فوج نے الیکشن کی نگرانی نہ کرنے کا مولانا کا مطالبہ مان لیا

پاکستانی فوجی ترجمان کے الیکشن میں فوج کے کردار کے حوالے سے تازہ ترین بیان سے لگتا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے کیا جانے والا ایک دیرینہ مطالبہ تسلیم کر لیا ہے جس کے تحت آئندہ انتخابات کی نگرانی کا فریضہ فوج کو سرانجام نہیں دینا چاہیے۔ فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ہم ٹی وی کو ایک تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے یہ دعوی کیا ہے کہ آرمی چیف چاہتےہیں ایساالیکشن پراسس تیار کیاجائےجس میں فوج کا کوئی کردار نہ ہو۔
یاد رہے کہ پاکستان کی تمام اپوزیشن جماعتوں کا یہ موقف ہے کہ 2018 کے الیکشن ملکی تاریخ کے گندے ترین انتخابات تھے جن میں افواج پاکستان کی نگرانی میں نتائج کو چوبیس گھنٹے لیٹ کر کے تحریک کے انصاف کو جتوایا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے تو الیکشن کے فوراً بعد ہی دیگر جماعتوں کو مشورہ دیا تھا کہ انتخابی نتائج کو مسترد کرکے تحریک چلائی جائے لیکن تب ن لیگ کی قیادت پابندسلاسل تھی اور شہباز شریف نے اس تجویز پر کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ دوسری طرف پی پی پی کی قیادت نے بھی بدلے حالات دیکھ کر سندھ میں حکومت بنا لینے میں ہی عافیت جانی۔ الیکشن 2018 کے بعد اپوزیشن کے مطالبے پر وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے ایک پارلیمانی کمیشن بنانے کا اعلان کیا لیکن بعد ازاں یہ کمیشن ٹرمز آف ریفرنس کا تعین نہ ہو سکنے کی وجہ سے تشکیل ہی نہ پا سکا۔ اب مولانا فضل الرحمن نے لانگ مارچ کا آغاز کیا تو ان کا ایک بنیادی مطالبہ وزیراعظم کے استعفیٰ کے علاوہ فوج کی نگرانی کے بغیر نئے انتخابات کا انعقاد تھا تاکہ دھاندلی کا امکان ختم کیا جا سکے۔ تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے مولانا کی تقریر کے جواب میں سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ قومی اداروں پر الزامات لگانے سے پرہیز کیا جائے لیکن مولانا کی جانب سے لانگ مارچ کے روزانہ خطابات میں فوج کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد اب فوجی ترجمان نے اپنا لہجہ نرم کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو پاکستان سے محبت کرنے والا ایک سینئر سیاستدان قرار دے دیا ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ فوج کی ایسی کوئی خواہش نہیں کہ اس کا انتخابات میں کسی قسم کا کوئی کردار ہو۔ آصف غفور نے کہا کہ فوج ایک غیر جانبدار ادارہ ہے جو کسی بھی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوتی جب تک اسے حکومت نہ کہے۔ آصف غفور کا دعوی تھا کہ الیکشن میں فوج کاکوئی کردارنہیں، اسےصرف سیکیورٹی کےلیےبلایاجاتاہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ فوج کی خواہش نہیں ہوتی کہ الیکشن میں کوئی کرداراداکریں، آرمی چیف بھی چاہتےہیں کہ الیکشن میں فوج کاعمل دخل کم سےکم ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف چاہتےہیں ایسا الیکشن پراسس تیار کیا جائے جس میں فوج کا کوئی کردارنہ ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں فوج کا کوئی عمل دخل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 کے دھرنے میں پاک فوج نے حکومت کا ساتھ دیا تھا لیکن الیکشن 2018 میں فوج کا کوئی سیاسی کردار نہیں تھا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے سابق سربراہ آئی ایس آئی پنجاب اور موجودہ وزیر داخلہ بریگیڈئیر اعجاز شاہ نے مولانا فضل الرحمن کی طرف سے الیکشن میں فوج کا کردار ختم کرنے کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ سما ٹی وی چینل سے گفتگو میں اعجاز شاہ نے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے پہلے دو مطالبے یعنی وزیر اعظم کا استعفیٰ اور از سر نو انتخابات بلاوجہ ہیں، تاہم ان کی تیسری شرط کہیں زیادہ خطرناک ہے کیونکہ آج تک ہم یہ کہتے آئے ہیں کہ فوج کے بغیر الیکشن آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہو سکتے لیکن اب ہم پہلی مرتبہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ الیکشن فوج کے بغیر ہونے چاہیں۔‘ اعجاز شاہ نے کہا کہ وہ تیسری شرط اس لیے خطرناک سمجھتے ہیں کہ فوج ایک ادارہ ہے جس پر اب تک سب کو اعتماد تھا، لیکن جب آپ کہتے ہیں کہ فوج الیکشن سے دور رہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اس پر اعتماد نہیں رہا جو بڑی بدقسمتی ہے۔ تاہم اب فوجی ترجمان کے الیکشن کے حوالے بیان سے لگتا ہے کہ فوج بطور ادارہ اس بات کو تسلیم کر رہا ہے کہ انتخابات کی نگرانی کے عمل سے اس پر لگنے والے الزامات ادارے کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں لہذا الیکشن کی نگرانی کے عمل سے فوج کو دور رہنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close