کیا ملک میں صدارتی نظام لانے کی سازش ہو رہی ہے

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی حالیہ ہنگامہ آرائی کے بعد پاکستان پر ہائبرڈ نظام حکومت مسلط کرنے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ نام نہاد جمہوریت کی پامالی پر دل ہی دل میں ہنس رہی ہوگی اور اگر ایسے حالات میں فوج ملک میں کوئی آمرانہ مزاج صدارتی نظام نافذ کرنے کی خفیہ منصوبہ سازی کررہی ہو تو ہمیں اس پر حیرت نہیں ہونی چاہئیے۔

نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ہمیں قومی اسمبلی میں حکمران تحریک انصاف کے غیر جمہوری رویے پر حیران نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ یہ پارلیمنٹ کے باہر بھی حزب اختلاف کے ساتھ انتہائی جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ درحقیقت عمران خان اور اُن کے حامی کھل کر کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کو ملکی سیاست سے ختم کرنا اور ایک پارٹی پر مشتمل نظام قائم کرنا اُن کا بنیادی ہدف ہیں۔ اس لیے اُنہوں نے ریاست کے تمام طاقت ور بازوں، جیسا کہ نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر وغیرہ کو، پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے تعلق رکھنے والے ہر لیڈر کی سرکوبی کے لیے کھل کر استعمال کیا ہے تاکہ عمران خان اور تحریک انصاف کے مقابلے پر ملک میں کوئی اپوزیشن لیڈر یا پارٹی باقی نہ بچے۔

اس کی وجہ سے کمرتوڑ مہنگائی، بے روزگاری، آمدنی میں یک لخت کمی اور غربت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف ویسے بھی بوجوہ عمران خان کے بے پناہ اشتعال کا بطور خاص نشانہ ہیں۔ وہ عمران خان سے کہیں بہتر منتظم ہیں اور پھر وہ ذاتی طور پر اسٹیبلشمنٹ کے لیے زیادہ قابل قبول بھی ہیں کیوں کہ وہ عمران خان کی نسبت کم تنک مزاج اور امور ریاست میں کہیں زیادہ تجربہ کار ہیں۔ درحقیقت خارجہ پالیسی کے معاملے میں مسلم لیگ ن شہباز شریف کی قیادت میں عمران خان کی تحریک انصاف سے کہیں بہتر گورننس اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے تزویراتی طمانیت کا باعث بن سکتی ہے۔

نجم کے مطابق عمران خان جانتے ہیں کہ اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کے ساتھ کوئی ایسی ڈیل کر سکے جس کے تحت وہ اگلے پانچ سال تک سیاست سے دور رہیں اور اس دوران شہباز شریف مسلم لیگ ن کے ووٹ بنک سے فائدہ اٹھالیں تو ہماری اسٹیبلشمنٹ بلاتامل عمران خان کو چلتا کردے گی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی ڈیل کا تاثر ملتا ہے، جیسا کہ شہباز شریف کو ضمانت پر رہائی یا بیرونی ملک روانگی کی اجازت، تو عمران خان اُن کے خلاف فوراً بدعنوانی کے نئے کیس کھول کر اُن کے لیے کوئی رکاوٹ کھڑی کردیتے ہیں۔

حالیہ دنوں شہباز شریف کے فوجی اسٹیبلشمنٹ نواز بیانیے کو مسلم لیگ ن کے اندر خطرناک حد تک پذیرائی ملی۔ اس سے پہلے نواز شریف کے  اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کے بعد پی ڈی ایم سے پیپلز پارٹی اور اے این پی الگ ہوچکے تھے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو لانگ مارچ اور اجتماعی استعفوں کے ذریعے رخصت کرنے کی حکمت عملی بھی سرد خانے میں تھی۔ اپوزیشن ابہام کا شکار دکھائی دیتی تھی۔

سیٹھی کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں حالیہ تعطل سازشی تھیوریوں کا نتیجہ ہے جن سے تحریک انصاف خطرہ محسوس کررہی ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنے کا اس سے بہتر اور کوئی وقت نہیں تحریک انصاف کے اسمبلی میں اراکین کی تعداد اتنی کم ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ جہانگیر ترین کے فاورڈ بلاک کو اشارہ کردے تو وہ اپوزیشن سے مل کرحکومت کو گھر بھجوا سکتی ہے۔

پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی جاری کر دی گئی

اسطرح عمران کی حکومت پل بھر میں ختم ہوجائے گی۔ سازشی تھیوریوں پر یقین کرنے والے کچھ حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن سے اُن کے شکوک وزنی دکھائی دیتے ہیں۔ اس وقت نواز شریف اور مریم نواز ماضی کی طرح فوجی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید نہیں کررہے ہیں۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو ہاتھ ملا چکے ہیں۔ اور رہی سہی پی ڈی ایم اپنے طور پر کچھ نہیں کرنے جارہی۔ عدالتوں کا رویہ اچانک اور غیر متوقع طور پر شہباز کے حق میں ”نرم“ہوگیا ہے۔ عمران خان کے لیے یہ سب شواہد خوش آئند نہیں ہیں۔

نجم سیٹھی کے مطابق چاہے عمران نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ممکنہ سازش یا منصوبہ بندی یا مسلم لیگ ن کی خفیہ چالبازیوں کا درست اندازہ لگایا ہے یا نہیں، ایک بات طے ہے کہ وہ کوئی چانس نہیں لے رہے ہیں۔ شہباز شریف وہ واحد لیڈر ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اُن کا تختہ الٹ سکتے ہیں۔ اس دوران خوش حال طبقے کے لیے بنایا گیا بجٹ ان کا کمزور پہلو ہے۔ اس پر وہ کسی تنقیدی بحث کی اجازت دینے کے متحمل نہیں ہوسکتے تاکہ وہ غریب افراد کی آنکھوں میں دھول جھونک سکیں۔

Related Articles

Back to top button