کپتان سی پیک پر چین کی ناراضگی دور کریں گے

وزیراعظم عمران خان وفد کےہمراہ دو روزہ چین کےسرکاری دورے پر بیجنگ کےلیے روانہ ہوگئے۔ وزیر اعظم دورے کے دوران چینی قیادت سے علاقائی اور دو طرفہ اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے جبکہ وزیراعظم چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی کیانگ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کرینگے۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بیجنگ پہنچ چکے ہیں۔
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبےکے مستقبل کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غلط فہمیوں کے ازالے اور تعطل کا شکار منصوبوں کی بحالی کے لئے وزیر اعظم عمران خان چین کا دورہ کر رہے ہیں ۔
خیال رہے کہ سی پیک سے منسلک اکثر منصوبے بدلتی ہوئی بین الاقوامی صورتحال اور امریکی مداخلت کے باعث کے باعث التوا کا شکار ہو چکے ہیں جس وجہ سے چین بھی پاکستان سے ناراض ہے۔ پاک چین سی پیک منصوبوں میں تعطل کی دیگر وجوہات میں حکومت کو درپیش مالی مسائل اور قومی احتساب بیورو کا خوف بھی شامل ہے جس کے باعث بیوروکریسی بھی عدم تعاون کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔
تحریک انصاف نے گذشتہ برس اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض سی پیک منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا ازسر نو جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا جس پر چین نے خاموش ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لئے مبینہ طور پر خزانہ ڈویژن نے سی پیک منصوبوں سے متعلق آئی ایم ایف کو تفصیلات فراہم کیں جس کے بعد چین کی ناراضی میں مزید اضافہ ہوا۔ تاہم اب حکومت پاکستان نے ملک کی خراب معاشی صورتحال’ بھارت کے ساتھ تنائو اور واشنگنٹن کی مودی کے ساتھ بڑھتی قربتوں کے پیش نظر چینی قیادت کو مطمئن کرنے اور اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر اعظم کا دورہ چین اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد چین کا یہ تیسرا دورہ ہے، عمران خان نے رواں برس اپریل میں بھی چین کا 4 روزہ سرکاری دورہ کیا تھا۔ اس دوران عمران خان نے بیجنگ میں دوسرے ون بیلٹ ون روڈ فورم میں شرکت کی تھی۔ دورے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان 15 سمجھوتوں اور اقتصادی تعاون، تجارت اور دیگر شعبہ جات کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے
پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق حالیہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں میں تمام رکاوٹوں کا خاتمہ اور ان کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close