تمباکو نوشی کے دماغ پر تباہ کن اثرات

اکثر لوگ مایوسی اور ذہنی تناؤ کا شکار نظر آتے ہیں، دیگر وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ تمباکو نوشی بھی ہے، دنیا بھر میں سگریٹ پینا اچھا فعل نہیں سمجھا جاتا، درحقیقت تمباکو نوشی سے ذہنی صحت کے مسائل جیسے ڈپریشن اور منتشر ذہن (شیزوفرینیا) لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ تو پہلے سے کہا جارہا تھا کہ تمباکو نوشی ذہنی صحت کے مسائل کے شکار افراد میں زیادہ عام ہوتی ہے، مگر یہ واضح نہیں تھا کہ تمباکو نوشی ان امراض کا سبب ہے یا ذہنی صحت متاثر ہونے پر لوگ اس عادت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
برسٹل یونیورسٹی کی اس تحقیق میں اس کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے دریافت کیا کہ ایسے شواہد موجود ہیں جو دونوں چیزوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سگریٹ نوشی کے نتیجے میں سنگین جسمانی امراض کے شکار ہونے کے بارے میں تو لوگ پہلے ہی جانتے ہیں، مگر اس نئی تحقیق میں ذہنی صحت پر روشنی ڈالی گئی ہے، چاہے وہ ذہنی امراض کا شکار ہوں یا نہ ہوں۔
ایک تحقیق کے مطابق 5 لاکھ کے قریب افراد کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا گیا کہ تمباکو نوشی سے ڈپریشن اور شیزوفرینیا کا خطرہ کس حد تک بڑھ سکتا ہے۔ محققین کے مطابق وہ یہ تو ثابت نہیں کرسکے کہ سیگریٹ نوشی ڈپریشن یا شیزوفرینیا کا باعث ہے مگر ایسے شواہد ملے ہیں جو ان دونوں کے درمیان تعلق ثابت کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ان ذہنی امراض کے شکار افراد میں تمباکو نوشی شروع کرنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے، تاہم اس عادت کے نتیجے میں ذہنی صحت متاثر ہونے کے شواہد زیادہ مضبوط تھے۔ محققین کا ماننا تھا کہ نکوٹین دماغی ریسیپٹرز ڈوپامائن اور سیروٹونین پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ڈوپامائن ایسا قدرتی کیمیکل ہے لوگوں کے جذبات کو ریگولیٹ کرتا ہے جبکہ سیروٹونین کو خوشی کا کیمیکل بھی کہا جاتا ہے۔ تحقیق کے دوران ایسے جینز کو دیکھا گیا جو ماضی میں تمباکو نوشی شروع کرنے والے افراد سے جوڑے گئے۔ اس کے بعد محققین نے 2 الگ جینیاتی ڈیٹابیس کو استعمال کیا جو شیزوفرینیا اور ڈپریشن کے ہزاروں افراد کا تھا، تاکہ جان سکیں تمباکو نوشی سے منسلک جینز اس عوارض کا خطرہ کس حد تک بڑھاتے ہیں۔
نتائج سے ثابت ہوا کہ تمباکو نوشی شروع کرنا اور بہت زیادہ تمباکو نوشی ڈپریشن اور شیزوفرینیا کا خطرہ بہت زیادہ بڑھاتے ہیں، مثال کے طور پر جو افراد 15 سال تک روزانہ 20 سیگریٹ پیتے رہے اور پھر 17 سال تک اس سے دور رہے، ان میں تمباکو نوشی سے ہمیشہ دور رہنے والوں کے مقابلے میں شیزوفرینیا اور ڈپریشن کا شکار ہونے کا خطرہ دوگنا زیادہ ہوگا۔
اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں برسٹل یونیورسٹی کی ہی ایک اور تحقیق میں خبردار کیا گیا تھا کہ تمباکو نوشی آپ کے چہرے کو جوانی میں ہی بوڑھا بھی کرسکتی ہے۔
برسٹل یونیورسٹی کی تحقیق میں یوکے بائیو بینک کے 2 گروپس کو دیکھا گیا جس میں ایک گروپ میں شامل ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد نے کبھی تمباکو نوشی نہیں کی تھی جبکہ ڈیڑھ لاکھ کا دوسرا گروپ ایسے لوگوں پر مشتمل تھا جو سابق یا اب بھی سیگریٹ پینے کے عادی تھے۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے 18 ہزار عادات کو سرچ کیا اور ان کا موازنہ ان دونوں گروپس کے ساتھ کیا۔
نتائج سے انکشاف ہوا کہ جو لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں یا کرتے رہے ہیں، ان کے چہرے کی عمر بہت تیزی سے بڑھتی ہے اور وہ قبل از وقت ہی بوڑھا محسوس ہونے لگتا ہے جب کہ اس عادت سے پھیپھڑوں کے افعال خراب ہوتے ہیں اور جلد کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے ایسا طریقہ کار تجویز کیا ہے جو کہ بہت زیادہ تمباکو نوشی کے اثرات کو جاننے میں مدد دیتا ہے، ہزاروں عادات کو دیکھنے کے بعد یہ دریافت کیا گیا کہ یہ عادت کس طرح اثرات مرتب کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close