کیا اپوزیشن صدر علوی کے خلاف کچھ کرنے والی ہے؟

مسلم لیگ ن نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر مشکلات میں گھری تحریک انصاف کی حکومت کو ایک اور گھائو لگانے کے لئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا مواخذہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کے دوارکان کی خلاف ضابطہ نامزدگی پر صدر مملکت آئین کے آرٹیکل 47 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔
بعدازاں جب چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار اے رضا نے ان اراکین سے حلف لینے سے انکار کرتے ہوئے صدر مملکت کو بتایا کہ ان کا یہ قدم غیر آئینی ہے تو الیکشن کمشنر کو مواخذے کی دھمکیاں دی گیئں۔ ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر شاہنواز رانجھا کے مطابق ن لیگ میں صدر کے مواخذے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے، اب دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرکے اس حوالے سے جلد عملی قدم اٹھایا جائے گا۔
اپوزیشن جماعتوں نے صدرِ مملکت عارف علوی کے مواخذے کے لئے عدالت جانے کا فیصلہ کرلیاہے۔ سینئیر صحافی حامد میر کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما بیرسٹر شاہنواز رانجھا نے کہا ہے کہ صدرِ مملکت نے غیر قانونی طور پر الیکشن کمیشن کے دو ممبران مقرر کیے اور عدالت نے انہیں معطل کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ ن اس سلسلے میں دیگر جماعتوں سے مشاورت کرے گی جس کے بعد عدالت جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی مشاورت کے بغیر الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تعیناتی کے خلاف درخواست پر حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا تھا جس کے بعد اس تقرری کو معطل کردیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران کہا تھا کہ یہ معاملہ حزب مخالف کو پارلیمان میں اٹھانا چاہیے تھا اور ایسے معاملات کو پارلیمنٹ کی بجائے عدالتوں میں کیوں لایا جاتا ہے؟ درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے جہانگیر جدون کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے دونوں ارکان کی تعیناتی میں وزیراعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے درمیان بامقصد مشاورت کا قانونی تقاضا پورا ہی نہیں کیا گیا اس لیے تعیناتی غیر قانونی ہے۔ الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی ریٹائرمنٹ کے بعد وزیر اعظم عمران خان اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے درمیان نئے ارکان کی تعیناتی کے لیے خط و کتابت ضرور ہوتی رہی لیکن اس سے متعلق بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار سے یہ بھی استفسار کیا کہ آیا اس تعیناتی کو اپوزیشن لیڈر نے کہیں چیلینج کیا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو ہو سکتا ہے وہ اس فیصلے سے متفق ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close