لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹرز کی ہڑتال غیر قانونی قرار دے دی

لاہور ہائی کورٹ نے دوران ڈیوٹی ہڑتال کو جرم قرار دیتے ہوئے پنجاب میں ڈاکٹروں کی ہڑتال پر پابندی عائد کر دی۔ پنجاب حکومت کو ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنےاور ان کے لائسنس بھی منسوخ کرانے کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے حکومتی آرڈیننس کے خلاف احتجاج کرنے والے ینگ ڈاکٹرز کو فوری ہڑتال ختم کرنےکی ہدایت جاری کر دی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس جواد حسن نے پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019 کے نفاذ کے خلاف ینگ ڈاکٹرز کی جاری ہڑتال کیخلاف دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی، پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم ڈی سی)، کالج آف فزیشن اور ینگ ڈاکٹرز کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے ۔ سماعت کے دوران ینگ ڈاکٹر زکے وکیل نے موقف اپنایا کہ او پی ڈی میں ہڑتال نہیں ہے، جو آرڈیننس نافذ کیا گیا وہ نامکمل ہے، اس پر عدالت نے پوچھا کہ کیا آئینی طور پر پروفیشنل ہڑتال کرسکتے ہیں۔ جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دئیے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرزہڑتال ختم کریں،آئین کےآرٹیکل 5کے سب سیکشن 2کےتحت ڈاکٹرزہڑتال نہیں کرسکتے ،ہڑتال ختم نہ کرنے والے ڈاکٹرز کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا، ڈیوٹی اوقات میں ہڑتال کرنا جرم ہے، پی ایم سی اور پنجاب حکومت ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف ایکشن لیں ، یہ سیکریٹری صحت کا قصور ہے کہ معاملہ ابھی تک لٹکا ہے، جب تک تمام اسٹیک ہولڈر نہیں بیٹھتے مسئلہ حل نہیں ہوتا، ڈیوٹی اوقات میں ہڑتال کرنا جرم ہے۔ عدالت نے مزید ریمارکس دئیے کہ وکلا بھی ہڑتال کرتے ہیں لیکن اہم کیسز میں عدالت میں پیش ہوتے ہیں، اس دوران ینگ ڈاکٹرز کو مشاورت کی ہدایت کرکے عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ابھی تو آرڈیننس آیا ہے قانون تو بنا ہی نہیں پھر ہڑتال کیوں کی گئی، اس پر ینگ ڈاکٹر کے وکیل نے کہا ہم اچھا تاثردینے کےلیے ہڑتال ختم کررہے ہیں۔ ساتھ ہی وکیل نے کہا کہ ڈاکٹرز صرف اپنا موقف بیان کرنا چاہتے تھے، جذبات میں آنے کی معذرت کرتے ہیں، اس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ پروفیشنلز نے معاشرے کو اپنی خدمات دینا ہوتی ہیں، عدالت اپنے فیصلے میں ہڑتال کے مستقبل کا بھی فیصلہ کرے گی۔
عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی کمیٹی میں تمام فریقین کا موقف سنا جائے، ہڑتال تو اکتوبر سے چل رہی ہے تو پھر کمیٹی کل کیوں بنائی گئی، فریقین کے تحفظات کو سننے کے لیے اتنی تاخیر سے کیوں کمیٹی بنائی گئی۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ اس قانون سے متعلق جتنے بھی فریق ہیں ان کا موقف سننا لازمی ہے، اس پر سیکریٹری صحت نے بتایا کہ یہ لوگ اب قانون کو ہی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ فی الحال تو ہڑتال ختم کرکے کام شروع کریں، جس پر وکیل نے صوبائی حکومت کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری صحت معاملے کو ڈرامے کے انداز میں بیان نہ کریں۔ وکیل نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز قوم کا مستقبل ہیں، ان کے مستقبل کو بھی تحفظ ملنا چاہیے، اس پر سیکریٹری صحت پنجاب مومن آغا نے کہا کہ یہ قانون آرڈیننس سے بالکل مختلف ہوگا۔
سماعت کے دوران جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دئیے کہ ایسی ہڑتال کرنے پر سپریم کورٹ کا بھی حکم موجود ہے، وہ کچھ قواعد و ضوابط کے پابند ہوتے ہیں۔ اس پر ڈاکٹرز کے وکیل نے بتایا کہ ایسے قانون کے مسودے سے بھی ڈاکٹرز کا شعبہ متاثر ہوتا ہے، جو کمیٹی بنائی گئی ہے اس میں ڈاکٹرز کے نمائندے بھی شامل نہیں ہیں، جس پر جسٹس جواد حسن نے کہا کہ ڈاکٹرز کے علی رضا، وکیل عابد ساقی، وائے ڈی اے کے صدر اور جنرل سیکریٹری کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا جائے، یہ کمیٹی اس پر مشاورتی ورکشاپ کرے گی۔جسٹس جواد حسن نے کہا کہ اس کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے،تاہم ڈاکٹرز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جبکہ ڈاکٹرز بھی ہڑتال نہیں کریں گے۔اس پر سیکریٹری صحت نے بتایا کہ کچھ لوگوں کو پہلے ہی اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری ہیں، جس پر عدالت نے کہا وہ اس پر جواب دیں۔ بعد ازاں عدالت نے حکم دیا کہ ڈاکٹرز ہڑتال ختم کریں اور خوشی سے جاکر کام شروع کریں، جس پر وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہم عدالتی حکم پرعمل کریں گے اور آج ہی ہڑتال ختم کریں گے، ہم عدالت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ساتھ ہی عدالت نے آرڈیننس سے متعلق سیکریٹری صحت کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا بھی حکم دے دیا۔ عدالت نے مشاورتی اجلاس کے بعد ایک ہفتے میں ترمیم شدہ بل عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کردی۔
دوسری جانب گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چیئرمین ڈاکٹر سلمان چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم ہڑتال ختم نہیں کر رہے جب تک محکمہ صحت ہماری ساری بات نہیں سنتا، اس ایکٹ کو ختم نہیں کرتا اور ہمارے مطالبات نہیں تسلیم کرتے ہم ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019 کے خلاف پنجاب کے ینگ ڈاکٹرز گزشتہ کئی روز سے ہڑتال پر ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس آرڈیننس کو ختم کرے۔ اس آرڈیننس پر ڈاکٹروں کا موقف ہے کہ اس ایکٹ سے سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرح کیا جارہا ہے، جس سے ان کی ملازمتیں بھی پرائیویٹ ہوجائیں گی۔ اس ایکٹ سے ابتدائی طور پر سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹوں کی فیسز میں اضافہ کیا گیا اور اب اس کا مکمل نفاذ کرکے سرکاری ہسپتالوں کو نجی کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close