مسلم لیگ ن کا شیخ رشید کو فوری عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ

مسلم لیگ ن نے وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید کو بدترین کارکردگی پر فوری عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان اور رکن صوبائی اسمبلی عظمیٰ بخاری نے شیخ رشید احمد سے ریلوے کا قلمدان واپس لینے کے حوالے سے قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی ہے۔
شیخ رشید کے وزارت ریلوے کا قلمدان سنبھالنے کے بعد 14 ماہ کے دوران 75 ریلوے حادثات میں 110 افراد ہلاک، متعدد زخمی جبکہ بیشتر عمر بھر کیلئے معذور ہو گئے ہیں۔ رکن صوبائی اسمبلی عظمیٰ بخاری کی طرف سے جمع کرائی گئی قرارداد میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیرریلوے کی نا اہلی اور نالائقی کی وجہ سے ریلوے سیاسی اکھاڑہ بن چکا ہے، 14 ماہ کے دوران مختلف ریلوے حادثات میں 110 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ قراردادمیں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر ریلوے شیخ رشید کی موجودگی میں تیزگام ٹرین حادثے کی تحقیقات میں مداخلت کا خدشہ ہے، شیخ رشید سیاسی اثر رسوخ سے تحقیقات کرنے والے افسران پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی قرارداد میں وزیر اعظم عمران خان سے سانحہ تیزگام کی شفاف تحقیقات کےلئے غیر جانبدار کمیشن قائم کرنےاور شیخ رشید کو فوری عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ شیخ رشید احمد نے ریلوے کی وزارت کا قلمدان اگست 2018 میں سنبھالا ، وزارت ریلوے کے مطابق اگست 2018 سے جون 2019 کے دوران ٹرینوں کو چھوٹے بڑے 70 حادثات پیش آئے ۔گذشتہ دنوں تیزگام کو پیش آنے والا حادثہ جانی نقصان کے حساب سے اس دہائی میں ملک میں پیش آنے والے ریل کے حادثات میں سب سے بڑا تھا۔ رواں برس جولائی میں پیش آئے ایک اور بڑے واقعے میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اپنی جگتوں اور اوچھے پن کے حوالے سے شہرت رکھنے والے شیخ رشید اپنی وزارت سے زیادہ سیاسی مخالفین کو ذلیل و رُسوا کرنے کے ایجنڈے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ مشرف دور میں بھی شیخ رشید کے دورِ وزارت میں ریلوے میں بڑے بڑے حادثات ہوئے لیکن موجودہ دورِ حکومت میں تو ٹرین حادثات کی انتہا ہو گئی ہے۔ وزارت ریلوے کی جانب سے بڑھتے ہوئے ٹرین حادثات کی روک تھام کے لیے کوئی موثر پلان نظر نہیں آ رہا۔ ان حادثات کے باعث پاکستان ریلوے کے محفوظ سفر کے دعوے ہوا ہو چکے ہیں۔ رحیم یار خان میں تیزگام ٹرین میں ہونے والی آتشزدگی کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، شیخ رشید کے دور میں اس سے پہلے بھی چار دفعہ ٹرین کی پاور وین اور بوگیوں میں آگ لگنے کے واقعات رُونما ہو چکے ہیں جبکہ حیدر آباد میں جناح ایکسپریس کی مال گاڑی سے ٹکر کے نتیجے میں بھی 3 افراد جاں بحق ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
پاکستان ریلوے کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2012 سے 2017 کے دوران ٹرینوں کے مجموعی طور پر757 حادثے ہوئے یعنی اوسطاً ایک سال میں 125 حادثات ہوئے۔ گذشتہ چھ برسوں میں حادثات کے حوالے سے سب سے بدترین سال 2015 کا تھا۔ سنہ 2015 میں ٹرینوں کو 175 حادثات پیش آئے جن میں 75 ٹرینوں کے پٹری سے اترنے اور 76 پھاٹک کراسنگز پر ہوئے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ چھ برسوں میں پیش آنے والے حادثات میں 150 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سب سے زہادہ جانی نقصان حالیہ تیز گام حادثے کی وجہ سے ہوا جس میں 74 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دوسری طرف وزارت ریلوے کی طرف سے پارلیمان میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2013 سے 2016 کے دوران پیش آئے 338 حادثات میں 118 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک میں ٹرین حادثات کی تین بڑی وجوہات میں پٹری کی بحالی و دیکھ بحال، سگنل کے مسائل اور پرانے انجن شامل ہیں۔ حادثہ پیش آنے کی صورت میں ہلاک ہونے کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے اور اس کی وجہ ٹرین میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کا سوار ہونا ہے۔ 2007 میں محراب پور کے نزدیک پیش آئے حادثے میں کم از کم 56 افراد ہلاک جبکہ 120 سے زائد زخمی ہوئے تھے جبکہ 2005 میں ملکی تاریخ میں پیش آئے سب سے ہولناک ٹرین حادثے میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حادثہ صوبہ سندھ میں اس وقت پیش آیا جب تین ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں تھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close