ایڈز اور ایچ آئی وی مریضوں میں کیا فرق ہے؟

ایچ آئی وی، ایڈز کے بارے میں آگاہی پھیلانے والے نذیر مسیح کی کہانی
یہ سنہ 1990 کی بات ہے۔ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں ملازمت کرنے والے 30 سالہ نذیر مسیح فروری کی ایک سرد رات لاہور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے باہر نکلے تو اُنہیں گلے لگانے والا کوئی نہیں تھا۔
اِس سے پہلے وہ جب کبھی چھٹیاں گزارنے پاکستان آتے تھے تو تحفوں سے لدے نذیر کا استقبال کرنے کے لیے دوستوں اور رشتے داروں کا ایک ہجوم موجود ہوتا تھا۔
آج قریب 30 برس گزرنے کے بعد اُس دن کو یاد کرتے ہوئے نذیر مسیح بتاتے ہیں کہ انہوں نے جان بوجھ کر گھر والوں کو اپنے آنے کی اطلاع نہیں دی تھی۔ نذیر کے بقول اُن سے ایک ایسا جُرم سرزد ہو گیا تھا جس کی معافی اُس وقت کے پاکستان میں ممکن نہیں تھی۔
گرین ٹاؤن لاہور میں واقع اپنے آبائی گھر میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نذیر مسیح نے بتایا کہ اُن دِنوں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے غیر ملکیوں کے ویزے میں توسیع کو ایچ آئی وی، ٹی بی اور ہیپاٹائٹس بی اور سی کے منفی ٹیسٹ سے مشروط کر دیا تھا۔
’میں نے اپنے خون کے نمونے لیبارٹری بھجوائے تو کافی ٹائم کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر بعد میں مجھے لیب والوں نے بلوایا اور بتایا کہ میرے خون میں ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔‘
پرائمری کے بعد سکول چھوڑ دینے والے نذیر مسیح نہیں جانتے تھے کہ ایچ آئی وی کیا ہوتا ہے اور ایڈز کس بَلا کا نام ہے۔ اب وہ اِسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تسلیم کرتے ہیں۔
’میں وہاں تنہا تھا اور دو دو تین تین سال گھر نہیں جا پاتا تھا۔ انسان جب اکیلا ہوتا ہے تو کئی طرح کی سرگرمیوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہاں عورتیں ملتی تھیں تو میں نے اُن کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کر لیے۔‘
‘مجھے پتا ہوتا کہ جن عورتوں کے ساتھ میں جنسی تعلقات قائم کر رہا ہوں اُن کے ذریعے مجھے ایچ آئی وی وائرس منتقل ہو سکتا ہے تو میں ایسا ہرگز نہیں کرتا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ ایک لاعلاج مرض ہے۔’
نذیر مسیح کہتے ہیں کہ اُس زمانے میں پاکستان میں ایچ آئی وی کا نام لینا بھی ایک بہت بڑا جرم اور گناہ سمجھا جاتا تھا۔
’وہ بہت پریشانی کا ٹائم تھا۔ میں اپنے کمرے میں اکیلا چھپ چھپ کر روتا تھا۔ میں یہ سوچتا تھا کہ میں نے اپنے ہاتھوں اپنا کیریئر ختم کر لیا۔ میری زندگی تباہ ہو گئی ہے۔‘
پھر نذیر نے ہمت پکڑی اور اپنی اہلیہ کو رازدار بنا کر علاج کی کوششیں شروع کیں۔
’میری بیوی نے میرا بہت ساتھ دیا۔ وہ میرے ساتھ ڈاکٹروں کے پاس جاتی تھی۔ اُس نے مجھے سمجھایا کہ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ اگر تم ہمت ہار دو گے تو بچوں کا کیا بنے گا۔
’میں دو تین بڑے ہسپتالوں میں گھوما تو پتا چلا کہ وہاں ایچ آئی وی کا ٹیسٹ ہی نہیں ہوتا۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کا رویہ بھی بہت توہین آمیز ہوتا تھا۔ وہ ایچ آئی وی اور ایڈز میں تفریق نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھے ایڈز ہے۔‘
نذیر مسیح کے ایچ آئی وی پازیٹیو ہونے کی بات زیادہ عرصے چھپی نہ رہ سکی اور چند ہی دنوں میں یہ خبر عام ہو گئی۔ نذیر کے بقول محلے والوں کا رویہ فوراً تبدیل ہوگیا۔
’میں اگر گھر کے باہر کھڑا ہوتا تھا تو محلے دار کسی بہانے سے دور ہٹ جاتے تھے۔ میں ہاتھ ملانے کی کوشش کرتا تھا تو ہاتھ پیچھے کر لیتے تھے۔ ملنے والوں نے مجھ سے بات چیت بھی بند کر دی۔ لوگ کہا کرتے تھے کہ اِس گھر میں ایڈز کا مریض نذیر رہتا ہے۔‘
نذیر یاد کرتے ہیں کہ آج سے 25، 30 سال پہلے لوگ ایچ آئی وی ایڈز کو چھوت کی بیماری سمجھا کرتے تھے۔ عام خیال تھا کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ہاتھ ملانے اور ساتھ کھانا کھانے سے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہو جاتی ہے۔ نذیر مسیح کہتے ہیں کہ انسان آدھی موت اُس وقت ہی مر جاتا ہے جب معاشرہ اُس کے ساتھ اِس قسم کا رویہ روا رکھتا ہے۔
ماہرینِ صحت ایچ آئی وی اور ایڈز کو دو مختلف چیزیں قرار دیتے ہیں۔ سول ہسپتال کراچی کے ایچ آئی وی ٹریٹمنٹ سینٹر کے انچارج ڈاکٹر شاہ محمد شیخ کے مطابق ایچ آئی وی ایک وائرس ہے اور یہ وائرس اگر کسی شخص میں موجود ہے تو وہ ایڈز کا مریض نہیں ہو جاتا۔
ڈاکٹر شاہ محمد شیخ بتاتے ہیں کہ ’اگر مناسب احتیاط کے ساتھ ادویات استعمال کی جائیں تو ایچ آئی وی کو ایڈز میں تبدیل ہوتے ہوتے آٹھ سے 10 سال لگ سکتے ہیں اور اِس دوران متاثرہ شخص معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ کوئی اپنی تمام عمر ایچ آئی وی کے ساتھ گزار دے اور یہ وائرس ایڈز میں تبدیل نہ ہو۔‘
ڈاکٹر شیخ کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کا واحد علاج اے آر وی (اینٹی ریٹرو وائرل) ادویات ہیں جو متاثرہ شخص کو تمام عمر کھانی ہوتی ہیں۔ یہ ادویات وائرس کو ختم نہیں کر سکتیں لیکن مریض کی قوت مدافعت کو قائم رکھتی ہیں۔
ڈاکٹر شاہ محمد شیخ بتاتے ہیں کہ اگر ایچ آئی وی کا وائرس متاثرہ شخص کی قوتِ مدافعت پر حملہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو مریض آہستہ آہستہ بیمار رہنے لگتا ہے۔
’کبھی بخار، کبھی ڈائریا یا کبھی کوئی اور بیماری ہو جاتی ہے۔ مریض کا وزن کم ہونے لگتا ہے اور وہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اُس پر بیماریوں کا حملہ بڑھتا جاتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ بستر سے لگ جاتا ہے۔ اُس وقت کہا جاتا ہے کہ متاثرہ شخص ایڈز کا مریض ہوگیا ہے۔‘
ڈاکٹر شاہ محمد شیخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایچ آئی وی کا وائرس کئی طرح سے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔
’یہ انفیکشن ایک سے زیادہ جنسی شریکوں کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ اِس کے علاوہ انتقالِ خون کے دوران بداحتیاطی اور استعمال شدہ سرنج کا دوبارہ استعمال بھی اِس وائرس کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔‘
ڈاکٹر شیخ کہتے ہیں کہ ’ایچ آئی وی پازیٹیو ماں سے پیدا ہونے والے بچے کو یہ وائرس منتقل ہونے کے 40 فیصد امکانات ہوتے ہیں۔ اِس کے علاوہ سرجیکل اور ڈینٹل آلات اگر سٹرلائز نہ ہوں تو بھی یہ وائرس کسی شخص کو متاثر کر سکتا ہے۔‘
ایچ آئی وی ایڈز کا مرض دنیا بھر میں صحت کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے جس سے اب تک ساڑھے تین کروڑ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ صرف سنہ 2017 میں ایک کروڑ افراد ایڈز کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔
اقوام متحدہ کی ایڈز سے متعلق جائزہ رپورٹ 2019 کے مطابق پاکستان ان 11 ملکوں میں شامل ہے جہاں ایڈز کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی ادارہِ صحت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں 2017 کے دوران ایچ آئی وی ایڈز کے 20 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے صوبائی پروگرام مینجر ڈاکٹر سکندر علی میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ 65 ہزار افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں لیکن رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد صرف 25 ہزار ہے۔
ڈاکٹر میمن کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی قانون کے مطابق کسی بھی شخص کی اجازت کے بغیر اُس کا ایچ آئی وی ٹیسٹ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر ہائی رِسک گروپس کی درست جانچ پڑتال کی جائے تو ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی اصل تعداد سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ نکلے گی۔‘
ماہرین کے مطابق معاشرے کے چند مخصوص طبقوں میں عام آبادی کے مقابلے میں ایچ آئی وی انفیکشن کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ اِسی وجہ سے اُنھیں ہائی رِسک گروپس کہا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سکندر علی میمن بتاتے ہیں کہ ’ہائی رِسک گروپس میں سرِفہرست سرنج کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد ہیں جن کی تعداد ایچ آئی وی سے متاثرہ کسی بھی طبقے کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔‘
’اِس کے بعد خواجہ سرا اور تیسرے نمبر پر مرد سیکس ورکرز ہیں۔ سب سے آخر میں خواتین سیکس ورکرز ہیں جن کو ایچ آئی وی کا خطرہ ہوتا ہے۔‘
ڈاکٹر سکندر علی میمن کے مطابق ٹرک ڈرائیورز، جیلوں میں قید افراد اور تارکینِ وطن بھی ایچ آئی وی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ جو لوگ مختلف نوعیت کی سرجری اور انتقالِ خون کے عمل سے گزرتے ہیں اُن میں بھی ایچ آئی وی منتقل ہو سکتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں ایچ آئی وی کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ عالمی ادارہِ صحت کے مطابق 2003 سے لے کر اب تک پاکستان میں ایچ آئی وی کا وبائی انداز میں پھیلاؤ سات مرتبہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔
سنہ 2018 میں صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کے گاؤں کوٹ عمرانہ میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے 150 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔
رواں سال صوبہِ سندھ کے شہر لاڑکانہ کی تحصیل رتو ڈیرو میں پھیلنے والی وبا میں 800 سے زائد افراد میں ایچ آئی وی وائرس کی تصدیق ہوئی جن کی اکثریت بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل تھی۔
ماہرین کے مطابق ان دونوں واقعات میں ہائی رسک گروپس کے بجائے عام آبادی ایچ آئی وی وائرس کا شکار ہوئی جس کی بنیادی وجہ ڈاکٹروں اور اتائیوں کی بداحتیاطی اور غیر محفوظ طریقہِ علاج ہے۔
ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص کے بعد نذیر مسیح نے فیصلہ کیا کہ وہ خود بھی زندہ رہیں گے اور اپنے جیسے دوسرے لوگوں کو بھی زندہ رکھنے کی کوشش کریں گے۔
’میں نے اپنے علاقے میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ پہلے مجھے صرف پانچ لوگ ملے جو بدنامی کے ڈر سے اپنی صورتحال ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ میں اُن کو لیبارٹری ٹیسٹ اور ادویات حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنے لگا۔ ساتھ ساتھ میں نے اپنا علاج بھی شروع کردیا۔‘
نذیر بتاتے ہیں کہ 90 کی دہائی میں پاکستان میں ایچ آئی وی وائرس کی مخصوص ادویات یعنی اے آر وی (اینٹی ریٹرو وائرل) ادویات موجود نہیں تھیں۔ وہ اکثر یہ دوائیں انڈیا سے منگوا کر مریضوں کو دیتے تھے۔
اِسی دوران اُنہیں یواین ایڈز کی جانب سے فلپائن میں ایچ آئی وی ایڈز پر ایک کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ وہاں سے واپسی پر انھوں نے اپنی غیر سرکاری تنظیم قائم کی اور ایچ آئی وی ایڈز سے متعلق آگاہی پھیلانے کا بیڑا اُٹھایا۔
حکومتِ پاکستان کے زیر انتظام قومی اور صوبائی سطح پر ایڈز کنٹرول پروگرام جاری ہے جس کے تحت ہسپتالوں میں ایچ آئی وی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ اِن کلینکس میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے صوبائی پروگرام مینجر ڈاکٹر سکندر علی میمن کے مطابق اِن مراکز میں علاج کے لیے دوائیں اور ٹیسٹ مفت ہیں۔ اِس کے علاوہ کلینکس میں آنے والی تمام حاملہ ماؤں کی سکریننگ بھی کی جاتی ہے تاکہ پیدا ہونے والے بچے میں ایچ آئی وی وائرس کے امکانات کو کم کیا جاسکے۔
ڈاکٹر میمن نے بتایا کہ ’صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت ہائی رسک گروپس کے ساتھ منسلک غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر ایچ آئی وی کے بارے میں آگہی کے لیے بھی کام کیا جا رہا ہے۔‘
ماہرینِ صحت کے مطابق ایڈزایک لاعلاج بیماری ہے لہذا اِس سے بچنے کا واحد طریقہ احتیاط ہے۔
سول ہسپتال کراچی کے ایچ آئی وی ٹریٹمنٹ سینٹر کے نگراں ڈاکٹر شاہ محمد شیخ بتاتے ہیں کہ انتقالِ خون کے دوران یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ خون صرف معیاری اور رجسٹرڈ بلڈ بینکس سے حاصل کیا گیا ہو اور مریض کے جسم میں منتقل کرنے سے پہلے اُس کی مکمل جانچ کی گئی ہو۔
’دورانِ علاج اِس بات کا خیال رکھا جائے کہ ہر بار نئی سرنج استعمال کی جائے۔ عوام کو چاہیے کہ دانتوں کا علاج بھی صرف مستند ڈاکٹروں سے کروائیں جو سٹرلائز شدہ آلات استعمال کرتے ہوں۔ اِسی طرح نائی سے شیو کرواتے وقت یہ تسلی کر لی جائے کہ نیا بلیڈ استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
ڈاکٹر شاہ محمد شیخ کے مطابق جنسی رویوں میں احتیاط کے ذریعے بھی ایچ آئی وی سے بچا جا سکتا ہے۔ اُن کا مشورہ ہے کہ ایک سے زائد جنسی شریک رکھنے والے افراد محفوظ سیکس کی عادت اپنائیں اور کنڈوم کا لازمی استعمال کریں۔
نذیر مسیح یاد کرتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب لوگ ایچ آئی وی ایڈز کا نام سنتے ہی فیصلہ کر لیتے تھے کہ متاثرہ شخص یقیناً جنسی بے راہ روی کا شکار ہوگا۔ لیکن اب سوچ تبدیل ہو رہی ہے اور لوگ جان گئے ہیں کہ یہ وائرس دیگر ذرائع سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
’اب بھی بہت سے لوگوں کو غلط فہمی ہے۔ کچھ سمجھتے ہیں کہ یہ وائرس متاثرہ شخص کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے، کھانا کھانے اور ہاتھ ملانے سے منتقل ہو جاتا ہے جو درست نہیں۔ اِس بارے میں آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔‘
پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے منفی سماجی رویوں کی وجہ سے اب بھی اکثر مریض اپنا ایچ آئی وی پازیٹیو سٹیٹس چھپاتے ہیں اور علاج سے کتراتے ہیں جو نادانستہ طور پر مرض کے مزید پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مریض اور اُس کے خاندان کے افراد کو چاہیے کہ ایچ آئی وی کو کسی بھی دوسری بیماری کی طرح لیں اور بروقت تشخیص اور علاج کروائیں۔
نذیر مسیح مانتے ہیں کہ اصل اور دیرپا تبدیلی معاشرتی رویے بدلنے سے آئے گی۔
’بحیثیت معاشرہ ہمیں اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ ہم نے ایچ آئی وی کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ ہمیں ایچ آئی وی ایڈز اور اِس سے متاثرہ افراد کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ یہ پاکستان میں ایچ آئی وی پر قابو پانے کی جانب پہلا قدم ہوگا۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close