اداکارہ فضا علی کو مری ہوٹل والوں نے کس طرح لوٹا

معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان فضا علی نے مری سانحے کے بعد بتایا یے کہ وہ بھی چند روز پہلے فیملی کے ہار مری گئی تھیں لیکن وہاں ہوٹل والوں کے ہاتھوں مالی طور پر لٹنے اور باتھ روم میں پانی جیسی بنیادی سہولت کی عدم فراہمی پر صرف چند گھنٹوں بعد ہی شہر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام ‘تاروں سے کریں باتیں’ سے علیحدگی اختیار کرنے والی فضا علی نے بتایا کہ کہ فضا علی نے یو ٹیوب پر مختصر دورانیے کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے اپنے حالیہ دورہ مری سے متعلق تفصیلات بتائیں اور کہا کہ وہ بچوں کی فرمائش پر اسلام آباد سے مری گئی تھیں۔ اداکارہ کے مطابق وہ شوٹنگ کے سلسلے میں اسلام آباد گئیں، جہاں سے انہوں نے لاہور جانے کا فیصلہ کیا مگر سموگ اور دھند کی وجہ سے انہوں نے وہاں کا سفر ترک کر کے بچوں کی فرمائش پر مری جانے کا فیصلہ کیا۔

فضا نے بتایا کہ مری جانے سے پہلے انہوں نے آن لائن ہوٹل کے کمرے دیکھے اعر بک۔کروا لیے مگر وہاں پہنچنے پر پتہ چلا انہیں حیرانگی ہوئی، کیوں کہ جو تصاویر انہیں دکھائی گئیں، ہوٹل کے کمرے ان سے بالکل مختلف تھے۔ اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ ہوٹل انتظامیہ نے ان سے ایک رات کا ایک کمرے کا کرایہ 20 ہزار روپے ایڈوانس میں وصول کیا مگر ہوٹل میں کہیں بھی پانی دستیاب نہیں تھا، جس وجہ سے وہ چار گھنٹے گزارنے کے بعد ہی وہاں سے چلی گئیں۔ فضا علی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہوٹل انتظامیہ سے پانی کی عدم فراہمی پر بار بار شکایت کی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا اور انہیں بتایا گیا کہ پانی اگلے روز کی دوپہر تک آئے گا۔

فضا نے کہا کہ دنیا میں بھلا ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ ایک ہوٹل کا کمرہ 20ہزار روپے میں بک کروائیں اور اس کے باتھ روم میں پانی بھی موجود نہ ہو۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں لٹیروں کے اس ہوٹل میں تین کپ چائے کا بل 2 ہزار روپے ادا کرنا پڑا جب کہ چائے بھی عام ہوٹل جیسی تھی۔ انہوں نے ہوٹل کا نام بھی لیا اور لوگوں سے مطالبہ کیا کہ جو لوگ مری گئے تھے اور جو دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہوٹل انتظامیہ نے ان سے چالیس سے پچاس ہزار روپے کرایہ وصول کیا، وہ مذکورہ ہوٹلوں کے نام بتائیں۔ فضا نے ویڈیو میں بتایا کہ مری میں زیادہ تر ہوٹلوں کا کاروبار سیاستدانوں کا ہے جو منافع کمانے کے لیے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہیں۔

8 کروڑ روپے انکم ٹیکس ادا نہ کرنے پر آئمہ بیگ کو نوٹس

ان کے مطابق مری میں ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ افراد نے ہی وزارت داخلہ کو سیاحتی مقام پر گاڑیوں کو آنے کی اجازت دینے کا کہا اور وزارت نے ٹول پلازہ پر چیکنگ کیے بغیر ہی حد سے زیادہ گاڑیوں کو مری آنے دیا، جس وجہ سے وہاں ہلاکتوں کا ال۔ناک حادثہ پیش آیا۔ فضا کا کہنا تھا کہ مری جیسے سیاحتی مقامات پر گاڑیوں کو داخل ہونے کی اجازت دینے سے قبل ان میں تمام حفاظتی اشیا کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور انہیں وہاں جانے دیا جائے، جن کے پاس حفاظتی اشیا موجود ہوں۔

انہوں نے مری میں امدادی کارروائیاں کرنے پر پاک فوج کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ فوج ہی ہے جو ہر مشکل میں عوام کی خدمت اور حفاطت کرتی دکھائی دیتی ہے۔ فضا علی نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی قوم تھوڑی بہت جو بھی محفوظ ہے وہ پاک فوج کی وجہ سے ہی ہے اور پاک آرمی ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ تاہم یاد رہے کہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ مری کا سانحہ رونما ہوتے وقت فوج کی مدد کیوں طلب نہیں کی گئی اور اسے تب میدان میں خیوں اتارا گیا جب 24 لوگوں کی جانیں جا چکی تھیں۔

Related Articles

Back to top button