مارخور کی حفاظت پر مامور عملے نے کام کیوں چھوڑ دیا؟

ملک بھر کے نیشنل پارکس میں جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے تعینات کمیونٹی واچرز کی اکثریت نے کام چھوڑ دیا، جس کی وجہ سے قومی جانور مارخور سمیت دیگر جنگی حیات کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کے نیشنل پارک میں کمیونٹی واچرز کے سپروائزر اشفاق احمد نے بتایا کہ ہمارے پاس کبھی 35 کمیونٹی واچرز اپنے فرائض انجام دیتے تھے لیکن تنخواہیں نہ ملنے کے بعد سے اب چند ہی لوگ کام کر رہے ہیں، انہون نے کہا کہ ہماری اب سات ہزار ایکڑ پر مشتمل گول نیشنل پارک چترال، اور اس سے ملحق بفرزون کہلائے جانے والے تقریباً 50 ہزار ایکڑ علاقے میں موجود جنگلی حیات کے تحفظ میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی، جنگلی حیات اور نیشنل پارک کی صورتحال بھی کچھ اچھی نہیں رہی ہے۔

بلوچستان کے تین اضلاع میں پھیلے ہوئے ہنگول نیشنل پارک اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مچھیارہ نیشنل پارک مظفر آباد میں فرائض انجام دینے والے کمیونٹی واچرز بھی اکا دُکا دکھائی دیتے ہیں، مچھیارہ نیشنل پارک مظفرآباد میں خدمات انجام دینے والے ایک کمیونٹی واچر کا کہنا تھا کہ ہمیں سرکاری محکمے والے ہزاروں، لاکھوں روپے تنخواہیں لے کر جنگلی حیات کے تحفظ کے مشورے دیتے ہیں جبکہ ہماری 10 سے 15 ہزار روپے ماہوار تنخواہ تقریباً 3 سال سے بند ہے۔

کمیونٹی واچر نے بتایا کہ جب ہمیں تنخواہیں ملتی تھیں تو ہم ڈنڈا لے کر گرمی اور سردی میں ڈیوٹی انجام دیتے تھے، کسی کی مجال نہیں تھی کہ وہ غیر قانونی شکار کر سکے، اب سرکاری محکمے والے جانیں اور ان کا کام، بلوچستان، کشمیر اور خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات نے تصدیق کی کہ ان تینوں نیشنل پارک میں تنخواہیں نہ ملنے کے سبب کمیونٹی واچرز کی اکثریت نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔

گول نیشنل پارک چترال میں کمیونٹی واچرز کے کام چھوڑنے کے بعد مارخور کی تعداد کو لے کر بحث کا آغاز ہو چکا ہے، چترال سے ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالکبر چترالی نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ کمیونٹی واچرز کو تنخواہیں نہ ملنے پر گول نیشنل پارک چترال میں مارخور کی تعداد میں ریکارڈ کمی اور غیر قانونی شکار میں ریکارڈ اضافہ ہوا تاہم گول نینشل پارک چترال کے ڈی ایف او محمد سرمد مولانا عبدالکبر چترالی کے دعویٰ سے متفق نہیں۔

محمد سرمد کا کہنا ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں اور ماہرین کی مدد سے حال ہی میں ایک سروے منعقد کیا جا رہا ہے، جس کے نتائج جلد ہی سامنے آ جائیں گے، ان کا کہنا تھا کہ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے پاس گول نیشنل پارک اور بفززون علاقے کے لیے کوئی 15 واچرز موجود ہیں جو اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، محکمہ وائلڈ لائف صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق چیف کنزویئٹر اور فنڈ فار پروٹیکٹیڈ ایریا کے چیئرمین ڈاکٹر ممتاز ملک کے مطابق کمیونٹی واچرز کو تنخواہوں کی ادائیگی وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے کی جانی ہے، اس ضمن میں وقف فنڈ کی موجودگی کے باوجود پیسے جاری نہیں کیے جا رہے ہیں، یہ کام 20 سال کی محنت پر پانی پھیرنے اور سب کچھ تباہ کرنے کے برابر ہے۔

ڈاکٹر ممتاز اے ملک بتاتے ہیں کہ یہ اس صدی کے آغاز کی بات ہے، میں اس وقت محکمہ وائلڈ لائف خیبر پختونخوا میں خدمات انجام دے رہا تھا، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر محسوس کیا گیا کہ پاکستان کے نیشنل پارک یعنی وہ علاقے جو جنگلی حیات کے لیے محفوظ قرار دیئے گئے ہیں، ان میں موجود جنگلی حیات کو اس وقت تک محفوظ نہیں رکھا جا سکتا جب تک مقامی برادریاں یعنی کمیونیٹز مددگار نہیں بن جاتی ہیں، مقامی کمیونیٹز کو فعال کرنے اور ان میں نیشنل پارک اور جنگلی حیات کے تحفظ کا شعور پیدا کرنے کے لیے کام کیا گیا۔

اس کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی مدد سے منصوبہ تیار کیا گیا، جس میں مقامی کمیونیٹر کو بااختیار بنایا گیا تھا۔ ڈاکٹر ممتاز اے ملک کے مطابق یہ کوئی آسان کام نہیں تھا، اس کے لیے سر توڑ محنت کی گئی تھی، منصوبے کا پہلا مرحلہ 2003 سے شروع ہوا اور کوئی 2009/10 تک چلا تھا، اس میں تقریباً دو سو ملین ڈالر کا فنڈ بین الاقوامی تنظیم گلوبل انوائرنمینٹ نے ورلڈ بینک کے ذریعے فراہم کیا، اس پراجیکٹ کے ختم ہونے کے قریب محسوس ہوا کہ یہ ایک شاندار منصوبہ ہے جس کے نتائج پوری دنیا میں محسوس ہوئے، پاکستان کے تینوں نینشل پارک اور اس میں موجود جنگلی حیات اور بشمول مارخور کی تعداد میں اضافہ ہوا، اس موقع پر پھر سوچا گیا کہ اس کو کیسے جاری رکھا جائے؟

پٹرول 6 روپے 30 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا ہونے کا امکان

ڈاکٹر ممتاز اے ملک کہتے ہیں کہ اس موقع پر فنڈز فار پروٹیکٹیڈ ایریا کو رجسڑ کیا گیا، اس کے تین بنیادی بورڈ ارکان میں وہ خود، اس وقت کے آئی جی فارسٹ وزارت ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر بشیر وانی اور اس وقت کشمیر محکمہ وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر یوسف قریشی شامل تھے، ڈاکٹر ممتاز کے مطابق اس کا آئین بنا، اس کو رجسڑ کیا گیا، آئین میں وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے آئی جی فارسٹ کو اس کا سی او مقرر کیا گیا، اس کے لیے فنڈز خیبر پختونخوا، بلوچستان، کشمیر کے علاوہ گلوبل انوارنمنٹ نے فراہم کیے، وزارت ماحولیاتی تبدیلی نے اپنا فنڈ فراہم نہیں کیا، یہ سارا وقف فنڈ تھا، وقف فنڈ میں ابتدائی طور پر 166 ملین روپے حاصل ہوئے جو بعد میں شاید 200 ملین تک پہنچ گیا تھا۔

ڈاکٹر ممتاز اے ملک کے مطابق کمیونٹی کو فعال کرنے کے لیے پارک ایسوسی ایشن کے نام سے تنظمیں بنائی گئیں جن کے ساتھ کمیونٹی کی مقامی تنظیموں کا الحاق کروایا گیا، سب سے پہلا کام جو کیا گیا کہ وہ کمیونٹی ہی میں سے لوگوں کو واچر بھرتی کیا گیا، ان واچرز کو مقامی محکمہ وائلڈ لائف کی نگرانی میں دیا گیا، ان کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ نیشنل پارک اور جنگلی حیات کا تحفظ کریں گے جس کے اتنے شاندار نتائج نکلے کہ دنیا بھر میں ہمارے اس پراجیکٹ کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر ممتاز نے بتایا کہ مقامی کمیونٹی کو مختلف ترقیاتی منصوبے دیئے جس کے فیصلے وہ خود کرتے تھے، ہم اس کو منظور کرتے اور فنڈز وزارت ماحولیاتی تبدیلی جاری کرتی تھی کیونکہ اس تنظیم کے آئین میں وقف فنڈ کا نگران اور فنڈز جاری کرنے کا اختیار وزارت کو دیا گیا تھا، ڈاکٹر ممتاز اے ملک کہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا یہاں تک کہ کہا گیا کہ مارخور کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ ٹرافی ہنٹنگ بھی شروع کی گئی۔

لیکن اب تین سال سے فنڈز ریلیز نہیں کیے جا رہے ہیں جس سے مقامی کمیونٹی انتہائی بدظن ہوچکی ہیں، ہم وزارت ماحولیاتی تبدیلی کو خطوط لکھتے ہیں مگر ہمیں جواب نہیں دیا جاتا ہے، ڈاکٹر ممتاز اے ملک کہتے ہیں کہ ہمیں تحریری طور پر تو نہیں بتایا گیا کہ فنڈز کیوں جاری نہیں کیے جاتے ہیں مگر زبانی طور پر کہا گیا ہے کہ اس فنڈز کو کسی اور پراجیکٹ یا اس کے وقف فنڈ میں ضم کیا جا رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button