی جانب سے چھ مہینے کے حکومتی بانڈز پر ساڑھے 11 فیصد کی شرح سود پر خریداری ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگلی زری پالیسی میں شرح سود میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اضافے نے منفی اثر ڈالا تو اس کے ساتھ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی سخت شرائط نے بھی کاروبار میں منفی رجحان پیدا کیا کیونکہ ان شرائط کی وجہ سے ملک کی معیشت میں مزید بگاڑ کا امکان ہے۔

Related Articles

Back to top button