الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کے 8والیم کیوں چھپا رہا ہے؟

تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں سات سال کے طویل انتظار کے بعد الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی جاری کردہ رپورٹ میں آٹھ والیم خفیہ رکھے جانے پر ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ خفیہ معاملات کی چھان بین کی لئے بنائی گئی کمیٹی کی تحقیقات کو آخر کس قانون اور ضابطے کے تحت چھپایا جا رہا ہے۔

آخر الیکشن کمیشن تحریک انصاف کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے آٹھ والیم کیوں چھپا رہا ہے حالانکہ کمیشن ماضی میں خود واضح کر چکا ہے کہ ان تحقیقات سے متعلق کچھ بھی چھپانا غیر قانونی عمل ہو گا۔ ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ یہ مطالبہ تو تحریک انصاف کا تھا کہ سکروٹنی کا عمل خفیہ رکھا جائے۔ سکروٹنی کے عمل سے تحریک انصاف کو اتنا ڈر لگتا تھا کہ اس نے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک یا دو نہیں پوری 11 پیٹیشنز دائر کی تھیں۔ کئی بار اس نے الیکشن کمیشن کے حق سماعت کو بھی چیلنج کیا۔

الیکشن کمیشن نے تین چار بار نہیں بلکہ 24 مرتبہ تحریک انصاف کو تحریری طور پر حکم دیاکہ اپنے تمام اکاؤنٹس کی تفصیل فراہم کرے لیکن تحریک انصاف نے ایسا نہیں کیا اور اپنے اکاؤنٹس چھپائے رکھے۔ اب ان تمام تاخیری حربوں اور حیلوں کے باوجود سات سال بعد اگر سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ آ ہی گئی ہے تو اس میں طلب کردہ دستاویزات اور بنک اکاؤنٹس پر مشتمل ایک یا دو نہیں پوری آٹھ جلدیں خفیہ قرار دے کر چھپالی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ ماضی میں ایک موقع پر الیکشن کمیشن کو کہنا پڑا تھا کہ تحریک انصاف نے ’قانونی طریقہ کار کے غلط استعمال کی تاریخی اور بد ترین مثال‘ قائم کر دی ہے۔

سوال یہ ہے کہ فارن فنڈنگ کی سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ کی آٹھ جلدیں خفیہ قرار دے کر کہیں خود الیکشن کمیشن نے بھی کوئی ایسی ہی مثال تو نہیں قائم کر دی؟ یاد رہے کہ ایک سال پہلے ایک جلسے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہمیں پارٹی فنڈ کی سکروٹنی کے عمل کو خفیہ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں، الیکشن کمیشن یہ سکروٹنی کھلے عام کرے اور اسے لائیو نشر کرے تا کہ ساری قوم دیکھے۔ جلسے میں اس اعلان پر تالیاں بھی بج گئیں لیکن خرابی یہ ہوئی کہ یہ بات اکبر ایس بابر نے بھی سن لی۔

وہ درخواست لے کر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہو گئے کہ عمران خان کی اس پیش کش کی روشنی میں یہ کارروائی لائیو نشر کرنا یا نہ کرنا آپ کی مرضی ہے البتہ پی ٹی آئی نے جو اکاؤنٹ خفیہ رکھے ہوئے تھے اور الیکشن کمیشن نے سٹیٹ بنک کو خط لکھا تو سٹیٹ بنک کے ذریعے یہ خفیہ اکاؤنٹس سامنے آ گئے، مجھے ان اکاؤنٹس کی بنک سٹیٹمنٹس دے دیں لیکن جب یہ درخواست پیش کی گئی تو جیسے ایک بھونچال آ گیا۔ تحریک انصاف کا وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوا اور اس نے کہا کہ پارٹی کی درخواست ہے کہ مہربانی کر کے یہ چیزیں خفیہ رکھی جائیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پارٹی نے پارٹی قائد کی کسی بات کو ماننے سے انکار کیا ہو۔

ناقدین کہتے ہیں کہ خدا خدا کر کے الیکشن کمیشن نے اگر سکروٹنی مکمل کر ہی لی ہے تو اس کی آٹھ جلدیں خفیہ قرار دینا ایسی چیز نہیں جس پر سوالات نہ اٹھیں۔ یہ ایک مقدمہ ہے جس میں اکبر ایس بابر مدعی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ تحقیقات کی روشنی میں جو شواہد سامنے آتے ہیں انہیں مدعی سے کیسے خفیہ رکھا جا سکتا ہے؟ قانونی طور پر اکبر ایس بابر اس وقت بھی تحریک انصاف کے رکن ہیں۔

کیا قومی حکومت کی باتیں سچ ہیں یا صرف شوشہ؟

پی ٹی آئی نے یہی اعتراض اٹھایا تھا کہ وہ پارٹی کے رکن نہیں ہیں اور انہیں پارٹی اکاؤنٹس پر سوال اٹھانے کا حق نہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس اعتراض کو مئی 2017 میں رد کر دیا تھا اور فیصلے میں لکھا کہ قانونی طور پر اکبر بابر اس وقت بھی پارٹی کے رکن ہیں۔ اس فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ دستاویزاتی ثبوتوں کی بنیاد پر انہیں ذمہ داریوں سے الگ ضرور کیا گیا لیکن پارٹی سے نہیں نکالا گیا۔ اب اگر وہ پارٹی کے رکن ہیں تو الیکشن ایکٹ کی دفعہ 203 کی ذیلی دفعہ پانچ کے تحت پارٹی کے ان اکاؤنٹس تک رسائی ان کا حق ہے۔ الیکشن کمیشن سکروٹنی رپورٹ کے آٹھ والیم مدعی سے کیسے خفیہ رکھ سکتا ہے؟ ناقدین کہتے ہیں کہ کیا یہ الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی اور پامالی نہیں؟

الیکشن کمیشن نے چیئرمین اور تین ارکان کے دستخطوں کے ساتھ 14 اپریل 2021 کو جو حکم جاری کیا وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ سکروٹنی کمیٹی فلاں تاریخ تک تمام دستاویزات دیکھ کر رپورٹ مرتب کرے۔ اسی حکم نامے کے ایک اور پیراگراف میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب رپورٹ کمیشن کے سامنے پیش کی جائے گی تو اس رپورٹ اور دستاویات کی نقول ہر فریق حاصل کر سکے گا۔ یہی اصول الیکشن کمیشن نے 30 مئی 2018 کے فیصلے میں بھی طے کیا تھا اور اپریل 2021 کے فیصلے میں اس کا حوالہ بھی دیاگیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے ہی حکم نامے کو کیسے پامال کر سکتا ہے؟ سکروٹنی کمیٹی بناتے وقت اور اس کو مینڈیٹ دیتے وقت جو اصول الیکشن کمیشن نے طے کر دیے، رپورٹ پیش ہو جانے کے بعد خود الیکشن کمیشن انہی اصولوں کی خلاف ورزی کیسے کر سکتا ہے؟ ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ الیکشن کمیشن کو اس رپورٹ کے آٹھ والیم خفیہ رکھنے پڑے، جسے پہلے ہی پبلک ڈاکومنٹ قرار دے کر اس تک ہر شخص کی رسائی کا حق دیا جا چکا تھا؟ یہ کایا پلٹ کیسے ہوئی اور کن اعلیٰ اصولوں کی بنیاد پر ہوئی؟ یہ اتفاق سمجھا جائے یا اسے حسن اتفاق قرار دیا جائے؟ ناقدین کے خیال میں الیکشن کمیشن کو اپنی ساکھ بحال رکھنے کے لیے کلاسیفائیڈ قرار دیئے گئے آٹھ والیم فوری پبلک کرنے چاہئیں۔

Related Articles

Back to top button