ڈیڈ لاک کی بنیادی وجہ مولانا کا نئے الیکشن کا مطالبہ ہے

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ چوہدری برادران کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کے جاری مذاکرات میں ڈیڈ لاک کی بنیادی وجہ مولانا کی طرف سے نئے انتخابات کا مطالبہ ہے جن کا انعقاد تب ہی ممکن ہے جب وزیراعظم اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دے کر اپنے عہدے سے الگ ہوں۔ مولانا کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ 2018 کے الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو اقتدار میں لایا گیا اور نون لیگ سے جیت چھین کر تحریک انصاف کی جھولی میں ڈال دی گئی۔ لہذا مولانا یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ اسمبلی ناجائز ہے اور وزیراعظم بھی سلیکٹڈ۔ مولانا کا اصرار ہے کہ وہ لانگ مارچ تب ختم نہیں کریں گے جب تک نئے الیکشن کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا۔ تاہم چوہدری برادران کا موقف ہے کہ اگر اپوزیشن وزیراعظم کو ناجائز جائز سمجھتی ہے تو وہ ان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لے آئے۔ لیکن مولانا یہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کا انتخاب ہی غلط طریقے سے ہوا ہے اور وہ انہیں وزیر اعظم ہی نہیں مانتے لہذا ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانا بھی انہیں وزیراعظم تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔ مولانا کا اصرار ہے کہ وہ لانگ مارچ تب تک ختم نہیں کریں گے جب تک نئے الیکشن کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا۔ مولانا کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ نئے الیکشن فوج کی نگرانی میں کروانے کی بجائے سول انتظامیہ کے تحت ہوں تاکہ ماضی کی طرح اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کی حکومت نہ لاسکے۔ مولانا کا کہنا ہے کہ 2018 میں دھاندلی کروا کر وزیراعظم بنانے والے نے اپنے عہدے میں بھی توسیع لے کر ثابت کردیا کہ ان کے اصل مقاصد کیا تھے۔ تاہم عمران خان نے چوہدری برادران پر واضح کردیا ہے کہ وہ نہ تو اسمبلی توڑیں گے اور نہ ہی استعفی دیں گے چاہے مولانا ایک سال اسلام آباد کی سڑکوں پر بیٹھے رہیں۔
دوسری طرف مولانا فضل الرحمان نے چودھری برادران سے ملاقاتوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ چودھری برادران کی پاکستان کی سیاست میں ایک خاص حیثیت ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم چودھری برادران کو اس بات پر قائل کرلیں کہ آئندہ تین ماہ میں نئے انتخابات کروانے کے لیے حکومت کو آمادہ کریں۔
حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی مذاکراتی کمیٹی سے متعلق مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹی انتہائی کمزور ہے جو ہمارے مطالبات اپنی قیادت تک نہیں پہنچا سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک طے شدہ عمل ہے جس پر رعایت نہیں دی جا سکتی کہ یہ ایک دھاندلی کی حکومت ہے جسے مزید وقت نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تاحال حکومت کے ساتھ کسی بھی معاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس وقت کسی بڑی یقین دہانی اور گارنٹی کے منتظر ہیں۔ اس حوالے سے ذرائع نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو حکومتی کمیٹی کے ایک یا دو ممبران کے سوا کسی پر اعتماد نہیں ہے اوریہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان حکومتی پیشکش پر تاحال مطمئن نہیں ہیں اور مسلسل رہبر کمیٹی کو انگیج رکھ کر دباؤ بڑھانا چاہتےہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close