ہر سال 90 ہزار خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہونے لگیں

ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ بریسٹ کینسر کی شرح پاکستان میں ہی پائی جاتی ہے، ہر سال 90 ہزار کے قریب نئے کیسز کی تشخیص ہوتی ہے جن میں سے 40 ہزار خواتین کی موت ہو جاتی ہے، مختلف ریسرچ کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک ہر 9 میں سے ایک خاتون اس مرض کا شکار ہو سکتی ہے اور یقینا یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ اس مہلک مرض کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کی شرح پاکستان میں ہی اتنی زیادہ کیوں ہے؟ مزید براں یہ کہ اس مرض سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق ہمارے جسم میں پائے جانے والے سیلز (خلیے) ضرورت کے مطابق تقسیم ہوتے ہیں اور جسم کی نشو ونما میں حصہ لیتے ہیں، اگر یہ سیلز کسی بھی حصے میں ضرورت سے زیادہ تقسیم ہو جائیں یا چلے جائیں تو اس حصے میں سیلز کا ایک گروہ بن جاتا ہے جسے سائنسی اصطلاح میں ٹیومر (رسولی) کہتے ہیں جو کہ آگے چل کر کینسر کی شکل اختیار کر لیتا ہے اگر یہ ٹیومر بریسٹ کے سیلز میں بن جائے تو بریسٹ کینسر کا موجب بن جاتا ہے۔
ڈی این اے کے بارے میں تو ہم سب جانتے ہیں اب یہ بھی جان لیجیے کہ اس کے ایک حصے کو جین کہا جاتا ہے، کسی بھی کام کے لیے یہ جینز مخصوص ہوتی ہیں، بریسٹ کے سیلز کی بے اختیار تقسیم کو روکنے کے لیے دو طرح کی جینز ہیں جوکہ ’اور‘ کہلاتی ہیں، اگر ان جینز میں کوئی تبدیلی ہو جائے جسے سائنسی زبان میں ’میوٹیشن‘ کہا جاتا ہے تو یہ جینز بریسٹ کے سیلز کی بے اختیار تقسیم کو روکنے میں ناکام ہو جاتی ہیں۔ اور بریسٹ کینسر کے اسباب میں سے یہ ’میوٹیشن‘ اس کا سب سے بڑا سبب ہے۔
مزید براں اس کے اسباب میں بہت سے ماحولیاتی عوامل بھی شامل ہیں،کسی مریض میں اس کی وجہ جین کا ناکارہ ہو جانا بھی ہے اور کسی مریض میں اس کی وجہ ماحولیاتی عوامل بھی بنتے ہیں، کبھی یہ دونوں طرح کے اسباب مل کر بریسٹ کینسر کا موجب بھی بن سکتے ہیں، لیکن ان عوامل کے علاوہ بھی کچھ ایسے اسباب ہیں جو اس مرض کے رحجان کو بڑھا دیتے ہیں اور ان کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔

بریسٹ کینسر کے دیگر عوامل میں درج ذیل بھی شامل ہیں۔

عمر:
ڈاکٹرز کے مطابق بریسٹ کینسر کا رحجان بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے، 40 سال سے کم عمر کی خواتین میں اس مرض کا خطرہ کم ہوتا ہے، تاہم بڑھتی عمر میں اس مرض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، ریسرچ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہر 3 میں سے 2 خواتین جن میں یہ مرض تشخیص ہوتا ہے ان کی عمر 55 سال کے قریب ہوتی ہے۔

جنس :
بریسٹ کینسر کے حوالے سے عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ مرض صرف عورتوں میں ہوتا ہے، ایسا بالکل درست نہیں ہے، یہ مرض مردوں میں بھی ہو سکتا ہے مگر اس کا رحجان عورتوں میں مردوں کی نسبت 100 گنا زیادہ ہوتا ہے، اس لیے یہ مرض صرف عورتوں میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

خاندانی پس منظر:

بریسٹ کینسر کے اسباب میں سب سے بڑا سبب جینز کی تبدیلی ہے اس لیے اس مرض کے ایک ہی خاندان کی خواتین میں پائے جانے کے امکانات زیادہ ہیں، اگر کسی خاتون کی ماں، باپ، بہن یا بیٹی میں بریسٹ کینسر موجود ہے تو اس خاتون میں بھی اس مرض کا رحجان بڑھنے کے امکانات ہوتے ہیں۔

ذاتی صحت :
اگر کسی بھی مریض میں ایک بار ایک بریسٹ میں اس کی تشخیص ہو جائے تو دوسری بریسٹ میں اس مرض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

افزائش نسل کا نظام :
ری پروڈکٹو سسٹم (افزائش نسل کا نظام ) کا بریسٹ کینسر کے ساتھ گہرا تعلق ہے، اگر حیض کا عمل 12 سال سے کم عمر میں شروع ہو جائے یا 55 سال کے بعد ختم ہو تو اس مرض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، ایسی خواتین جو عمر کے آخری حصے میں بچوں کو جنم دیں اور ایسی خواتین جو بانجھ ہوں ان میں بھی بریسٹ کینسر کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں۔

موٹاپا :
وزن کا زیادہ ہونا یا عورتوں میں موٹاپا اس مرض کے رحجان کو بڑھا دیتا ہے، ان خواتین میں موٹاپا اس مرض کا باعث بنتا ہے جن میں حیض کا عمل جلد ختم ہو جاۓ۔

جسمانی سرگرمیوں کا نہ ہونا:
جو خواتین اپنی روز مرہ کی زندگی میں مناسب ورزش نہیں کرتیں اور سست زندگی گزارتی ہیں ان میں بھی بریسٹ کینسر کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا تمام اسباب کے ساتھ ساتھ اگر کوئی خاتون اپنے بچے کو دودھ نہ پلائے یا اس کی خوراک صحت افزا نہ ہو یا وہ سگریٹ نوشی کی عادی ہو تو اس مرض کا امکان بڑھ جاتا ہے یہاں یہ بات بھی دہرانا لازمی ہے کہ کچھ ایسی وہمی باتیں معاشرے میں بریسٹ کینسر کی وجوہات کو لے کر پائی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، جیسا کہ بہت سے لوگ اسے وبائی مرض سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ یہ مریض کو چھونے یا اس کے پاس جانے سے کسی دوسرے کو بھی ہو جائے گا ایسا بلکل نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close