16 جنوری سے پٹرول 150 روپے فی لیٹر ہونے کا امکان

وزیراعظم عمران خان کی عوام دشمن سرکار مہنگائی کا ایک نیا ریکارڈ قائم کرنے جا رہی ہے اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پٹرول 150 روپے فی لیٹر ہو جائے گا۔ آئل مارکیٹنگ ذرائع کا کہناہے کہ 16 جنوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 6 روپے فی لیٹر تک مذید بڑھنے کا امکان ہے جس کے بعد پیٹرول 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 6 روپے فی لیٹر تک مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔ یوں مہنگائی کے طوفان میں مزید تیزی آ جائے گی۔

خیال رہے کہ پیٹرول زیادہ تر پرائیویٹ ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور دو پہیوں کی سواری یعنی موٹرسائیکلز میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا براہ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کو انتہائی مہنگائی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ تر بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیوں، ٹرینوں، اور زرعی انجنز مثلاً ٹرک، بسوں، ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور تھریشر میں استعمال ہوتا ہے۔

اس وقت لائٹ ڈیزل آئل کی ایکس ڈپو قیمت 111.06 روپے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت 113.53 روپے فی لیٹر ہے۔ لائٹ ڈیزل آئل کو فلور ملز اور پاور پلانٹس استعمال کرتے ہیں جبکہ مٹی کا تیل زیادہ تر کچھ بےایمان عناصر پیٹرول میں ملانے اور کچھ دور دراز علاقوں میں روشنی کرنے اور چولہے جلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

گزشتہ سال تک حکومت ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پیٹرول پر 30 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی اور مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل پر 6-8 روپے فی لیٹر لیوی وصول کرتی تھی۔پیٹرول اور ایچ ایس ڈی دو بڑی مصنوعات ہیں جو ملک میں ان کی بڑے پیمانے پر اور ابھی تک بڑھتی ہوئی کھپت کی وجہ سے حکومت کے لیے زیادہ تر آمدنی پیدا کرتی ہیں۔

پیٹرول کی فروخت اوسطاً 7 لاکھ 50 ہزا ٹن ماہانہ کو چھو رہی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ماہانہ کھپت تقریباً 8 لاکھ ٹن ہے، البتہ مٹی کے تیل اور ایل ڈی او کی ماہانہ فروخت عام طور پر 11ہزار اور 2 ہزار ٹن سے کم رہتی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس کی شرح، درآمدی برابری کی قیمت اور شرح تبادلہ کی بنیاد پر پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 5 روپے 30 پیسے اور 5 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

پاکستانی عوام IMF کا بجٹ کس طرح بھگتیں گے؟

اسی طرح مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بھی بالترتیب 5 روپے 80 پیسے اور 6 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اگر حکومت عوام پر مہنگائی کا دباؤ کم کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کو قدرے کم کر سکتی ہے لیکن اس کا زیادہ تر انحصار 6 ارب ڈالر کے پروگرام کی بحالی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ رابطوں پر ہوگا۔ حالیہ مہینوں میں حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ہر 15 روز بعد پیٹرولیم لیوی اور جنرل سیلز ٹیکس میں اضافہ کرتی آئی ہے۔

لیوی یا ٹیکس ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو 4 روپے تک بڑھتا رہے گا جب تک کہ یہ 30 روپے فی لیٹر اضافے کی حد نہ چھو لے جیسا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پایا تھا۔ پرائس کشن کے لحاظ سے ہر مہینے کی 15 تاریخ کو جی ایس ٹی ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔

اس وقت حکومت پیٹرول پر تقریباً 35 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 30 روپے 50 پیسے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ اگر حکومت عوام پر مہنگائی کا دباؤ کم کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کو قدرے کم کر سکتی ہے لیکن اس کا زیادہ تر انحصار 6 ارب ڈالر کے پروگرام کی بحالی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ رابطوں پر ہوگا۔

Related Articles

Back to top button