کپتان اسمبلی توڑیں یا کوئی ایڈونچر کرینگے

اب وزیر اعظم عمران خان چاہیں اسمبلیاں توڑ دیں، چاہے کوئی خود کش اقدام کر لیں، لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ اب ان کی باری ختم ہو چکی ہے۔ اب انکے لیے اپنے طرز سیاست کی قیمت ادا کرنے کا وقت آچکا ہے۔ ابھی ایک کیس کھلا ہے، آنے والے دنوں میں تقریبا ہر روز ایسی ہی خبریں سننے کو ملیں گی کیونکہ اب ڈیل کا نہیں بلکہ انصاف کا وقت آچکا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ اگر نواز شریف ڈیل نہیں کر رہے تو یہ کیا ہو رہا ہے۔ اچانک پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی رپورٹ سامنے آگئی، یکدم اپوزیشن رہنماؤں کی بجائے حکمرانوں کی کرپشن کے ٹرینڈ چلنے لگے۔ فیصل واوڈا کے کیس کا انجام بھی قریب نظر آرہا ہے۔ شوکت خانم کے اکاؤنٹس میں خرد برد پر بھی تحقیقات شروع ہوگئی ہیں۔ میڈیا میں اچانک عمران خان کی دیانت کا چورن بیچنے والے مالشیے اور پالیسی ان کی گورننس کا نوحہ پڑھنے لگے ہیں۔ عوام اس تبدیلی کا سبب جاننا چاہ رہے ہیں اور کچھ تجزیہ کار اسے ڈیل کا نام دے رہے ہیں۔

ہوا صرف اتنا ہے کہ کپتان کی حکومت بڑے لاڈ سے بنائی گئی تھی۔ عمران خان کی شخصیت کے غبارے میں خوب ہوا بھری گئی تھی۔ میڈیا کو عمران کی پرستش کا حکم دیا گیا تھا۔ نیب کو اس حکومت کے خلاف کسی کارروائی سے منع فرمایا گیا تھا۔ اب یہ پابندی ختم ہوگئی ہے۔ اب انصاف ہونے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ اب عمران کی شخصیت کے غبارے میں سے ہوا نکالنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ مختصر یہ کہ اب ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے۔

لیکن بقول عمار مسعود، اس تبدیلی کی بنیادی وجہ نہ تو نواز شریف ہیں نہ پی ڈی ایم اور نہ ہی بین بین الاقوامی دباؤ۔ اس صورت حال کی ساری ذمہ داری خود عمران خان پر عائد ہوتی ہے۔ جتنی محبتیں کپتان حکومت پر نچھاور کی گئیں، ان کا شمار ممکن نہیں ہے، لیکن عمران نے اپنے ظرف اور مزاج کے عین مطابق سب کو رسوا کیا۔ اس نے اپنی جماعت کو، اپنے حامیوں کو ، اپنے لانے والوں کو، اپنے چاہنے والوں کو، سب کو رسوا کیا ہے اور اب تین سال میں اس ملک کا وہ حشر ہو گیا کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ تمام تر نادیدہ حمایت کے باجود عمران کی حکومت عوام کے لیے، وطن کے نام کے لیے، اور اپنے سلیکٹرز کے لیے بھیببدنامی کا سبب بنتی رہی۔

اس حکومت کے پاس کارکردگی دکھانے کے لیے چند آڈیو ویڈیو لیکس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ چنانچہ حالات اتنے خراب ہو گئے کہ نادیدہ ہاتھ واشگاف ہونے لگے۔ انگلیاں ایمپائر کی طرف داری کی جانب اُٹھنے لگیں۔ یہ قابل برداشت نہیں تھا۔ لہذا اس موقعے پر انصاف کو موقع دیا گیا ہے۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ اسکے بعد پہلے ہی ہلے میں فارن فنڈنگ کیس کے کھاتے کھل گئے اور تحریک انصاف کا کرپشن کے خلاف بیانیہ منہ کے بل زمین پر جا پڑا۔

کیا قومی حکومت کی باتیں سچ ہیں یا صرف شوشہ؟

وہ پارٹی جو گذشتہ پانچ سال سے سب کے خلاف کرپٹ، چور، ڈاکو کا راگ الاپ رہی تھی اسے خود کرپشن، چوری اور ڈاکے کے الزامات کا جواب دینا پڑ رہا ہے۔ وہ لوگ جو گھنٹوں میڈیا پر بیٹھ کر عمران خان کی صداقت اور امانت کے قصیدے سنایا کرتے تھے ان کی زبانوں کو اب تالے لگ گئے ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں ان پر جرم کرنے کا الزام لگ گیا ہے جو سارے معاشرے کو مجرم کہا کرتے تھے، وہ جو ہر پارٹی لیڈر پر چور اور لُٹیرا ہونے کے الزامات دھرا کرتا تھا، ہر سیاسی جماعت کو کرپٹ کہا کرتا تھا، وہ خود چور ثابت ہوگیا ہے۔

اب موصوف کی چوری کے ثبوتوں پر اس کے دستخط بھی موجود ہیں، اثاثے بھی سامنے ہیں ایسے میں اب کوئی اسکا دفاع نہیں کرنا چاہے گا۔

عمار مسعود کے مطابق المیہ یہ نہیں کہ فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان کی جماعت کی غیر قانونی فارن فنڈنگ کے ’شواہد‘ مل گئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس بات کو الیکشن کمیشن میں ثابت کرنے میں سات سال لگ گئے۔ اگر یہ کام سات سال پہلے ہو چکا ہوتا تو آج اس ملک کا یہ حال نہیں ہونا تھا۔ ہماری سماجیات، اخلاقیات، سیاسیات اور معاشیات کا کوئی والی وارث ہونا تھا۔

اب عمران چاہیں اسمبلیاں توڑ دیں، چاہے کوئی خود کش اقدام کرلیں، اب ان کی باری ختم ہو چکی ہے۔ اب انکے لیے اپنے طرز سیاست کی قیمت ادا کرنے کا وقت آچکا ہے۔ ابھی ایک کیس آیا ہے، آنے والے دنوں میں آپ ہر روز ایسی خبریں سنیں گے کیونکہ اب ڈیل کا نہیں انصاف کا وقت آچکا ہے۔

Related Articles

Back to top button