کیا آپ بھی سردی کے موسم میں تنہائی کا شکار ہیں؟

موسم سرما میں اکثر افراد تنہائی اور اداسی محسوس کرتے ہیں جس کے باعث ان کا کسی کام میں دل نہیں لگتا، تھکن محسوس کرتے ہیں اور ان کے مزاج میں بھی چڑچڑاہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق بدلتے موسم میں مزاج کا بدلنا seasonal affective disorder SAD کہلاتا ہے جس سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔
دی میڈیکل ڈائریکٹر آف ہیلتھ کلینک لندن کے ڈاکٹر ارون تھیاگراجان کا کہنا ہے کہ جب راتیں طویل ہوجاتی ہیں اور درجہ حرارت کم ہونے لگتا ہے تو عام طور پر مزاج میں تبدیلی یعنی بوجھل پن محسوس ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ارون تھیاگراجان نے sad کی علامات کی نشاندہی کی ہے کہ اس بیماری کا شکار افراد کو صبح اٹھنے میں مشکل ہوتی ہے، بھوک زیادہ لگتی ہے جس میں میٹھے کی طلب زیادہ ہوتی ہے، روزانہ کی سرگرمیوں سے دلچسپی ختم ہو جاتی ہے اور دل میں اداسی محسوس ہوتی ہے۔
ایسے میں ماہرین بدلتے موسم میں مزاج کو خوشگوار رکھنے کے لیے چند اہم مشورے دیے ہیں۔
صبح سویرے اٹھنے کی کوشش
ڈاکٹر ارون تھیاگراجان کا کہنا ہے کہ صبح کا وقت انتہائی اہم ہوتا ہے، اس وقت سورج کی کرنوں سے وٹامن ڈی حاصل ہوتی ہے جو جسمانی قوت اور مزاج کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق صبح کے وقت چہل قدمی کرنے سے دن بھر جسم کے اعضاء ایکٹو رہتے ہیں اور اگر کہیں باہر نہیں بھی جا سکیں تو گھر میں کھڑکی سے صبح کے نظارے کرنے سے بھی مزاج خوشگوار ہو سکتا ہے۔
ورزش کرنا
ماہرین کا کہنا ہے کہ Sad کو شکست دینے کے لیے روزانہ وزرش کرنا انتہائی اہم ہے۔ روزانہ ورزش کرنے سے ہارمونز ایکٹو رہتے ہیں، ساتھ ہی اس سے دماغی اور جسمانی صحت بھی نشونما پاتی ہے۔
پانی کا زیادہ استعمال
ماہرین کے مطابق موسم سرما میں جسم کی نشونما پر خاص طور پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ سردی کا موسم خُشک ہوتا ہے جس کے باعث جسم میں پانی کی کمی کی شکایت ہوتی ہے لہذا اس دوران پانی کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے تاکہ جسم ہائیڈریٹڈ رہے جو دن بھر ترو تازہ رہنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ سیر و تفریح کریں
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بدلتے موسم میں Sad کی علامت تنہائی محسوس ہو تو اپنا وقت فیملی اور دوستوں کے ساتھ گزاریں، ان سے باتیں کریں اور ان کے ساتھ کہیں تفریحی مقامات کا رُخ کریں۔
ڈاکٹر ارون کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر روزانہ فیملی یا دوستوں کے ساتھ باہر نہ بھی جانا ہو تو ہفتے میں ایک بار ضرور جائیں، اس کے نتیجے میں اکیلا پن محسوس نہیں ہو گا، دل بھاری نہیں ہو گا اور دماغی تناؤ سے بھی بچا جا سکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close