خفیہ ہاتھ ملکی سیاست کی ڈوریاں کیسے ہلاتے ہیں؟


سینیٹر بن جانے والے معروف کالم نگار اور صحافی عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ سچے، کھرے اور ہے لاگ انصاف کی نشانی یہ ہے کہ ملزم جونہی مجرم قرار پاتا اور کیفر کردار تک پہنچتا ہے تو کہانی تمام ہو جاتی ہے۔ بس تاریخ کے اوراق میں عبرت کی ایک داستان باقی رہ جاتی ہے۔ نہ کسی کی طرف انگلیاں اٹھتی ہیں اور نہ کسی جج کی دستار فضیلت پر کوئی ہاتھ پڑتا ہے۔ نہ کسی کی مظلومیت کا تاثر ابھرتا ہے اور نہ کسی سازش کی کہانیاں گردش کرتی ہیں۔ نہ گاؤں گوٹھوں کی چوپالوں سے لے کر ملکی اور بین الاقوامی اداروں تک جرم و سزا اور قانون و انصاف کے بخیے ادھیڑے جاتے ہیں۔
اپنی تازہ تحریر میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اگر نصف صدی پہلے پھانسی چڑھا دیے جانے والے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی داستان انصاف آج بھی زندہ ہے اور چار برس پہلے بیٹے کی کمپنی سے طے شدہ تنخواہ وصول نہ کرنے کے جرم قبیح میں عمر بھر کے لیے سیاست سے بیدخل کر دیے جانے والے نواز شریف کا تذکرہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا تو جان لیجیے کہ نصف صدی بعد دہرایا گیا یہ ڈرامہ بھی ہماری سیاست کو نکیل ڈالنے والے انہیں منہ زور گھوڑوں کا کرشمہ ہے جو ہمیشہ بڑے کارگر اور موثر رہے ہیں۔ عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ خلق خدا کسی عدالتی فیصلے کو تقاضائے انصاف سمجھ کر مطمئن ہو جائے تو جانو کے مجرم بجا طور پر کیفر کردار کو پہنچا ہے لیکن اگر سزا کسی کو ملے اور جرم کا کھرا کسی اور گھر جاتا ہو تو خلق خدا اسی طرح مضطرب رہتی ہے، جیسے آج ہے۔ رسوائیوں کی داستان اسی طرح دائرہ در دائرہ گردش کرتی رہے تو قانون و انصاف کے دامن پر لگا داغ ملامت کسی دھوبی گھاٹ پہ مٹایا نہیں جا سکتا۔
انکا کہنا ہے کہ نواز شریف کا کیس ایک کھلی کتاب ہے۔ روز اول سے لے کر آج تک لاتعداد خامیوں کمزوریوں اور کھلی نا انصافیوں میں لت پت اس مقدمے کو کسی آڈیو کسی وڈیو کسی بیان حلفی کسی اضافی گواہی کی ضرورت نہیں۔ قانون و انصاف کی رسوائی کے حوالے سے یہ بے سروپا مقدمہ ہر لحاظ سے خود کفیل ہے۔ صرف اس سلسلہ واقعات پر نظر ڈالیے جو 2014 کے ڈی چوک کے شہرہ آفاق دھرنے سے شروع ہو کر اکتوبر 2016 میں ایک اور لاک ڈاؤن تک پھیلا ہوا ہے اور نومبر 2016 سے آج تک جس کی کڑیاں بکھری نظر آتی ہیں تو سب واضح ہو جاتا ہے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ میں اپنی پٹاری سے کسی آڈیو یا وڈیو کیسٹ کا سنپولیا یا شیش ناگ نہیں نکال رہا نہ کسی پہلے سے زیر گردش کیسٹ کی صداقت پر بحث کرنا مقصود ہے میں ایک ایسی شہادت ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں جسے جھٹلانا کسی سیاسی فنکار کے لئے ممکن نہیں ہو گا۔ یہ شہادت دراصل ایک خبر ہے جو وزارت عظمیٰ سے نواز شریف کی بے دخلی سے آٹھ ماہ قبل ایک بھارتی صحافی ایم۔ جے۔ اکبر کی زیر ادارت مرتب ہونے والے معروف ویب میگزین سنڈے گارڈین میں شائع ہوئی۔
یہ سٹوری بھارت کے ایک کہنہ مشق ایڈیٹر، صحافی، تجزیہ نگار، ماہر تعلیم اور محقق، مادھو نالپٹ کی ہے۔ نالپٹ معروف اخبار ٹائمز آف انڈیا کے ایڈیٹر رہے۔ سنڈے گارڈین لائیو کے ایڈیٹوریل ڈائریکٹر رہے، جیو پولیٹکس کے پروفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ ان کی یہ سنسنی خیز سٹوری 6 نومبر 2016 کو صبح دو بج کر ایک منٹ پر اپ لوڈ ہوئی۔ تب جنرل راحیل شریف اپنے منصب پر قائم تھے اگرچہ ان کی ریٹائرمنٹ میں صرف تین ہفتے باقی تھے لیکن ان کے گوشۂ دل میں توسیع کا چراغ ابھی تک ٹمٹما رہا تھا۔ وہ کسی معجزے کے منتظر تھے۔
بقول عرفان صدیقی، ناکارہ فضول اور لایعنی قرار دی جانے والی پٹیشنز سپریم کورٹ میں لگ گئی تھیں۔ بینچ تشکیل پا گیا تھا اور باقاعدہ سماعت شروع ہونے کو تھی۔ دور دور تک کسی جے آئی ٹی کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ نواز شریف بھاری پارلیمانی اکثریت کے ساتھ اپنے عہدے پر موجود تھے اور کاروبار حکومت عمدہ طریقے سے چل رہا تھا۔ لیکن سنڈے گارڈین لائیو 6 نومبر 2016 کی سٹوری کا عنوان تھا۔
”جنرل راحیل شریف نے نواز شریف کے خلاف عدالتی بغاوت کا منصوبہ بنا لیا“
خبر کی تفصیل میں بتایا گیا کہ! ”پاکستان کی صورت حال پر نظر رکھنے والے اہم ممالک پیش بینی کر رہے ہیں کہ راولپنڈی نے ایک منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ جس کا مقصد وزیراعظم نواز شریف کو 2017 کے وسط تک اپنے منصب سے ہٹا دینا ہے۔ اس دفعہ مشرف کے انداز میں فوجی بغاوت کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے یہ منصوبہ بنایا گیا ہے کہ نواز شریف کو منصب سے ہٹانے کے لیے سپریم کورٹ سے کام لیا جائے جو اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ منصوبے کے مطابق سپریم کورٹ نواز شریف کو مجرم قرار دیتے ہوئے اس پر کئی مقدمات کا آغاز کرے گی، عدالت کی جانب سے دیے گئے فیصلے میں پانامہ پیپرز کے انکشافات کو بنیاد بنایا جائے گا۔“ خبر میں مزید کہا گیا کہ
”ذرائع کا دعویٰ ہے، عمران خان کی تازہ احتجاجی مہم کا سکرپٹ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نواز شریف کی کرپشن کا نوٹس لے اور یوں زنجیر کی کڑیوں کی طرح ایک دوسرے سے جڑے اس سلسلہ واقعات کا نتیجہ نواز شریف کے زوال کی شکل میں ظاہر ہو“ ۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں مقدمے کی کارروائی، جے۔ آئی۔ ٹی کے قیام اور اس کی رپورٹ اور اگست 2017 میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے آٹھ ماہ قبل چھپنے والے اس آرٹیکل میں جو کچھ بتایا گیا تھا، ہو بہو ویسا ہی ہوا اور نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ چنانچہ جانے دیجئے آڈیو اور ویڈیو لیکس کو، شوکت عزیز صدیقی، جج ارشد ملک اور رانا شمیم کی گواہیوں اور بیانات حلفی پر بھینمٹی ڈالیے۔ صرف زنجیر کی کڑیوں کی طرح ایک دوسرے میں پیوست سلسلہ ہائے واقعات پر ایک نظر ڈالیے۔ ہماری بے مایہ تاریخ کے اس ناٹک کے تحریر کار، ہدایت کار، پیش کار اور کردار سب اپنے چہروں کے تمام تر خد و خال کے ساتھ نمایاں نظر آئیں گے۔

Related Articles

Back to top button