سانحہ سیالکوٹ، مزید 6 مرکزی ملزمان گرفتار

پنجاب پولیس نے سری لنکن فیکٹری مینیجر پریانتھا کمارا کو تشدد کر کے قتل کرنے کے مقدمے میں مزید 6 افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ 13 ملزمان کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ بھی حاصل کرلیا گیا۔
سیالکوٹ کے 13 مرکزی ملزمان کو فوجداری عدالت کے جج ظریف احمد کے سامنے پیش کیا گیا، پولیس کی درخواست پر عدالت نے ایک روزہ راہداری ریمانڈ ریمانڈ دے دیا۔جن ملزمان پر 3 دسمبر کو سری لنکن شہری کو بہیمانہ تشدد کر کے قتل کرنے میں مرکزی کردار ادا کرنے کے الزامات ہیں، ان میں فرحان ادریس، صبوربٹ، طلحہ، عبدالرحمٰن، عمران، تیمور، شعیب، راحیل، عثمان، شاہزیب احمد، ناصر،احتشام اور جنید شامل ہیں۔
اگوکی پولیس تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ارمغان مقط کی درخواست پر راجکو انڈسٹریز کے 900 ورکرز کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302، 297، 201، 427، 431، 157، 149 اور انسداد دہشت گردی قانون کے 7 اور 11 ڈبلیو ڈبلیو کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔درخواست گزار نے کہا کہ مظاہرین نے ان کی موجودگی میں پریانتھا کو تھپڑ، ٹھوکریں اور مکے مارے اور لاٹھیوں سے تشدد کیا اور وزیرآباد فیکٹری سے گھسیٹ کر باہر لائے جہاں ان کی موت ہوگئی اور اس کے بعد ان کی لاش کو آگ لگادی۔ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ اہلکاروں کی کمی کے باعث وہ مشتعل ہجوم کے آگے بے بس تھا۔
پنجاب پولیس کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان کے مطابق گزشتہ 2 روز کے دوران پولیس 124 افراد کو گرفتار کرچکی ہے جس میں 19 مرکزی ملزمان بھی شامل ہیں۔بیان میں بتایا گیا کہ سی سی ٹی وی وی فوٹیجز اور موبائل فون ڈیٹا کی مدد سے ملزمان کا شراغ لگایا جارہا ہے، جو اپنے عزیز و اقارب کے گھروں میں روپوش ہوگئے تھے۔
پولیس کا مزید کہنا تھا کہ 124 گرفتار افراد میں 19 نے اس بہیمانہ قتل میں مرکزی کردار ادا کیا تھا’۔بیان میں کہا گیا کہ زیر حراست افراد میں سے اشتعال پھیلانے اور تشدد میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے کا عمل جاری ہے، وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب تحقیقات کے سارے عمل کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔
مینیجر کے بہیمانہ قتل کے کیس میں سیالکوٹ کی گارمنٹس فیکٹری کے تقریباً 3 ہزار ورکرز گرفتاری سے بچنے کے لیے مفرور ہیں جنہیں شاید ملازمتوں سے فارغ کردیا جائے گا جبکہ فیکٹری بھی بند ہے اور پیداوار دوبارہ شروع کرنے کے لیے وقت کا تعین نہیں کیا جاسکا۔فیکٹری مالک کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اعجاز بھٹی واقعے کے وقت جرمنی میں موجود تھے، جنہوں نے ہفتے کے روز وطن واپس آکر ضلعی پولیس افسران اور متعلقہ حکام سے ملاقات کی اور وقوعہ پر تبادلہ خیال کیا۔
گرفتار ہونے والے اور فرار ہونے والوں کو اہلِ خانہ کو پہنچنے والی مالی مشکلات کی صورت میں ایک اور اذیت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ فیکٹری میں ہر جگہ کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے نصب ہیں جن کی فوٹیج سے تفتیش کاروں کو اصل مجرموں کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے۔
چینی گارمنٹ انڈسٹری سے مسابقت رکھنے والی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے پر سیالکوٹ میں گارمنٹ یونٹ خاصی اہمیت کا حامل ہے جو ہوگو باس سمیت دنیا بھر کے 35 بڑے برانڈز کے لیے گارمنٹس تیار کرتے ہیں۔
فیکٹری کی ملکیتی لیبر کالونی میں فیصل آباد، ملتان، سرگودھا، وہاڑی اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے 500 کے قریب مزدور مقیم ہیں جہاں ایک ہسپتال انہیں مفت علاج، مفت کھانا اور مفت ٹرانسپورٹ فراہم کر رہا ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ چین، ملائیشیا، انڈونیشیا، کوریا، سری لنکا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شہری سیالکوٹ کی مختلف فیکٹریوں میں انتظامی عہدوں پر فائز ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ متوفی سری لنکن منیجر ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں گولڈ میڈلسٹ تھے اور ان کا ایک بھائی اس وقت فیصل آباد کی ایک ٹیکسٹائل مل میں کام کرتا ہے۔
پنجاب کے سیکریٹری برائے انسانی وسائل و محنت لیاقت علی چٹھہ نے بھی جمعہ کی شب سیالکوٹ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے عہدیداروں کے ہمراہ فیکٹری کا معائنہ کیا۔انہوں نے سیالکوٹ کی مختلف مزدور یونینوں کی قیادت کے ساتھ میٹنگ بھی کی اور ان سے کہا کہ وہ پرسکون رہیں اور امن و امان برقرار رکھنے میں پولیس کی مدد کریں۔
سیالکوٹ گارمنٹ فیکٹری عہدیدار ملک عدنان کی جانب سے پریانتھا کمار پر تشدد سے روکنے کی کوشش کی ایک اور وڈیو منظر عام پر آ گئی۔ویڈیو میں ملک عدنان کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ پریانتھا غیر مسلم ہے اسے نہیں معلوم کہ پیپر پر کیا لکھا ہے۔ساتھ ہی فیکٹری عہدیدار نے ورکرز کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ گارنٹی دیتا ہوں کہ پریانتھا کمار کو فیکٹری سے نکال دیں گے اور ایف آئی آر بھی درج کروائیں گے۔تاہم ملک عدنان کے سمجھانے کے باوجود مشتعل افراد نعرے لگاتے رہے اور ہجوم کے آگے ملک عدنان بے بسی کی تصویر بنا رہا۔
واضح رہے کہ 3 دسمبر کو سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مقامی فیکٹری کے منیجر پر توہین مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے بہیمانہ تشدد کرکے قتل کیا اور ان کی لاش نذرِ آتش کردی تھی۔
سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) عمر سعید ملک نے کہا کہ مقتول کی شناخت پریانتھا کمارا کے نام سے ہوئی ہے۔ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ کہ فیکٹری کے کچھ کارکن متوفی جنرل مینیجر جو کہ ٹیکسٹائل انجینئر تھے، کو نظم و ضبط کے نفاذ میں سختی کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے۔جمعہ کی صبح معمول کے معائنے کے بعد پریانتھا کمارا نے ناقص کام پر سینیٹری عملہ کی سرزنش کی تھی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چونکہ فیکٹری میںرنگ ہونے والا تھا اس لیے مینیجر نے دیواروں سے پوسٹر ہٹانا شروع کر دیےان میں سے ایک پوسٹر میں کسی مذہبی جلسے میں شرکت کی دعوت تھی جس پر ورکرز نے اعتراض کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ پریانتھا کمارا نے معافی کی پیشکش کی، لیکن ایک سپروائزر نے کارکنوں کو اکسایا، جنہوں نے ان پر حملہ کردیا۔جس کے بعد پریانتھا کمارا چھت کی طرف بھاگے اور سولر پینل کے نیچے چھپنے کی کوشش کی لیکن مشتعل کارکنوں نے انہیں پکڑ لیا اور وہیں مار ڈالا۔
مظاہرین نے پریانتھا کو تھپڑ، ٹھوکریں اور مکے مارے اور لاٹھیوں سے تشدد کیا اور وزیرآباد روڈ پر واقع فیکٹری سے گھسیٹ کر باہر لائے جہاں ان کی موت ہوگئی اور اس کے بعد ان کی لاش کو آگ لگادی۔

Related Articles

Back to top button