حکومتِ سندھ کا 15 مارچ سےگندم کی خریداری کا فیصلہ

محکمہ خوراک سندھ نے معمول کے مطابق اپریل کے وسط یا اواخر میں گندم کی خریداری کے برعکس 15 مارچ سے گندم کی خریداری شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔
صوبائی سیکریٹری خوراک حلیم شیخ نے بتایا کہ ’ہم نے اپریل کے بجائے 15 مارچ سے گندم کی خریداری شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ زیریں سندھ کے میرپورخاص زون میں گندم کی جلد کٹائی کا فائدہ اٹھایا جاسکے۔انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ اپریل میں خریداری شروع کرنے سے خریداری کا عمل متاثر ہوتا ہے اور آنے والے سیزن کے لیے بھی خریداری کا ہدف 14 لاکھ ٹن گندم کا ہی رہے گا۔
گزشتہ سال محکمہ خوراک 14 لاکھ ٹن کے ہدف کے بجائے 12 لاکھ ٹن گندم ہی خرید سکا تھا۔
سندھ حکومت نے گزشتہ سال گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار روپے فی من (40 کلوگرام) مقرر کی تھی جبکہ اب اس قمیت میں اضافہ کرکے اسے 2 ہزار 200 روپے کردیا گیا ہے۔محکمہ خوراک سندھ نے اپنے گوداموں سے 4 ہزار 875 روپے فی 100 کلوگرام قیمت پر گندم فروخت کرنا شروع کردی ہے۔ تقریباً ساڑھے 3 لاکھ (؟؟؟) گندم رواں سال دسمبر تک جبکہ باقی آئندہ سال مارچ تک فروخت کردی جائے گی۔
گزشتہ سال سندھ حکومت نے امدادی قیمت میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت سے کیش کریڈٹ لیمٹ (سی سی ایل) میں اضافے کی منظوری حاصل کی تھی جس کے بعد رواں سال سی سی ایل کو 130 ارب روپے سے 152 ارب روپے کردیا گیا تھا۔ اس سال 2 ہزار 200 روپے روپے کی اضافہ شدہ امدادی قیمت کو دیکھتے ہوئے سی سی ایل میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
محکمے کے اہلکاروں کے مطابق محکمہ خوراک کو بینکوں کے 152 ارب روپے کے واجبات اور صوبائی رقم پر 7.8 فیصد کا مارک اپ بھی ادا کرنا ہے۔ گندم کی فرخت کو دیکھتے ہوئے محکمے کو امید ہے کہ مارچ تک 78 ارب روپے حاصل کرلیے جائیں گے۔ تاہم اگر 14 لاکھ ٹن کا ہدف برقرار رہا تو محکمے کو گندم کی خریداری کے لیے 75 ارب روپے کی ضرورت ہوگی اور ایک ٹن گندم 55 ہزار روپے میں خریدی جائے گی۔
سندھ آبادگار بورڈ کے نائب صدر محمود نواز شاہ نے نشاندہی کی کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو آنے والے سال میں گندم کی خریداری کے ہدف میں اضافہ کرنا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 2 سال میں حکومت کے پاس قیمتوں پر قابو پانے کا ایک ہی حل ہوتا تھا کہ وہ اپنے ذخیرے سے گندم جاری کرنا شروع کردے۔ ان کے مطابق جب حکومت کے پاس گندم کم ہوجاتی ہے تو نجی شعبہ قیمتوں میں اضافہ کردیتا ہے۔ ’حکومت کو چاہیے کہ گندم درآمد کرنے کے بجائے مقامی کسانوں سے گندم خریدی جائے‘۔
دریں اثنا آٹا چکیوں کے 48.75 روپے فی کلو کے حساب سے گندم فراہم کی جارہی ہے جبکہ آٹا چکیوں میں آٹا 70 سے 75 روپے فی کلو پر فروخت ہورہا ہے۔
آٹا چکی اونرز ایسوسی ایشن کے حاجی محمد میمن کے مطابق ’ہم گندم کو آٹے میں تبدیل کرنے کے لیے 16.40 روپے فی کلو کی لاگت برداشت کرتے ہیں جس میں ہمارا 2 روپے فی کلو کا منافع بھی شامل ہوتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اب تک تو ہر چکی کو روزانہ 220 کلوگرام گندم فراہم کررہی تھی لیکن اس میں کمی کرکے اسے 170 کلوگرام کردیا گیا ہے۔
نتیجے کے طور پر بازار سے گندم خریدنی پڑتی ہے جس کی 100 کلوگرام بوری کی قیمت 6 ہزار سے 6 ہزار ایک سو روپے تک ہوتی اور اس میں اضافی قیمت شامل نہیں ہوتی۔ حاجی محمد میمن نے بتایا کہ ’انتظامیہ چاہتی ہے کہ ہم 60 روپے فی کلو پر آٹا فروخت کریں جوکہ کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ ہم نے سیکریٹری خوراک کے ساتھ ہونے والی حالیہ ملاقات میں ان سے روزانہ ملنے والی گندم میں اضافے کی درخواست کی ہے‘۔
اس دوران ورلڈ فوڈ پروگرام بھی صوبے میں گندم ذخیرہ کرنے کے لیے سائلوز کی تعمیر کے حوالے فیزیبلیٹی تیار کرنے میں سندھ حکومت کی معاونت کررہا ہے۔ یہ عمل اگلے ہفتے تک مکمل ہوجائے گا اور اس کے تنائج محکمہ خوراک کو فراہم کردیے جائیں گے۔ اس وقت محکمے کے پاس اپنے گوداموں میں 7 لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ممکنہ طور پر ورلڈ فوڈ پروگرام فیزیبلیٹی رپورٹ پیر کے روز سندھ کے سیکریٹری خوراک کو فراہم کردے گا۔ اس رپورٹ سے 10 ہزار ٹن کی گنجائش والے سائلو کی لاگت کا اندازہ ہوگا۔

Related Articles

Back to top button