افغانستان قونصل خانہ بند کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے

دفتر خارجہ کی طرف سے افغان وزیر خارجہ کے پشاور میں مارکیٹ سے متعلق بیانات کو مسترد کرتے ہوئے افغانستان سے درخواست کی ہے کہ وہ پشاور میں افغان قونصلیٹ کی بندش کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اس مسئلے اور اس سے متعلقہ واقعات پر مسخ شدہ اور گمراہ کن باتیں کی گئیں۔دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونیوالے بیان میں مزید کہا گیا کہ مارکیٹ سے متعلق مسئلہ ایک شخص اور افغانستان میں موجود بینک کے درمیان ہے اور اس ضمن میں عدالت نے 1998 میں اس شخص کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔ تاہم اس قانونی مسئلے پر افغان فریق کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے کارروائی کی۔تاہم دفتر خارجہ نے پاکستان میں عدالتی کارروائی کے خلاف کسی بھی قسم کے بیان کو مسترد کرتے ہیں ۔دفتر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ پشاور میں قونصل خانے کو دوبارہ کھولنے پر غور کیا جائے گا اور نجی نوعیت کے قانونی مسئلے کو دوطرفہ تعلقات میں دراڑ کا باعث بننے نہیں دیا جائےگا۔
واضح رہے کہ2روز قبل افغانستان نے مارکیٹ سے قومی جھنڈا اتارنے کے تنازع پر احتجاج کرتے ہوئے پشاور میں اپنا قونصل خانہ بند کردیا تھا۔ جبکہ افغان قونصل جنرل محمد ہاشم نیازی نے کہا کہ ہم پولیس کی جانب سے مارکیٹ سے افغانستان کا جھنڈا اتارنے کی مذمت کرتے ہیں اور پشاور میں قونصل خانہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ پشاور میں واقع افغان مارکیٹ پر کئی عشروں سے ایک مقامی شخص نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ یہ جگہ ان کی ملکیت ہے۔ شوکت جمال کشمیری، جن کے پاس مدعی کا مختارنامہ ہے، کہتے ہیں کہ سید زوار حسین کے والد کو یہ جگہ 1989 میں اُس جائیداد کے بدلے میں الاٹ کی گئی تھی جو اُنہوں نے پاکستان بننے کے بعد بھارت میں چھوڑی تھی۔
دوسری جانب افغان سفارتخانے کا موقف ہے کہ یہ مارکیٹ افغان حکومت نے تقسیم ہند سے پہلے خریدی تھی اور آج تک افغان نیشنل بینک کی ملکیت ہے۔اس حوالے سے افغان مارکیٹ کی انجمن تاجران کے چیئرمین نے بتایا کہ اس مارکیٹ پر سید زوار حسین نامی شخص کی جانب سے ملکیت کا دعوی کیا گیا لیکن اس شخص کو آج تک کسی نے نہیں دیکھا ان کے مطابق سید زوار کے نام پر قبضہ مافیا اس مارکیٹ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 1971 سے اس مارکیٹ پر مذکورہ دعوے دار اور افغان حکومت کے درمیان پاکستان کی مختلف عدالتوں میں مقدمات چلے اور جنوری 2017 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے سید زوار حسین کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جو افغان حکومت تسلیم نہیں کرتی۔اس حوالے سے افغان سفارتخانے کے حکام کا موقف ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کا یہ فیصلہ یک طرفہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close