سانپ کے ڈسنے پر کسان نے اپنی انگلی ہی کاٹ دی

ساﺅتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ ژجیانگ کے ضلع شانگیو کے ایک گاﺅں میں ایک زہریلے سانپ نے 60 سالہ کسان کو انگلی پر ڈس لیا اور اسے جو واحد راستہ جان بچانے کے لیے سمجھ میں آیا وہ انگلی کاٹ لینا تھا، جس کے بعد اس نے قریبی شہر میں ہسپتال کا رخ کیا۔
مگر وہاں جب ڈاکٹروں نے مریض کا علاج شروع کیا تو یہ دل توڑ دینے والا انکشاف کیا کہ کسان کو اپنی انگلی کاٹنے کی ضرورت نہیں تھی۔
جس سانپ نے کسان کو کاٹا تھا، وہ پٹ وائپر کہلاتا ہے جس کے بارے میں مقامی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جب یہ سانپ ڈس لے تو وہ 5 قدم چلنے کے بعد زہر کے اثر سے گر کر مرجاتا ہے۔
اسی خیال کے پیش نظر زہر کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کسان نے فوری طور پر اپنی شہادت کی انگلی کو کاٹ دیا اور پھر زخم پر پٹی لپیٹ کر 80 کلومیٹر دور ہینگزو میں واقع ہسپتال پہنچا۔
اس کسان کا نام زینگ بتایا گیا ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت ٹھیک ہے اور کسی قسم کی خطرناک علامات جیسے سانس لینے میں مشکلات، سردرد یا مسوڑوں سے خون آنے وغیرہ کا سامنا نہیں ہوا۔
ڈاکٹر یوآن چینگدا کے مطابق کسان کو اپنی انگلی کاٹنے کی ضرورت نہیں تھی، درحقیقت وہ سانپ بہت زیادہ زہریلا نہیں تھا۔
اس طرح کے سانپ کی مختلف اقسام کا زہر خون کے خلیات کو نقصان پہنچا کر جریان خون کا باعث بنتا ہے اور بڑی جسامت کے سانپ انسانوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔
چین میں سانپ کے ڈسنے پر کسان جیسے ردعمل کا اظہار غیرمعمولی نہیں بلکہ سانپ ڈسنے کے بعد علاج کے حوالے سے زیادہ معلومات نہ ہونے کے باعث لوگ زخم کے مقام کو کاٹ کر وہاں سے خون چوستے ہیں تاکہ زہر نکل سکے جو کارآمد نہیں ہوتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close