پاکستانی بلاگر کو کس خفیہ ایجنسی نے مروانے کا پلان بنایا؟

نیدر لینڈ میں مقیم پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایہ کے قتل کی سازش کے مقدمے کی سماعت کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ایک پاکستانی ایجنسی نے انہیں مروانے کے لئے ایک کروڑ برطانوی پاؤنڈ کے عوض کرائے کا قاتل حاصل کیا تھا جو واردات کرنے کی خاطربرطانیہ سے نیدرلینڈ گیا لیکن ناکام رہا۔

خیال رہے کہ احمد وقاص گورایا ایک اسٹیبلشمنٹ مخالف سرگرم بلاگر ہیں جنہوں نے 2017 میں اسلام آباد میں اپنے اور پانچ دیگر بلاگرز کے اغوا ہونے کے بعد ملک چھوڑ دیا تھا۔ احمد وقاص گورایہ کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والے گرفتار شخص کا نام گوہر خان ہے جس کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن وہ برطانیہ میں مقیم ہے۔

یاد رہے کہ 31 سالہ گوہر خان کے خلاف کیس کی سماعت 13 جنوری کو برطانیہ کی کنگسٹن اپون تھیمز کراؤن کورٹ میں شروع ہو گئی ہے۔ معروف برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی پولیس نے روٹرڈیم، نیدرلینڈ میں مقیم احمد وقاص گورایا کے قتل کی سازش کی تفصیلات کا انکشاف کیا جن کے مطابق ایک پاکستانی خفیہ ایجنسی نے اس قتل کے لیے ایک لاکھ برطانوی پاؤنڈ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ استغاثہ نے کہا کہ بظاہر پاکستان میں مقیم افراد نے احمد وقاص گورایا کے ‘قتل کے مقصد’ کے لیے گوہر خان کی خدمات حاصل کی تھیں۔

اس کے اس عمل کے بدلے اسے ایک لاکھ پاؤنڈ کی بھاری رقم کی ادائیگی ہونی تھی، پروسیکیوشن نے دعویٰ کیا کہ کرائے کا قاتل گوہر خاں شدید قرض میں جکڑا ہوا تھا اور اسے قرض ادائیگی کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آ رہا تھا لہذا وہ کرائے کا قاتل بننے پر آمادہ ہو گیا۔ برطانوی پراسیکیوشن نے جیوری کو بتایا کہ گوہر خان پیسہ کمانے کے لیے قتل کرنے اور مستقبل میں بھی مزید حملے کرنے کے لیے ‘پُرجوش’ تھا۔ برطانوی عدالت کو بتایا گیا کہ کس طرح گوہر خان نے نیدر لینڈ کا سفر کیا اور شکار کو تلاش کرنے کی کوشش کی، اس نے ایک چاقو خریدا جسے اس نے وقاص گورایا کو قتل کرنے کے لیے استعمال کرنا تھا۔ تاہم ملزم کی بد قسمتی اور گورایا کی خوش قسمتی کی جب قاتل انکے گھر پہنچا تو وہ روٹرڈیم میں اپنے گھر موجود نہیں تھا۔

پراسیکیوشن کے مطابق چند روز تک مبینہ شکار کو تلاش کرنے کی ناکام کوششوں کے بعد گوہرخان نے ہار مان لی اور واپس برطانیہ چلا گیا جہاں واپسی پر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ گوہر خان کو بلاگر کی تصویر کے ساتھ ساتھ اس کا پتا مبینہ طور پر ایک خفیہ ایجنسی کے ایماء پر مڈل مین نے بھیجا تھا، جس کی شناخت استغاثہ نے ‘مڈز’، ‘زیڈ’ اور ‘پاپا’ کے نام سے کی تھی۔ برطانوی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ شواہد میں گوہر خان کے موبائل ٹیلی فون ڈیوائسز سے بھیجے گئے اور اس پر موصول ہونے والے پیغامات، روٹرڈیم میں کیے گئے سفر کے ثبوت، روٹرڈیم میں اس کی نقل و حرکت کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور شہر میں اس کی چاقو کی خریداری کے ثبوت شامل ہیں۔

استغاثہ نے گوہر خان اور مڈل مین کے درمیان ڈیل کا بھی تفصیل سے خاکہ پیش کیا، جس میں مجموعی طور پر ایک لاکھ پاؤنڈ کی ادائیگی ہونی تھی جس میں سے 80 ہزار پاؤنڈز مدعا علیہ اور بقیہ مڈل مین کو ملنے تھے۔
گوہر خان اور مڈل مین کے درمیان ہونے والے پیغامات کے تبادلے میں گوہر نے بلاگر کے بارے میں معلومات پوچھتے ہوئے کہا کہ کیا یہ گہرے سمندر کی مچھلی ہے، یا صرف ٹونا مچھلی ہے؟ یہ پیغام بھیج کر گوہر نے یہ سمجھنے کی کوشش کی تھی کہ اس کا کام بڑا ہے یا چھوٹا۔

پراسیکیوشن کے مطابق گوہر نے یہ بھی کہا کہ شارک مہنگی ہے اور ٹونا سستی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ بڑا ہدف ہے تو اس پر زیادہ پیسے خرچ ہوں گے جس پر مڈل مین نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ ہدف ‘صرف ٹونا ہے، لیکن برطانوی ٹونا نہیں یورپی ٹونا، یعنی اس کے لیے تھوڑا سا سفر کرنا پڑے گا۔
پیغامات کے تبادلے کے دوران گوہر خان اور مڈل مین نے کام کا حوالہ دینے کے لیے مچھلی اور ماہی گیری کے استعارے، جیسے ماہی گیری کے لوازمات کا استعمال کیا۔گوہر خان نے یہ بھی پوچھا کہ اگر جہاز ڈوب جائے یعنی اگر ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکامی ہو تو ادائیگی کا کیا ہوگا؟

اسامہ ستی کے والدین کو عمران خان سے کیا شکوہ ہے؟

مقدمے کی سماعت کے پہلے روز اپنے ابتدائی بیان میں استغاثہ نے کہا کہ ‘کوئی وقاص گورایا کو قتل کرنا چاہتا تھا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے قتل کا مقصد ان کی سیاسی سرگرمی سے جڑا ہو، جو افراد وقاص گورایا کی موت چاہتے تھے وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے رقم ادا کرنے کے لیے تیار تھے، مختصراً یہ کہ یہ سب احمد وقاص گورایا کو قتل کرنے کی سازش تھی۔

جیوری کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا گوہر خان اس سازش میں ملوث تھا؟ جیوری کو بتایا گیا کہ اگرچہ گوہر خان ثبوت کے طور پر تسلیم کیے گئے تمام پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے کو تسلیم کرتا ہے اور روٹرڈیم کے سفر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو مانتا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس کا ارادہ احمد وقاص گورایا کو قتل کرنا نہیں تھا۔ تاہم برطانوی پولیس کا اصرار ہے کہ وہ احمد وقاص گورایا کو قتل کرنے کی نیت سے ہی نیدرلینڈ گیا تھا اور اسے بھیجنے والے والے افراد اس کی سرگرمیوں سے تنگ تھے۔

دوسری جانب پچھلے برس اسلام آباد میں ایک قاتلانہ حملے میں بچ جانے والے سینئر صحافی ابصار عالم نے برطانوی عدالت میں ہونے والی سماعت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانی اتنے قیمتی ہیں کہ ایک چھوٹی مچھلی احمد وقاص گورایا کو قتل کرنے کے لئے ڈھائی کروڑ روپوں کے برابر رقم دی گئی جبکہ میرے قتل کے لیے ایک سستا کرائے کا قاتل ڈھونڈا گیا اور وہ بھی صرف پانچ لاکھ روپے میں۔ ابصار عالم لکھتے ہیں کہ جب ان پر حملہ کرنے والا کرائے کا قاتل اپنا کام نہ کر سکا تو اسے صرف پچاس ہزار روپے دیے گئے۔ افسوس کہ ہم ٹیکس بھی دیں اور ہمارا قتل بھی سستے میں ہو۔

Related Articles

Back to top button