پاکستان میں’پرندوں کےبادشاہ ‘کی نسل معدوم ہونے کا خدشہ

جیجیل یعنی ویسڑن ٹراگوپن دنیا کا خوبصورت ترین اور شرمیلے مزاج کا ایک نایاب پرندہ ہے۔ یہ شکاریوں سے آنکھ بچا کر اپنی نسل کے بقا کی اپنی سی کوشش میں ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقے کوھستان میں ویسڑن ٹراگوپن کو جیجیل اور بھارت ہماچل پردیش میں ججورانا کے نام سے پکارا جاتا ہے جس کا مطلب ’پرندوں کا بادشاہ‘ ہے۔
انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں اس پرندے کی سب سے زیادہ تعداد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی پالس میں پائی جاتی ہے۔ تاہم یونین نے اس نایاب پرندے کی مکمل معدومی کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔اس وقت دنیا میں ویسڑن ٹراگوپن کی مجموعی تعداد پچیس سو سے تین ہزار تک بتائی جاتی ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف کے ایک سروے کے مطابق پالس میں اس پرندے کے چھ سو جوڑے یعنی ان کی کل تعداد بارہ سو تک بنتی ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کے اہلکار افتخاراحمد کے مطابق انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چند علاقوں میں بھی یہ پرندہ پایا جاتا ہے۔جبکہ گرمیوں میں چوبیس سو سے چھتیس سو میٹر اور سردیوں میں دو ہزار سے اٹھائیس سو میڑ بلندی کے جنگلات اس کی آماجگاہیں ہوتی ہیں۔
جیجیل کی اہمیت اور نایابی کا اندازہ ہونے کے بعد وادی پالس کے مقامی عمائدین نے جرگہ بلا کر اس پرندے کی حفاظت یقینی بنانے اور اس کے شکار پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔جرگے کے ایک رکن اکبر خان کے مطابق اس نایاب پرندے کے شکار پر وادی پالس میں جرمانہ بھی عائد ہے کیونکہ جیجیل کی وجہ سے وادی پالس کی اہمیت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
پالس کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ حفاظتی اقدامات اٹھانے سے اس پرندے کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔مگر پرندوں کے بادشاہ کو یہ تحفظ شاید اب ذیادہ عرصہ حاصل نہیں رہے گا۔ اس کی وجہ خراب ماحول نہیں بلکہ اسے خراب کرنے والے ترقیاتی منصوبے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق داسو ڈیم کی مجوزہ ٹرانسمیشن لائن وادی پالس سے گزرے گی۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ’ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے لیے بنیادی کام بھی شروع ہو چکا ہے یعنی کھمبے اور تاریں علاقے میں پہنچا دی گئی ہیں جو ان پرندوں کے لیے کسی پھانسی کے پھندے سے کم نہیں ہیں۔‘
واپڈا کی تیار کردہ ماحولیات کی تشخیص رپورٹ کے مطابق پالس سے ٹرانسمیشن لائن گزرنے سے ویسڑن ٹراگوپن سمیت دیگر نایاب پرندوں اور جنگلی حیات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔وادی پالس کو پرندوں کے حوالے سے برڈ لائف انٹرنیشنل لندن نے انتہائی اہم علاقہ قرار دیا ہے۔ تاہم واپڈا کی رپورٹ کے مطابق داسو ڈیم منصوبے کے علاقے میں ان پرندوں کی آماجگاہیں محفوظ نہیں رہیں گی۔
واپڈا کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ وائلڈ لائف نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ کوھستان کی وادی پالس کو جنگلی حیات کے لیے محفوظ علاقہ قرار دے کر تحفظ یقینی بنایا جائے ۔تاہم اس میں جیجیل یعنی ویسڑن ٹراگوپن کے تحفظ کی سفارش پہلے نمبر پر کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close