شاہ سعود کی بیٹی شہزادی بسمہ کی 3 برس بعد قید سے رہائی

سعودی عرب کے سابق حکمران شاہ سعود مرحوم کی سب سے چھوٹی بیٹی شہزادی بسمہ بنت سعود کو تین برس بغیر کسی جرم کی قید کاٹنے کے بعد بالآخر رہائی مل گئی ہے۔ شہزادی کا جرم یہ تھا کہ وہ سعودی عرب میں خواتین کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر سخت نکتہ چینی کرتی تھیں۔ تین برس قبل انہیں اس تب حراست میں لیا گیا تھا جب وہ علاج کے لیے بیرون ملک جانے والی تھیں۔ لیکن اب سعودی عرب کی شہزادی بسمہ بنت سعود کے قانونی مشیر نے بتایا ہے کہ سعودی حکام نے شہزادی اور ان کی بیٹی کو رہا کر دیا ہے۔ 57 سالہ شہزادی بسمہ بنت سعود بن عبدالعزیز السعود، ایک کاروباری شخصیت ہونے کے ساتھ ہی، حقوق انسانی کی سرگرم کارکن اور سعودی شاہی خاندان کی اہم فرد ہیں۔

شہزادی بسمہ اور ان کی ایک بالغ بیٹی سہود الشریف مارچ 2019 میں اچانک لا پتہ ہو گئی تھیں۔ انکے قانونی مشیر ہنری ایسٹرامنٹ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ رہائی کے بعد شہزادی خیریت سے ہیں لیکن طبی ماہرین سے صلاح مشورہ جاری ہے۔ وہ بہت تھکی ہوئی نظر آ رہی ہیں لیکن اچھی حالت میں ہیں اور بذات خود اپنے بیٹوں سے دوبارہ ملاقات کر نے پر شکر گزار ہیں۔

یاد رہے کہ 2019 میں فروری کے اواخر میں جب وہ اپنے علاج کے لیے بیرون ملک کے سفر پر نکلنے والی تھیں تو انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ تب ان کے ایک قریبی رشتے دار نے بتایا تھا کہ ان کی گرفتاری کے وقت حکام نے ان پر جعلی پاسپورٹ بنانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ تاہم سعودی حکومت نے ان کی حراست کے بارے میں کبھی کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا۔ 2020 میں شہزادی بسمہ نے اپنی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں اس بات کا انکشاف کیا کہ انہیں ریاض میں ایک برس سے بھی زیادہ وقت سے قید کر رکھا گیا ہے اور یہ کہ وہ بیمار بھی ہیں۔
بسمہ بنت سعود مرحوم شاہ سعود کی سب سے چھوٹی اولاد ہیں، جنہوں نے 1953 سے 1964 تک سعودی عرب پر حکمرانی کی۔ بسمہ مملکت میں خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تنقید کرتی رہی ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کی تقریب میں شرکت پر معذرت

ان کی حراست سے متعلق اقوام متحدہ کو پیش کی گئی ایک درخواست میں ان کے اہل خانہ نے کہا تھا کہ انہیں، ”ہمارے ملک میں ہونے والی بدسلوکی پر ان کی کھلے عام تنقید کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔” اس درخواست کے مطابق یا پھر اس کی دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے والد کی، ”چھوڑی گئی میراث کے منجد اثاثوں کے بارے میں بھی سوال اٹھاتی رہی ہیں۔

یاد رہے کہ شہزادی بسمہ نے 2006ء میں سعودی عرب کے نشریاتی اداروں کے لیے لکھنے کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد وہ ایک کاروباری خاتون کے ساتھ ساتھ اصلاحات پسند اور انسانی حقوق کے لیے ایک بڑی آوازبن کر اُبھریں۔ وہ 2011 میں اپنی شادی ٹوٹ ہو جانے کے بعد لندن چلی گئی تھیں، جہاں وہ مختلف بین الاقوامی فورمز پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خطے میں دولت کی عدم مساوات جیسے مسائل کو اجاگر کرتی نظر آئیں۔ انہوں نے خواتین کے حقوق اور آئینی اصلاحات کو فروغ دینے کے لیے بھی کام کیا۔ شہزادی بسمہ نے 2012ء میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ اس بات پر غمزدہ ہیں کہ سعودی عرب نے آئینی اصلاحات کے ان منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کیا، جن سے بادشاہ کا منصب اور وزارت عظمیٰ کو الگ کیا جانا تھا۔ وہ 2015ء کے بعد سعودی عرب واپس آ گئیں جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

Related Articles

Back to top button